امیر خان متقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

امیر خان متقی افغانستان کی طالبان دور حکومت میں کافی اہم شخصیت تھے۔ وہ مختلف عہدوں پر فائز تھے، جس وزارت معلومات و ثقافت بھی شامل تھی۔[1] بامیان میں گوتم بدھ کے مجسموں کو جب طالبان نے توڑا تھا، بھارت، ریاستہائے متحدہ امریکا اور اقوام متحدہ کی جانب شدید مذمت اور تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ اس وقت متقی نے اعلان کیا کہ مجسموں کی مسماری افغانستان کا داخلی معاملہ ہے اور افغانستان میں اس وقت کوئی بدھ مت کا پیروکار موجود نہیں ہے۔

2001ء کے اواخر تک جب وہ پشاور چلے گئے تھے۔ طالبان کے زوال کے بعد طالبان اور امریکی نمائندوں کے بیچ رابطہ قائم کرنے اور مذاکرات کروانے کا کام کیا۔ اس کی وجہ سے امریکی فوج نے ان پر عائد مقدمات واپس لے لیے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]