امیتابھ بچن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امیتابھ بچن
Amitabh Bachchan.jpg
امیتابھ بچن


ذاتی معلومات
پیدائش
colspan="4" سانچہ:11 اکتوبر 1942، الہ باد، اتر پردیش، بھارت
اصل نام امیتابھ شریواستو
دیگر نام امیتابھ بچن، اینگری ینگ مین، بگ بی
اداکاری کا دورانیہ 1969 سے ابھی تک
شریک حیات جیا بہادری
مشہور فلمیں امر اکبر اینتھونی، ڈان، سلسلہ، نمک حرام، بلیک، محبتیں
ایوارڈز
فلم فیئر ایوارڈ
بہترین اداکار
1978 امر اکبر اینتھونی

1979 ڈان
1992 ہم
2006ء بلیک

بہترین اداکار (تنقید نگار)
2002 عکس

2006 بلیک

بہترین معاون اداکار
1972 آنند

1974 نمک حرام
2001محبتیں

امیتابھ بچن کا پیدائشی نام امیتابھ ہریونش شریواستو ہے اور یہ11 اکتوبر، 1942ء کو ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﺍﺗﺮﭘﺮﺩﯾﺶﻣﯿﮟ پیدا ہونے والے بھارتی اداکار ہیں۔ انہیں ابتدائی مقبولیت 1970ءمیں ملی اور آج ان کا شمار بھارتی فلم صنعت کی تاریخ میں معروف ترین ہستیوں میں ہوتا ہے۔

اپنے اداکاری کے سفر کے دوران انہوں نے کئی بڑے ایوارڈ حاصل کئے جن میں تین نیشنل فلم ایوارڈ اور بارہ فلم فیئر ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کے پاس سب سے زیادہ دفع بہترین اداکار نامزد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اداکاری کے علاوہ بچن نے گلوکاری، پیش کار اور میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ 1984ء سے 1987ء تک وہ بھارتی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے۔

امیتابھ بچن کی شادی اداکارہ جیا بہادری سے ہوئی۔ ان کے دو بچے ہیں شوئیتا نندا اور ابھیشیک بچن۔ ابھیشیک بھی فلم اداکار ہیں اور بھارتی اداکارہ ایشوریا رائے سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔ ﺳﻮ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺟﻠﻮﮮ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻣﯿﺘﺎﺏ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻣﺪﺍﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﺍﺝ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﻠﻤﯽ ﮐﯿﺮﯾﺌﺮ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﺳﻦ ﺍﻧﯿﺲ ﺳﻮ ﺍﻧﮩﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﻠﻢ ﺳﺎﺕ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ، ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻓﻠﻤﯿﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺟﻮﮨﺮ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻣﺪﺍﺣﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺟﯿﺖ ﻟﺌﮯ۔ ﺍﻣﯿﺘﺎﺏ ﺑﭽﻦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻟﮧ ﻓﻠﻤﯽ ﮐﯿﺮﯾﺌﺮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎﺭﮦ ﻓﻠﻢ ﻓﯿﺌﺮ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺌﮯ۔ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﻓﻠﻢ انڈﺳﭩﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﺘﮏ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈﺯ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺍﺱ ﺳﭙﺮ ﺍﺳﭩﺎﺭ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﮐﺌﯽ ﻧﯿﺸﻨﻞ ،ﻣﻌﺎﻭﻥ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈﺯ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺌﮯ ۔ ﺍﻣﯿﺘﺎﺏ ﺑﭽﻦ ﻧﮯ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﭘﺮﻭﮈﯾﻮﺳﺮ، ﭨﯽ ﻭﯼ ﮐﻤﭙﯿﺌﺮ، ﭘﻠﮯ ﺑﯿﮏ ﺳﻨﮕﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﯾﻦ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﮐﮯ ﺭﮐﻦ ﺑﮭﯽ ﺭﮨﮯ۔ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﻌﻠﮯ، ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ، ﻻﻭﺍﺭﺙ، ﮐﻮﻟﯽ، ﺍﮔﻨﯽ پتھ، ﺧﺪﺍ ﮔﻮﺍﮦ، ﮨﻢ، ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻏﻢ، ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ، سرﮐﺎﺭ ﺭﺍﺝ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

امیتابھ بچن الہٰ باد، اتر پردیش میں ایک ہندو کایستھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن جانے مانے ہندی شاعر اور والدہ تیجی بچن فیصل آباد (حالیہ پاکستان میں) [1] کے ایک سکھ گھرانے سے تھیں۔ بچن کا بچپن میں نام انقلاب تھا جو انقلاب زندہ باد کے نعرے سے متائثر ہو کر رکھا گیا تھا کیونکہ اس وقت بھارت کی آزادی کی جدوجہد زوروں پر تھی، بعد میں ان کا نام بدل کر امیتابھ رکھا گیا جس کے معنی ہمیشہ رہنے والی روشنی کے ہیں۔

امیتابھ اپنے والد کے دہ بیٹوں میں بڑے ہیں، دوسرے کا نام اجیتابھ ہے۔ ان کی والدہ کو اسٹیج سے بہت لگاؤ تھا اور ان کو فلموں میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی مگر انہوں نے گھریلو ذمہ داری کو اداکاری پر فوقیت دی۔ امیتابھ کے اداکاری کے پیشہ کو اختیار کرنے میں ان کی والدہ کا بڑا ہاتھ ہے[2]۔ امیتابھ کے والد کا 18 جنوری 2003 اور والدہ کا 21 دسمبر 2007ء میں انتقال ہوا[3]۔

امیتابھ کے پاس دوہرے ایم - اے (ماسٹرز آف آرٹس) کی سند ہے۔ انہوں نے آلہٰ باد میں جنانا پرابودہینی اور بائز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد نینیتال شیروڈ کالج گئے جہاں انہوں نے علم فنون کے شعبے کو اختیار کیا۔ یہاں سے وہ جامعہ دہلی کے کروری مال کالج گئےاور سائنس کی سند حاصل کی۔انہوں نے بیس سال کی عمر میں کلکتہ کی کمپنی کی نوکری چھوڑ دی تاکہ اداکاری کے سفر کو آگے بڑھا سکیں ۔

فنکاری کا سفر[ترمیم]

ابتدائی دور (1969ء - 1972ء)[ترمیم]

امیتابھ فلم آنند میں

امیتابھ کی اداکاری کا سفر 1969ء میں فلم سات ہندوستانی سے ہوا، جس کے ہدایت کار خواجہ احمد عباس اور ساتھی اداکاروں میں اتپل دت، مدھو اور جلال آغا شامل تھے۔ گو کے فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی مگر بچن کو بہترین نوارد اداکار کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔[4]

اس کے بعد 1971ء میں آنند آئی جو کاروباری لحاظ سے کامیاب اور تنقید نگاروں میں بہت سراہی گئی۔ اس فلم میں بچن نے راجیش کھنا کے برابر ایک ڈاکٹر کا کردار ادا کیا اور اس کے لیے انہیں فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔ اسی سال پروانہ لگی، اس فلم میں انہوں نے نوین نشچل، یوگیتا بالی اور اوم پرکراش کے مخالف دیوانے عاشق کا کردار ادا کیا، ایسے منفی کردار میں امیتابھ کو کم ہی دیکھا گیا۔ اس کے بعد ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکیں جن میں 1971ء میں لگنے والی فلم ریشماں اور شیرا بھی شامل ہے۔ اس دوران انہوں نے فلم گڈی میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا، اس فلم کے دیگر اداکاروں میں ان کی مستقبل کی شریکِ حیات جیا بہادری اور دھرمیندر شامل ہیں۔ اپنی بھاری آواز کی وجہ سے انہوں نے فلم باورچی کے ایک حصّہ کو بیان کیا۔ 1972ء میں انہوں نے سفر پر مبنی مزاحیہ سنسنی خیز فلم بمبئی ٹو گوا میں کام کیا جس کی ہدایتکاری ایس۔ راماناتھن نے کی۔ فلم کے دیگر اداکاروں میں ارونا ایرانی، محمود، انور علی اور ناصر حسین شامل تھے۔

شہرت کی بلندیوں کا سفر(1973-1983ء)[ترمیم]

1973ء میں بچن ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوگئے جب ہدایتکار پرکاش مہرا نے انہیں فلم زنجیر میں انسپیکٹر وجے کھنا کے کردار میں پیش کیا۔ اس فلم میں بچن کی اداکاری ان کے دیگر رومانوی کرداروں سے مختلف تھی اور یہاں سے بچن کو بالی وڈ کے اینگری ینگ مین (Angry Young Man) کی پہچان ملی۔ اس فلم کے لئے ان کو فلم فیئر نیشنل ایوارڈ برائے بہترین اداکار ملا ۔ اسی سال امیتابھ اور جیا بہادری کی شادی بھی ہوئی اور وہ ایک ساتھ کئی فلموں میں آئے، زنجیر کے علاوہ ان دونوں کی ایک اور فلم ابھیمان شادی کے ایک مہینہ بعد پردے پر لگی۔ فلم نمک حرام میں امیتابھ وکرم کے کردار میں نظر آئے، ہدایتکار ہراکاش مکھرجی اور قلم کار بریش چیٹرجی کی لکھی اس فلم میں دوستی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ راجیش کھنّا اور ریکھا کے مدمقابل ان کے کردار کو بہت سراہا گیا اور اس کردار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین معاون اداکار سے نوازا گیا۔

1974ء میں بچن نے کنوارا باپ اور دوست میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا، جس کے بعد اس سال کا سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم روٹی کپڑا اور مکان میں انہوں نے معاون اداکار کا رول ادا کیا، فلم کی ہدایت کاری اور کہانی منوج کمار نے لکھی اور خود منوج کمار کے علاوہ ششی کپور اور زینت امان نے اداکاری کی۔ 6 دسمبر 1974ء کو فلم مجبور میں مرکزی کردار ادا کیا، مجبور کی کہانی ہالی وڈ کی فلم ZigZag سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی، اس فلم کو خاص پزیرائی نہیں ملی۔ [5]

امیتابھ 1970ء میں

1975ء میں انہوں نے مختلف موضوعات کی فلموں میں کام کیا جن میں مزاحیہ فلم چپکے چپکے، جرم کی داستان فرار اور رومانوی داستان ملی شامل ہیں۔ اسی سال ان کی دو اور فلمیں پردے پر لگیں جنہیں ہندی سنیما کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہوا۔ ان میں پہلی یش چوپڑا کی دیوار جس میں بچن نے ششی کپور، نیروپا رائے اور نیتو سنگھ کے مخالف کام کیا، اس فلم میں اپنے کام کے لئے وہ فلم فیئر برائے بہتریں معاون اداکار کے لئے نامزد ہوئے۔ دیوار 1975ء کے سال میں باکس آفس کی بہترین فلموں میں شمار ہوئی اور اس کو چوتھا درجہ ملا۔[6] انڈیا ٹائمز موویز نے دیوار کا شمار بالی وڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلموں میں کیا۔ اس کے بعد 15 اگست 1975ء میں شعلے ریلیز ہوئی، جو اس وقت بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم بنی۔ اس فلم کی کل کمائی 2,364,500,000 Rs برابر $60 ملین (افراطِ زر کے بعد) کے لگ بھگ تھی۔[7] بچن نے اس فلم میں جے دیو کا کردار ادا کیا اور ان کے مخالف بھارتی فلم صنعت کے بڑے اداکاروں نے کام کیا۔ ان میں اداکار دھرمیندر، ہیما مالینی، سنجیو کمار، جیا بہادری اور امجد خان شامل تھے۔ 1999ء میں بی۔بی۔سی۔ انڈیا نے فلم شعلے کو صدی کی بہترین فلم قرار دی۔[8] فلم دیوار کیطرح انڈیا ٹائمز موویز نے شعلے کو بالی وڈ کی دیکھنے لائق پچیس فلموں کی فہرست میں شامل کیا۔ اسی سال پچاسویں سالانہ فلم فیئر ایوارڈز میں ججوں نے اسے فلم فیئر نصف صدی کی بہترین فلم کے خاص اعزاز سے نوازا۔

شعلے کی کامیابی کے بعد بچن بالی وڈ کی بلندیوں کو چھونے لگے اور 1976ء سے 1984ء کے درمیان انہیں کئی فلم فیئر ایوارڈ اور نامزدگیاں ملیں، گو کہ فلم شعلے میں ان کا کردار ماردھاڑ سے بھرا ہوا تھا مگر انہیں نے ہر قسم کے کردار میں خود کو انتہائی خوبی سے نبھا کر اپنا لوہا منوایا، جیسے فلم کبھی کبھی (1976ء) میں ان کا رومانوی اور فلم امر اکبر اینتھونی (1977ء) اور چپکے چپکے (1975ء) میں ان کا مزاحیہ کردار ان کی اداکارانہ صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 1976ء میں ایک بار پھر ہدایتکار یش چوپڑا کی فلم کبھی کبھی میں نظر آئے، یہ ایک رومانوی داستان ہے جس میں امیتابھ ایک نوجوان شاعر کا کردار کرتے ہوئے ایک خوبصورت دوشیزہ پوجا کے عشق میں گرفتار ہو جاتے ہیں، پوجا کا کردار راکھی گلزار نے ادا کیا۔ اس فلم کے دل پگھلا دینے والے مکالموں اور جذبات کو چھوتے موضوع نے امیتابھ کو ایک نئے روپ میں عوام کے روبرو پیش کیا۔ اس فلم کے لیے ایک بار پھر بچن کو فلم فیئر میں بہتریں اداکار کی ایک اور نامزدگی دلائی۔ 1977ء میں امر اکبر اینتھونی کےلیے انہیں فلم فیئر برائے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، فلم میں امیتابھ ونود کھنا اور رشی کبور کے مقابل اینتھونی گونسالوز کا کردار کرتے نطر آئے۔ 1978ء کا سال بغیر کسی شک کے ان کے سامنے اعزازات کا ڈھیر لگ گیا، اس سال ان کی چاروں فلمیں سب سے زیادہ کاروبار کرنے کی فہرست میں سب سے اوپر رہیں۔[9] فلم قسمیں وعدے میں انہوں نے ا مِت اور شنکر کا دوہرا کردار ادا کیا اور ڈان میں ڈان اور ان کے ہمشکل وجے کا کردار کرتے نظر آئے۔ فلم ڈان کےلیے انہیں ایک اور فلم فیئر برائے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، اس کے علاوہ فلم تریشول اور مقدر کا سکندر میں ان کی اداکاری کو ناقدین نے بیحد سراہا اور ان دونون فلموں میں انہیں فلم فیئر برائے بہترین اداکار کی نامزدگی ملی۔ فرانسیسی ہدایتکار فرانکوئس ٹروفاؤٹ[10] نے ان کی کامیابیوں اور اعزازات کےلیے ”یک فرد صنعت“ لے لقب سے نوازا۔

امیتابھ اور ریکھا سلسلہ میں

1979ء میں امیتابھ کو پہلی دفعہ فلم مسٹر نٹور لال میں اپنی گائیکی کے جوہر دکھانے کا موقع ملا، فلم میں ان کے ساتھ ریکھا نظر آئیں۔ اس فلم کے لئے انہیں فلم فیئر بہترین اداکار اور فلم فیئر بہترین مرد گلوکار کا اعزاز ملا۔ 1979ء میں ایک بار پھر وہ فلم کالا پتھر کےلئے فلم فیئر بہترین اداکار کے زمرہ میں نامزد ہوئے اور اسی طرح 1980ء میں پدایتکار راج کھوسلا کی دوستانہ کیلیئتے بھی اسی زمرہ میں نامزدگی ملی۔ فلم میں امیتابھ نے اداکار شتروگن سنہا اور زینت امان کے مقابل اداکاری کے جوہر دکھائے۔ دوستانہ 1980ء کی سب ست زیادہ کاروبار کرنے والی فلم ثابت پوئی۔[11] 1981 میں امیتابھ نے یش چوپڑا کی فلم سلسلہ میں اپنی اہلیہ جیا بہادری اور ریکھا کے ساتھ نظر آئے۔ ان دنوں امیتابھ اور ریکھا کے عشق کی کافی افعاہیں اڑیں مگر اس کا ان کی ازدواجی زندگی پر کوئی اثرنہ پڑا۔ اس دور کی دیگر فلموں میں رام بلرام (1980ء)، شان (1980)، لاوارث (1981) اور شکتی (1982) شامل ہیں۔ شکتی میں امیتابھ مشہور زمانہ اداکار دلیپ کمار[12] کے مقابل اداکاری کرتے نظر آئے۔

1982ء میں فلم قلی کے دوران حادثہ[ترمیم]

1982ء میں فلم قلی کی فلم بندی کے دوران ایک لڑائی کا منظر کرتے ہوئے میز کا کونا لگنے سے امیتابھ شدید زخمی ہو گئے۔[13] اس منظر میں امیتابھ کو میز پر گرنا تھا مگر اندازا کی غلطی سے میز کا کونا ان کے پیٹ میں لگا اور اس کے نتیجہ میں ان کی تلی پھٹ گئی اور کافی خون ضائع ہو گیا۔ ان کو فوراً ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ کئی مہینے زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے۔ اس دوران ان کے مداحوں نے مندروں میں دعائیں کیں اور چڑھاوے پیش کیئے، صحت بہتر ہونے کے بعد ان کے مداح ہزاروں کی تعداد میں ہسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔[14] بالآخر کئی ماہ کے علاج کے بعد فلم دوبارہ شروع ہوئی اور 1983ء میں سنیما گھروں میی لگی اور امیتابھ کے حادثہ سے مشہوری کی وجہ سے باکس آفس پر کامیاب ہوئی۔[15]


ہدایت کار منموہن دیسائی نے امیتابھ کے ساتھ پیش آنے والے حادثہ کے باعث فلم قلی کا منظر بدل دیا تھا۔ اصلی کہانی میں بچن کے کردار کو قتل ہو جانا تھا مگر کہانی بدلنے کے بعد وہ آخر تک زندہ رہتے ہیں۔ منموہن دیسائی کے متابق ایسا آدمی کو فلم میں مرتا دکھانا بہتر نہیں جو جود زندگی موت کی جنگ لڑ کر آیا ہو۔ فلم کے دوران لڑائی کا منظر ٹہرا کر امیتابھ کے حادثہ کا پیغام دکھایا گیا ہے۔ اس کے بعد ہی وہ عضلاتی کمزوری کی بیماری میں مبتلا ہو گئے جس کے باعث وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور ہوگئے اور فلمی دنیا کو خیر آباد کر کے سیاست میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس وقت وہ فلم لائن سے نا امید ہوگئے اور فلم کی کارکردگی کے بارے میں پہلے سے ہی کہنے لگے کہ ”یہ فلم تو فلاپ ہو گی“۔

سیاست: 1984-1987ء[ترمیم]

1984ء میں فلم لائن کو خیرآباد کرنے کے بعد امیتابھ نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنے خاندانی دوست راجیو گاندھی کی حمایت میں الہ باد کی لوک سبھا سے سابق وزیر اعلٰی اتر پردیش ایچ۔ این۔ بہوگونا کے مقابل کھڑے ہوئے اور عام انتخابات کی تاریخ کے سب سے بڑے فرق (٦٨۔٢ فیصد ووٹ)[16] سے جیت حاصل کی۔ ان کا سیاسی سفر بہت کم عزصہ پر محیط تھا اور تین سال کے بعد ہی انہوں نے سیاست کو بھی خیر آباد کردیا۔ اس کے فورأ بعد امیتابھ اور ان کے بھائی پر ایک اخبار نے بوفور گھوٹالہ سے وابستگی کا الزام لگایا جسے وہ عدالت میں لے گئے جہاں وہ بیقصور ثابت ہوئے۔[17]

ABCL پر آئے مالیاتی بحران کے دوران مدد کرنے پر بچن نے اپنے پرانے دوست امر سنگھ کی حمایت میں سماج وادی جماعت کی رکنیت حاصل کری۔ جیا بچن نے بھی سماج وادی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور راج سبھا کی رکن بنیں۔[18] بچن نے سماج وادی جماعت کی اشتہاری اور سیاسی سرگرمیوں میں حمایت جاری رکھی جن کی وجہ سے حالیہ دور میں ایک بار پھر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو بھارتی عدالت میں انہیں قانونی کاغذات میں خود کو کسان ظاہر کرنے کے واقع کے بعد شروع ہوئی۔[19]


اپنی کامیابی کی بلندیوں پر ان پر بھارتی پریس کے جریدوں نے ان پر 15 سال کی پابندی عائد کردی، اس پابندی کو عائد کرنے کی فہرست میں اسٹار ڈسٹ اور دیگر فلمی جرائد شامل تھے۔ بچن کے مطابق اپنے دفاع میں پریس کا 1989ء تک اپنی فلموں کے سیٹ پر داخلہ بندرکھا۔[20] ان کے مطابق یہ قدم انہوں نے پریس کو ان کے خلاف غلط خبریں شائع کرنے سے باز رکھنے کے لیے اٹھایا تھا۔

اداکاری سے وقتی سبکدوشی 1988-1992ء[ترمیم]

1988ء میں امیتابھ نے فلم شہنشاہ سے دوبارہ اداکاری میں قدم رکھا۔ امیتابھ کی واپسی کی خبروں کی وجہ سے یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہوئی۔[21] مگر اس کے بعد کی فلمیں امیتابھ کو ان کا کھویا ہوا مقام واپس دلانے میں ناکام رہیں۔ 1991 میں ہم کی کامیابی سے لگنے لگا کے شاید امیتابھ کی کامیاب واپسی ممکن پے مگر ایس نہ ہوسکا اور ان کی فلمیں باکس آفس پر ناکام ہوتی رہیں۔ کامیاب فلموں کی کمی کے باوجود 1990ء میں فلم اگنی پتھ میں مافیا ڈان کا کردار ان کو دوسرا نیشنل فلم ایوارڈ دلا گیا۔ یہ ان کے بڑے پردے پر آخری دن تھے۔ 1992ء میں خدا گواہ کے بعد امیتابھ نے پانچ سال کےلیے اداکاری سے سبکدوشی اختیار کرلی اور 1994 میں ان کی تاخیر سے لگنے والی فلم انسانیت بھی ایک ناکامی ثابت ہوئی۔[22]

پیش کاری اور اداکاری میں واپسی 1996-1999[ترمیم]

فلم لائن کو خیر آباد کہنے کے بعد امیتابھ نے پیش کاری کو اپنایا اور اسی دوران امیتابھ بچن کارپوریشن لمیٹڈ (A.B.C.L) کی بنیاد اس نظریہ کے تحت رکھی کے وہ 2000 تک اسے دس بلین روپے (250 ملین ڈالر) کی تفریحی کمپنی بنا دیں گے۔ A.B.C.L کا مقصد وسیع خدمات کو متعارف کرانا تھا جو پورے بھارت کی تفریحی صنعت کو فراہم کی جاسکیں۔ اس کی پیش کردہ خدمات میں بڑے پردے کی پیداکاری اور تقسیم، سمعی کیسٹ، بصری ڈسک، ٹیلی وژن کے سوفٹویئر کی پیداکاری اور تقسیم، نامور فنکاروں اور تقریبی انتظامات شامل تھے۔ کمپنی کا سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد 1996 میں ہی پہلی فلم تیرے میرے سپنے کو پیش کیا۔ یہ فلم باکس آفس پر تو اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی مگر اداکار ارشد وارسی اور جنوب کی اداکارہ سمرن جیسے نئے اداکاروں کو بڑے پردے پر کام کرنے کا موقع ملا۔ A.B.C.L نے مزید فلموں کی پیشکش کی مگر کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکی۔

1997ء میں ایک بار پھر بچن نے اداکاری میں فلم مریتیو داتا سے واپس آنے کی کوشش کی، گوکہ اس فلم میں ان کا کردار ان کی ماضی کے کرداروں کی عکاسی کر رہا تھا مگر فلم مالیاتی اور تنقیدی طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ 1996 کا حسینہ عالم خوبصورتی مقابلہ بینگلور، میں منعقد ہوا جس کی سرپرستی A.B.C.L نے کی مگر یہاں بھی اسے لاکھوں کا نقسان ہوا۔ A.B.C.L کی مسلسل ناکامیوں، اس کے خلاف ہونے والی قانونی کاروائیوں اور بڑے منتظمین کی اونچی تنخواہوں کی خبروں کے نتیجہ میں 1997 میں کمپنی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہو گئی۔ اپریل 1999 میں بمبئی ہائی کورٹ نے بچن کو ان کا بنگلہ ’پراٹیکشا‘ اور دو فلیٹ اس وقت تک بیچنے سے رکوا دیا جب تک وہ کنارا بینک کا قرضہ نہ اتار دیں۔[23]

1998 میں فلم بڑے میاں چھوٹے میاں میں ان کے مزاحیہ کردار کو کافی سراہا گیا اور 1999 میں فلم سوریا ونشم[24] کےلیےبھی ان کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس کے برعکس اس سال پردے پر لگنے والی فلمیں لال بادشاہ اورہندوستان کی قسم زبردست فلاپ ہوئیں۔

ٹیلی وژن[ترمیم]

سال 2000 میں بچن نے برطانوی ٹیلی وژن کھیل Who wants to be a Millionaire کے ہندی میں بننے والے پروگرام کون بنے گا کڑوڑ پتی کی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔ دوسرے ملکوں کی طرح اسے بھارت میں بھی بڑی پزیرائی ملی۔ نومبر 2000ء میں کنارا بینک نے اپنا مقدمہ واپس لے لیا۔ نومبر 2005ء تک بچن نے اس پروگرام کی میزبانی کی اور اس کی وجہ سے ان کو اپنی کھوئی ہوئی شہرت واپس ملی۔

شہرت کی بلندیوں پر واپسی: 2000 کے بعد[ترمیم]

2000ء میں امیتانھ یش چوپڑا کی باکس آفس ہِٹ فلم محبّتیں میں نظر آئے۔ آدتیا چوپڑا کی ہدایتکاری میں امیتابھ نے شاہ رخ خان کے کردار کے مقابل ایک سخت طبیعت بزرگ کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد مزید کامیاب فلمیں منظر عام پر آئیں۔

پراتیبھا دیوی سنگھ پاٹیل امیتابھ کو 2005ء میں فلم بلیک کے لیے بہترین اداکار کا اعزاز دیتے ہوئے

ان میں ایک رشتہ: محبت کا بندھن (2001ء)، کبھی خوشی کبھی غم (2001ء)، باغبان (2003ء) شامل ہیں۔ یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوا اور وہ مختلف کرداروں میں نظر آنے لگے جنہیں ناقدیں نے بہت سراہا۔ ان فلموں میں عکس (2001ء)، آنکھیں (2002ء)، خاکی (2004ء)، دیو (2004) اور بلیک (2005) شامل ہیں۔ اپنی بڑھتی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیتابھ نے مختلف مصنوعات اور خدمات کو تظہیر کرنا شروع کردیا اور اشتہاروں میں بھی کام کرتے نظر آئے۔ فلم بنٹی اور ببلی (2005) میں وہ اپنے بیٹے ابگیشیک اور رانی مکھرجی کیساتھ نظر آئے، پھر سرکار (2005ء) اور کبھی الوداع نہ کہنا (2006ء) نے بھی باکس آفس پر اچھی کارکردگی دکھائی۔[25][26] اس کے بعد 2006ء اور 2007ء کے شروع کی فلمیں بابل[27] (2006)، نشبد اور ایکلوویا (2007ء) کچھ اچھا کاروبار نہ کرسکیں اس کے باوجود ان سب فلموں میں امیتابھ کے اداکاری کو کافی پسند کیا گیا۔ [28]

مئی 2007ء میں ان کو دو فلمیں چینی کم اور شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا ریلیز ہوئیں۔ شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا نے باکس آفس پر کافی اچھی کارکردگی دکھائی مگر چینی کم کو درمیانہ درجہ کا کاروبار کرسکی۔[29]

اگست 2007ء میں ان کی فلم شعلے کی کاپی رام گوپال ورما کی آگ زبردست بریقے سے ناکام ہوئی اور مبصروں سے بھی اسے کافی بری تنقید ملی۔ ان کی پہلی انگریزی فلم رتو پارنو گھوش کی دی لاسٹ ایئر کا 9 ستمبر2007ء میں ٹورونٹو فلم میلہ میں پریمیئر ہوا۔ اس فلم کو تنقید نگاروں نے بلیک کے بعد ان کی بہترین فلم قرار دیا۔[30] ہدایت کار میرا نائر کی فلم شانتا رام امیتابھ کی پہلی بین الاقوامی فلم ہو گی، فلم میں ہالی وڈ کے مشہور اداکار جونی ڈیپ بھی ہیں۔[31]

اعزازات[ترمیم]

::اصل مقالہ: امیتابھ کے اعزازات کی فہرست

فلمی جدول[ترمیم]

حالیہ فلمیں[ترمیم]

سال فلم کا نام کردار کا نام اہم معلومات
2006 فیملی ورین ساہی
ڈرنا ضروری ہے پروفیسر
کبھی الوداع نہ کہنا سمرجیت سنگھ تلوار (اے۔کے۔اے سیکسی سام) نامزدگی: فلم فیئر بہترین معاون اداکار
بابل بلراج کپور
2007 اکلو ویا: شاہی محافظ اکلو ویا
نشبد وجے
چینی کم بدھا دیو گپتا
شوٹ آؤٹ ایٹ لوکھنڈوالا ڈنگرا خاص کردار
جھوم برابر جھوم سترادھر خاص کردار
رام گوپال ورما کی آگ ببن سنگھ
اوم شانتی اوم خود خاص کردار
2008 جودھا اکبر راوی
بھوت ناتھ بھوت ناتھ (کیلاش ناتھ)
سرکار راج سبھاش ناگرے/"سرکار"
گاڈ تسی گریٹ ہو بھگوان
دی لاسٹ ایئر ہریش 'ہیری' مشرا
الٰہ دین جن ابھی ریلیز نہیں ہوئی
ضمانت (فلم) شیو شنکر تاخیر
تلسمان فلمبندی جاری
2009 جانی مستانہ جان پریرا 6 مارچ، 2009 تک نمائش
تین پتی پیشکش کے مراحل سے پہلے
پا اورو ریلیز ہو گئی

پیشکش[ترمیم]

سال فلم
1996ء تیرے میرے سپنے
1997 الاّسام
مریتیوداتا
1998ء میجر صاحب
2001ء عکس
2005ء وردھ
2006 ء فیملی-خون کے بندھن



Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "sugandh.com". Sugandh.com. 
  2. "تبصرہ: To Be or Not To Be Amitabh Bachchan - خالد محمد". 
  3. "تیجی بچن انتقال فرما گئیں". ہندستان ٹائمز. 
  4. "امیتابھ کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ". India Times. 
  5. باکس آفس انڈیا.
  6. "باکس آفس 1975". BoxOffice India.com. اصل سے جمع شدہ 2012-07-20 کو. 
  7. "شعلے". International Business Overview Standard. 
  8. "بالی وڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلم". انڈیا ٹائمز موویز. October 3, 2005. 
  9. "1978 باکس آفس پر بچن تاریخی سال". ibosnetwork.com. 
  10. "ٹروفاٹ نے بچن کو یک فرد صنعت قرار دیا". China Daily. 
  11. BoxOffice India.com
  12. "بچن کی باکس آفس پر کامیابی". boxofficeindia.com. اصل سے جمع شدہ 2012-07-20 کو. 
  13. "فلم قلی کی فلم بندی کے دوران حادثہ". rediff.com. 
  14. "فلم قلی کی لڑائی کا منظر". IMDB. 
  15. "قلی کی کامیابی". boxofficeindia.com. اصل سے جمع شدہ 2012-07-23 کو. 
  16. "امیتابھ بچن : سیاست میں کامیابی". HindustanTimes.com. 
  17. "امیتابھ بچن سے گفتگو". sathnam.com. 
  18. "بچن کی انتخابات میں غیر دلچسپی" hindu.com.
  19. "بچن اپنے دعویٰ سے مشکل میں پڑ گئے". AFP. October 4, 2007. 
  20. "بچن پر 15 سالہ پابندی" IndiaFM News Bureau. January 27, 2007.
  21. "چوٹی کا اداکار". www.boxofficeindia.com/topactors.htm. اصل سے جمع شدہ 2012-07-20 کو. 
  22. "باکس آفس 1994". باکس آفس انڈیا. اصل سے جمع شدہ 2012-07-20 کو. 
  23. پٹیل, وملا. "مقدر کا سکندر". 
  24. تالی کلم، شرمیلا. "واپسی!". 
  25. "باکس آفس پر امیتابھ اور ابھیشیک کا راج". باکس آفس انڈیا. اصل سے جمع شدہ 2012-06-30 کو. 
  26. "باکس آفس 2006". باکس آفس انڈیا. اصل سے جمع شدہ 2012-05-25 کو. 
  27. "باکس آفس پر فلموں کی ناکامی". باکس آفس انڈیا. اصل سے جمع شدہ 2012-05-25 کو. 
  28. آدرش، ترن. "Top 5: 'نشبد', 'N.P.D.' کی تباہی". بالی وڈ ہنگامہ. 
  29. "باکس آفس انڈیا". 
  30. "بلیک کے بعد امیتابھ کی بہترین کارکردگی". 
  31. "امیتابھ جونی ڈیپ کے مقابل اداکاری کریں گے". ourbollywood.com.