مختار ثقفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امیر مختار سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مختار ثقفی تاریخِ اسلامی کے متنازع کرداروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے بنو امیہ کے خلاف تلوار اٹھائی اور کربلا میں حسین ابن علی کی شہادت کا بدلہ لیا اور سینکڑوں کو قتل کیا۔جس میں شمر بھی شامل تھا جس نے امام حسین کا سر جسم سے علیحدہ کر کے نیزے پر دمشق بھجوایا تھا اور حرملہ بھی جس نے امام حسین کے چھ ماہ کے بیٹے علی اصغر کو تیر سے شہید کیا تھا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

مختار ثقفی یکم ہجری میں طائف میں پیدا ہوئے مگر پرورش مدینہ میں ہوئی۔ نام مختار اور کنیت ابواسحاق تھی۔تعلق بنی ہوازن کے قبیلہ ثقیف سے تھا۔ اسی لیے انہیں مختار ثقفی بھی کہا جاتا ہے۔[1] ان کے والد کا نام ابو عبیدہ ثقفی تھا جنہیں حضرت عمر نے عراق کی ایک مہم میں سپہ سالار بنا کر بھیجا تھا جہاں وہ شہید ہو گئے۔

واقعات[ترمیم]

کربلا کے سانحہ کے وقت مختار ثقفی عبید اللہ ابنِ زیاد کی قید میں تھا۔ ابنِ زیاد خواہش کے باوجود ممکنہ سیاسی و دیگر وجوہ کی بنا پر انہیں قتل نہ کرا سکا۔ مختار ثقفی عبداللہ بن عمر کی بہن کے شوہر تھا اور ان کی اپنی بہن کی شادی حضرت عبداللہ بن عمر کے ساتھ ہوئی تھی۔ واقعہ کربلا کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر کی سفارش پر مختار ثقفی کو رہا کر دیا گیا۔حوالہ درکار؟ قید سے رہا ہونے اور واقعاتِ کربلا سے آگاہی کے بعد امیر مختار نے قسم کھائی کہ قاتلانِ شہدائے کربلا کا بدلہ لیں گا۔ پہلے مختار ثقفی نے عبداللہ بن زبیر کے خروج میں ان کا ساتھ دیا مگر جب عبداللہ بن زبیر نے حجاز میں اپنی خلافت قائم کر لی تو ان سے اختلافات پیدا ہو گئے اور وہ مدینہ سے کوفہ چلے گئے۔وہاں اپنی تحریک کو منظم کیا اور 685ء میں خروج کیا۔[2] اس وقت ان کے ساتھ ابراہیم بن مالک اشتر بھی مل گئے جو ایک مشہور جنگجو تھے اور ان کے پاس اپنی کچھ فوج بھی تھی۔ انہوں نے بصرہ اور کوفہ میں جنگ کی اور بے شمار قاتلانِ شہدائے کربلا سے بدلہ لیا۔جن میں عمر بن سعد، حرملہ، شمر، ابنِ زیاد، سنان بن انس وغیرہ شامل تھے۔ ابنِ زیاد کا سر کاٹ کر امام زین العابدین کی خدمت میں بھجوایا گیا جسے دیکھ کر انہوں نے اہلِ بیت کو سوگ ختم کرنے کا کہا۔

وفات[ترمیم]

مختار ثقفی کی عبداللہ بن زبیر سے شدید اختلافات کے باعث جنگ ہوئی ۔ عبداللہ ابن زبیر کے بھائی مصعب بن زبیر کے حکم پر مختار ثقفی کو 687ء میں مسجد کوفہ میں قتل کر دیا گیا۔یہ 15 رمضان 67ھ کا واقعہ ہے۔[3] اس کے بعد مختار ثقفی کے خاندان کو قتل کر دیا گیا۔ جس میں ان کی ایک بیوی عمرہ بنت بشیر بن نعمان انصاری (بشیر عبیداللہ ابن زیاد سے پہلے کوفہ کے گورنر تھے) بھی شامل تھیں۔ جو مدائن میں رہتی تھیں ان کو مصعب بن زبیر کے حکم پر قتل کیا گیا[4]۔مگر کوفہ میں رہنے والی بیوی ناریہ بنت سمرہ بن جندب کو مصعب بن زبیر نے معاف کر دیا ۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ناسخ التواریخ
  2. ^ تاریخ طبری
  3. ^ تاریخ ابوالفداء
  4. ^ تاریخ مسعودی