امیر کلال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امیر کلال
Amir Kullal.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1278  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بخارا  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 28 نومبر 1370 (91–92 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شافیرکان  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Uzbekistan.svg ازبکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص بہاء الدین نقشبند بخاری  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

امیر سید مسعود کلال سبوخاری بخاریسلسلہ نقشبندیہ کے اکابرین میں شما ہوتے ہیں۔

جائے ولادت[ترمیم]

امیر کلال کی جائے ولادت بخارا ہے۔ شہر بخاراسے چھ میل کے فاصلہ پر سوخار نامی قریہ میں 676ھ مطابق 1278ء[1] میں پیدا ہوئے۔ آپ کی نسبت بابا سماسی سے ہے 20 سال ان کی خدمت میں رہے۔

کلال کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

آپ کوزہ گری کا شغل رکھتے تھے فارسی میں کلال کوزہ گر(کمھار،داشتگر) کو کہتے ہیں معاش کا ذریعہ زراعت تھا۔ طاقت ور پہلوان تھے، اوائل جوانی میں شوق سے کشتی کھیلا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ لوگوں کا مجمع لگا ہوا تھا،ایک دن رامتین میں کشتی میں مصروف تھے کہ وہاں سے بابا سماسی کا گزر ہوا تو آپ وہیں کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے ”یہاں موجود اس میدان میں اک مرد میدان جس کی صحبت سے کاملین زمانہ فیض یاب ہوں گے اور بندگان خدا کو فیض پہنچے گا، میں اسی لیے کھڑا ہوں “۔ جب خواجہ امیر کلال کی نگاہ پڑی تو سب کچھ چھوڑ کر ان کے پیچھے چل پڑے اور طریق تصوف میں شامل ہو گئے۔ یہ سیدزادے بابا سماسی کے ساتھ روانہ ہو گئے۔ صحبت و خدمت میں رہ کر آپ کے خلیفہ بلکہ جانشین بنے۔ آپ کے باکمال اور صاحب فیض ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ آپ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشوا سید بہاؤالدین نقشبند بخاری کے پیر و مرشد ہیں۔[2]

استغناء کا عالم[ترمیم]

ایک دفعہ امیر تیمور نے سمرقند سے ایک قاصد آپ کی خدمت میں بھیجا کہ اس کی ولایت کو قدم مبارک سے مشرف کریں۔ آپ نے اپنے صاحبزادے امیر عمر کو عذر خواہی کے لیے بھیجا اور کہا کہ اگر امیر تیمور تمہیں کوئی جاگیر یا انعام دے تو مت قبول کرنا۔ اگر تم قبول کرو گے تو اپنے جد بزرگوار حضرت محمد ﷺ کے خلاف کرو گے۔ امیر تیمور نے آپ کو تمام بخارا عطا کیا لیکن آپ نے قبول نہ کیا۔ امیر تیمور نے کہا اگر سارا نہیں تو کچھ حصہ قبول کر لیجیے امیر عمر نے پھر انکار کیا اور کہا کہ اجازت نہیں ہے۔ امیر تیمور نے کہا کہ امیر کلال کو کیا لکھ بھیجوں کہ ہمارا تقرب درویشوں میں ہو جا ئے۔ سید امیر عمر نے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا تقرب درویشوں میں ہو جائے تو تقویٰ اور عدل کو اپنا شعار بنا لو کیونکہ اللہ تعالیٰ اور خاصان حق کے تقرب کا یہی راستہ ہے۔[3]

وصال[ترمیم]

جمعرات 8 جمادی الاول 771ھ بمطابق 28 نومبر 1370ء بروز جمعرات[1] کو اس دار فانی سے دائمی ملک بقا روانہ ہوئے مزار مبارک سوخار میں زیارت گاہ اور مرکز رشد و ہدایت ہے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب باقیات جہان امام ربانی جلد دوم،صفحہ 372 ،امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی
  2. جلوہ گاہِ دوست
  3. حضرت مراد علی خاں رحمتہ اللہ علیہ
  4. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ،صفحہ129، نور بخش توکلی ،مشتاق بک کارنر لاہور۔