امین احسن اصلاحی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عالم دین، مفسر قرآن
امین احسن اصلاحی

مولانا امین احسن اصلاحی مدرسہ فراہی کے ایک جلیل القدر عالم دین ، مفسر قرآن اور ممتاز ریسرچ سکالر تھے آپ امام حمید الدین فراہی کے آخری عمر کے تلمیذ خاص اور انکے افکار ونظریات کے ارتقاء کی پہلی کرن ثابت ہوئے

ولادت[ترمیم]

امین احسن اصلاحی ضلع اعظم گڑھ کے ایک گاؤں موضع بمہور میں پیدا ہوئے آپ کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے تھا

تعلیم وتربیت[ترمیم]

ابتدائی تعلیم وتربیت گاؤں کے دو مکتبوں میں ہوئی سرکاری مکتب میں مولوی بشیر احمد جبکہ دینی مکتب میں مولوی فصیح احمد انکے استاد تھے یہاں سے آپ نے قرآن مجید اور فارسی کی تعلیم حاصل کی جب دس سال کے ہوئے تو آپکے رشتہ کے چچا مولانا شبلی متکلم ندو(مہتمم مدرستہ الاصلاح) کے ایماء پر امین احسن کے والد نے 9جنوری 1915ء کو انہیں مدرستہ الاصلاح سرائے میر میں داخل کردیا آپ کو مکتب کے آخری(تیسرے) درجے میں بٹھایا گیا مدرسہ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے آٹھ سال میں پرے نصاب کی تعلیم مکمل کی اس عرصے میں آپ نے عربی زبان،قرآن، حدیث،فقہ اور کلامی علوم کی تحصیل کی ،اردو ،فارسی ،انگریزی اور بالخصوص عربی میں دسترس حاصل کی کہ آئندہ کے تحقیق وتدبر کی راہیں خود طے کرسکیں مولانا امین احسن اصلاحی دوران تعلیم ایک ذہین اور قابل طالب علم کی حیثیت سے نمایاں رہے

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مدرسہ سے فارغ ہوتے ہی مولانا اصلاحی 1922ء میں اٹھارہ سال کی عمر میں سہ روزہ مدینہبجنور کے نائب مدیر مقرر ہوگئے یہ اخبار ان دنوں تحریک خلافت کاعلمبردار اور سیاست میں جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کا ہم نوا تھا اخبار کے مالک مجید حسن نے بچوں کے ایک ہفت روزہ غنچہ کی ادارت بھی مولانا کے سپرد کردی مولانا اصلاحی نے مولانا عبدالماجد دریاآبادی اور مولانا عبدالرحمن نگرامی کی زیر نگرانی شائع ہونے والے ہفت روزہ سچ میں بھی کام کیا

تلمیذیت فراہی[ترمیم]

1925ء میں مولانا اصلاحی صحافت کو خیر باد کہہ کر حمید الدین فراہی کی خواہش پر علوم قرآن میں تخصص کی غرض سے ہمہ وقت مدرستہ الاصلاح سے وابستہ ہو گئے ، مدرسہ میں تدریسی فرائض کی بجا آوری کے ساتھ ساتھ دیگر اساتذہ کے ساتھ مولانا فراہی سے درس قرآن لینے لگے آپ نے مولانا فراہی سے صرف علوم تفسیر ہی نہیں پڑھے بلکہ استاد کے طریقہ تفسیر میں مہارت بھی حاصل کی ،عربی شاعری کی مشکلات میں ان سے مدد لینے کے ساتھ ساتھ سیاسیات اور فلسفہ کی بعض کتب بھی ان سے پڑھیں ،

جماعت اسلامی میں شمولیت[ترمیم]

جماعت اسلامی کی تشکیل 26 اگست 1941ء کو ہوئی ، مولانا اصلاحی اگرچہ تاسیسی اجتماع میں شریک نہ ہوئے لیکن انکے مخلصانہ تعلق کے پیش نظر ان کو جماعت اسلامی کے ارکان میں شامل کرکے الہٰ آباد ، بنارس، گورکھپور، فیض آباد، ڈویژن اور صوبہ بہار کا صدر مقام سرائے میر کو قرار دے کر مولانا اصلاحی کو اس کا نائب مقرر کردیا گیا ، کچھ ہی عرصہ میں آپ کو مولانا مودودی اور ارکان شورٰی کے ہاں اتنا اعتماد حاصل ہوگیا کہ آپ کو مولانا مودودی کے جانشین کی حیثیت حاصل ہوگئی ،بعض اختلافات کی بناء پر 18 جنوری 1958ء کو آپ جماعت سے علیحدہ ہوگئے

تفسیر تدبر قرآن[ترمیم]

مولانا فراہی کی محنتوں کا نتیجہ تھا کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے ایک ایسی تفسیر قرآن لکھی جو حقیقی معنوں میں فکر فراہی کی غمازی تھی ، تفسیر میں صرف ہونے والی اپنی اور استاد کی محنتوں کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ

تفسیر تدبر قرآن پر میں نے اپنی زندگی کے پورے 55سال صرف کیے ہیں جن میں 23 سال صرف کتاب کی تحریر وتسوید کی نظر ہوئے ہیں اگر اسکے ساتھ وہ مدت بھی ملا دی جائے جو استاذ امام نے قرآن کے غور وتدبر پر صرف کی ہے اور جس کو میں نے اس کتاب میں سمونے کی کوشش کی ہے تو یہ کم وبیش ایک صدی کا قرآنی فکر ہے جو آپ کے سامنے تفسیر تدبر قرآن کی صورت میں آیا ہے ، اگرچہ میں اپنے فکر کو حضرت الاستاذ کے فکر کے ساتھ ملانا بے ادبی خیال کرتا ہوں ، لیکن چونکہ واقعہ یہی ہے کہ میں نے عمر بھر استاذ کے سر میں اپنا سر ملانے کی کوشش کی ہے اور میرا فکر انکے فکر کے قدرتی نتیجہ ہی کے طور پر ظہور میں آیا، اس وجہ سے یہ جوڑ ملانے کی جسارت بھی کررہا ہوں ، اگر یہ بے ادبی ہے تو اللہ تعالٰیٰ اسے معاف فرمائے تفسیر تدبر قرآن اگست 1980ء میں مکمل ہوئی

خدمت حدیث[ترمیم]

تکمیل تفسیر کے بعد مولانا اصلاحی نے خدمت حدیث کا ارادہ کیا ، چنانچہ یکم محرم الحرام 1401ھ کو ادارہ تدبر قرآن وحدیث کا قیام عمل میں لایا جس کے صدر مولانا اصلاحی اور ناظم خالد مسعود مقرر ہوئے ادارہ کی تحقیقات اور مولانا کے دروس کی اشاعت کیلئے 1981ء میں مجلہ تدبر کا اجراء ہوا ، اسی طرح ادارہ میں درس قرآن اور حدیث کا ہفتہ وار سلسلہ جاری کیا گیا، 1993ء میں پیرانہ سالی اور نقاہت کے باعث سلسلہ درس منقطع ہوگیا[1]

تصانیف[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ حمید الدین فراہی اور جمہور کے اصول تفسیر:صفحات 64 تا66

بیرونی روابط[ترمیم]