امیر خان
| امیر خاں | |
|---|---|
| میر ابو البقا | |
| صوبہ دار ٹھٹہ | |
| 1039ھ سے 1041ھ (دوسرا دور: 4 ربیع الاول 1052ھ سے 1057ھ تک) | |
| پیشرو |
|
| جانشین |
|
| ریجنٹ | شہنشاہ شاہ جہاں |
| خاندان | سندھی |
| والد | نواب ابو القاسم خاں نمکین |
| وفات | 1057ھ (1642ء یا 1643ء) ٹھٹہ |
| تدفین | روہڑی میں خاندانی قبرستان صفۂ صفا میں (تحفۃ الکرام کے مطابق مکلی) |
| مذہب | اسلام |
امیر خاں میر ابو البقا (وفات 1647ء) مغلیہ دور میں ٹھٹہ اور دیگر صوبوں کے صوبہ دار رہے۔
18 ربیع الاول 1039ھ (1629ء) کو ملتان کے حاکم یمین الدولہ آصف خاں کے نائب امیر خاں کو وہاں سے ہٹا کر سندھ بھیجا گیا۔ وہ ٹھٹہ کے تیسرے گورنر تھے جو سندھی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ مآثر الامراء کے مطابق وہ نواب ابو القاسم نمکین کے بڑے بیٹے تھے اور اپنے بھائیوں میں علم، فہم اور دانائی میں سب سے ممتاز مانے جاتے تھے۔ والد کی وفات کے بعد انھیں ترقی ملی اور جہانگیر نے انھیں دو ہزاری، پانچ سو ہزاری اور پانچ سو سوار منصب سے نوازا اور یمین الدولہ کی نیابت میں صوبہ ملتان کی حکومت پر مقرر ہوئے۔
ٹھٹہ کی صوبہ داری
[ترمیم]مرتضیٰ انجو کی وفات کے بعد 1039ھ میں امیر خاں کو صوبہ ٹھٹہ کا صوبہ دار بنایا گیا۔ بادشاہ نامہ میں درج ہے کہ جب شاہ جہاں کو مرتضیٰ انجو کی موت کی اطلاع ملی تو انھوں نے امیر خاں (جو اس وقت ملتان کے حاکم کے نائب تھے) کے عہدے میں اضافہ کر کے انھیں ٹھٹہ کا صوبیدار مقرر کیا۔ تحفۃ الکرام کے مطابق شاہ جہاں نے انھیں تاکید کی کہ شریف الملک کے زمانے کے اہلکاروں کو سخت سزا دے کر ان کے عہدوں سے برطرف کرے۔ امیر خاں نے ٹھٹہ پہنچتے ہی حکم بجا لایا، ان افسروں کو ہٹایا اور قید کیا جنجوں نے بادشاہ کے خلاف سازش رچی تھی۔ انھوں نے ککرالہ کے جام کو (جس نے شاہ جہاں کو ٹھٹہ میں پریشان کیا تھا) گرفتار کر لیا۔ اس کے برعکس حمل جت اور رانا دھاراجہ (جنھوں نے شاہجہان کی مدد کی تھی) کو دربار میں عزت و احترام سے بھیجا۔
ان کے بھائی میرک یوسف تاریخ مظهر شاہجہانی میں لکھتے ہیں کہ ٹھٹہ اس زمانے میں علما، فاضلوں، شاعروں، کاتبوں، پرہیزگاروں اور دیندار لوگوں کا شہر تھا۔ وہاں کے تمام لوگ کسی نہ کسی پیشے سے وابستہ تھے اور نکامرہ و کہر قوموں سے خائف رہتے تھے، جن کے سردار ترخانوں کے زیرِ اثر تھے۔ مغلوں نے قبضے کے وقت جام ہالا، رعنا اور عمر کو عارضی طور پر عہدے دیے اور صوبہ دار کے ماتحت رکھا۔ امیر خاں نے ٹھٹہ کی بگڑی ہوئی کہر قوم کو قابو میں کیا اور ان کے سردار جام ہالا کی سرکشی ختم کی۔ صوبہ ٹھٹہ کے سرکار چاچکان میں مندرہ قوم نے بھی شورش پیدا کر رکھی تھی جبکہ مقامی قبائل سمیجہ کہر، سمیجہ ساند، سمیجہ جونيجا، سمیجہ کیریا، سمیجہ دل اور سوڈہ آپس میں لڑتے رہتے تھے، جس سے امن تباہ ہو چکا تھا۔ امیر خاں نے ان سب کو قابو میں کیا اور امن بحال کیا۔ انھوں نے سرکار چاکر ہالا کی حکومت میں بھی اصلاحات کیں، مگر 1041ھ میں انھیں وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
جونا گڑھ میں تقرری
[ترمیم]1041ھ (1631ء) میں شاہ جہاں نے انھیں ٹھٹہ سے ہٹا کر جونا گڑھ کا صوبہ دار (گورنر) مقرر کیا۔ مآثر الامراء کے مطابق 1045ھ میں جب شاہ جہاں دولت آباد سے واپس دار الحکومت جا رہے تھے تو انھوں نے دکن کے سرکار بیڑ کی حکومت امیر خاں کے سپرد کی۔
سیہون کی صوبہ داری
[ترمیم]شاہ جہاں کے چودھویں سال 1051ھ (1641ء) میں انھیں سیہون کا صوبہ دار مقرر کیا گیا۔
ٹھٹہ پر دوبارہ حکومت
[ترمیم]ایک سال بعد امیر خان کو دوبارہ ٹھٹھہ کا گورنر بنایا گیا۔ شاہجہاں نامہ کے مطابق یہ تقرری 4 ربیع الاول 1052ھ (1642ء/1643ء) کو ہوئی۔ اسی دوسرے دورِ حکومت میں انھوں نے ٹھٹہ کی مشہور شاہجہانی جامع مسجد تعمیر کرائی جو آج بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ مسجد کی تعمیر 1054ھ (1644ء) میں شروع ہوئی اور 1057ھ (1647ء) میں مکمل ہوئی، جس پر نو لاکھ روپے خرچ آئے۔ امیر خاں نے ٹھٹہ میں کئی اور مساجد بھی بنوائیں۔
امیر آباد کا قیام
[ترمیم]اپنے پہلے دورِ صوبہ داری میں امیر خاں نے ٹھٹہ میں امیر آباد کے نام سے ایک نیا شہر بھی آباد کیا، جس کے آثار آج بھی جامع مسجد کے قریب ایک محلہ ”امیر خانی“ کے نام سے موجود ہیں۔
وفات
[ترمیم]امیر خاں ابو البقا نے سو برس سے زیادہ عمر پائی اور 1052ھ (1642ء) میں ٹھٹہ میں وفات پائی۔ مآثر الامراء کے مطابق ان کی تدفین روہڑی میں ان کے خاندانی قبرستان صفۂ صفا میں ان کے والد کے پہلو میں ہوئی، لیکن تحفۃ الکرام میں بتایا گیا ہے کہ ان کی قبر مکلی میں ہے۔ اسی بنا پر مسٹر ہنری کزنس نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ نواب خلیل خاں کے مقبرے کے قریب ایک پرانا ٹوٹا ہوا مقبرہ موجود ہے جسے امیر خاں کا بتایا جاتا ہے، جو 1037ھ–1338ھ (1627ء) کے لگ بھگ تعمیر ہوا۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ اعجاز الحق قدوسی (2004)۔ تاریخ سندھ (چھٹا ایڈیشن)۔ لاہور: اردو سائنس بورڈ۔ ج 2۔ ص 335–341