امیر دوست محمد خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امیر افغانستان, امیرالمومنین
امیر دوست محمد خان
امیر دوست محمد خان

امیر افغانستان, امیرالمومنین
دور حکومت 1826–1839
1845–1863
معلومات شخصیت
پیدائش 23 دسمبر 1793  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قندھار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 جون 1863 (70 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ھرات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Afghanistan (2002-2004).svg افغانستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
اولاد محمد افضل خان،شیرعلی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
خاندان بارکزئی خاندان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل 27 بیٹے اور 25 بیٹیاں [1]
خاندان بارکزئی خاندان
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

بارکزئی قبیلے کا سردار جو محمد شاہ کی برطرفی کے بعد 1826ء میں افغانستان کے تخت پر بیٹھا۔ اس نے ملک کا انتظام بہتر کیا اور ایران اور روس سے تعلقات استوار کیے۔ کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے پشاور پر قبضہ کر لیا تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی رنجیت سنگھ اور کابل کے تخت کے دعوے دار شاہ شجاع سے مل کر امیر دوست محمد خان کو تخت سے ہٹانا چاہتی تھی۔ لارڈ آکلینڈ نے 1839ء میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اگست میں کابل فتح ہوا۔ امیر دوست محمد خان نے اپنے آپ کو انگریزوں کے حوالے کر دیا اور شاہ شجاع کابل کے تخت پر بیٹھا۔ مگر افغانوں امیر دوست محمد خان کے بیٹے اکبر خان کی قیادت میں بغاوت کردی۔ انگریزوں کی ساڑھے سولہ ہزار فوج میں سے فقط ایک آدمی زندہ سلامت ہندوستان واپس پہنچا۔ اور شاہ شجاع کو قتل کر دیا گیا۔ انگریزوں نے مجبور ہو کر دوست محمد خان کو رہا کر دیا۔ وہ کلکتے سے 1855ء میں کابل واپس گیا اور تادم مرگ حکومت کرتا رہا۔ مرنے سے کچھ عرصہ پیشتر اس نے ھرات کو فتح کرکے افغانستان میں شامل کر لیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Tarzi, Amin H. "DŌSTMOḤAMMAD KHAN". Encyclopædia Iranica (Online ed.). United States: Columbia University.
  2. ^ 2.0 2.1 Royal Ark