امین میاں قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امین میاں برکاتی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سید محمد امین برکاتی رضوی المعروف امین میاں قادریولی عہد خانقاہ برکاتیہ مارہرہ شریف ۔

ولادت[ترمیم]

سید محمد امین میاں برکاتی رضوی بن احسن العلماء مولانا سید حسن میاں قادری برکاتی بن صحافی ہندوستان سید آلِ عبابر کاتی بن سید حیدر برکاتی 1952ء کو مارہرہ شریف ایٹاہ ضلع میں پیدا ہوئے۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

محمد امین میاں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار احسن العلماء مولانا سید حسن میاں قادری برکاتی ، محمد یوسف آفریدی، منشی سعید الدین، حافظ عبدالرحمٰن عرف حافظ کلو، والدہ ماجدہ اور پھو پھیوں سے حاصل کی۔ علم تکسیر کے ابتدائی اسباق اپنے عمِ مکرم سید العلماء مولانا سید آلِ مصطفیٰ برکاتی مارہروی سے پڑھے۔ ڈاکٹر سید محمد امین نے مزید جدید علوم و فنون کی تعلیم حاصل کرنے کےلیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا رُخ کیا، اور وہاں رہ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ آپ نے 1981ء میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے پی۔ ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

علمی خدمات[ترمیم]

فخر السادات امین الملت والدین مولانا سید محمد امین میاں نے فراغت کے بعد مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں چند برس درس وتدریس کے منصب پر فائز رہ کر خدمات انجام دیں۔ 1983ء سے سینٹ جانس کالج آگرہ میں شعبۂ اردو کے صدر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد امین میاں متحرک اور فعال شخصیت ہیں۔ سنیت کی اشاعت میں بھر پور حصہ لیتے ہیں۔ نہایت سنجیدہ، نیک طینت، خوش کردار اور رحم دل واقع ہوئےہیں۔ طبیعت میں و دیعت کے طور پر سادگی و سنجیدگی زیادہ پائی جاتی ہے۔

تصانیف[ترمیم]

ڈاکٹر سید محمد امین میاں کئی کتابیں تصنیف چکےہیں۔ آپ کے مقالات ماہنامہ سنی دنیا بریلی، ماہنامہ استقامت کانپور، اور ماہنامہ حجاز جدید دہلی میں چھپتے ہیں۔ مندرجہ ذیل تصانیف کے علاوہ آپ نے ادبی، مذہبی، تنقیدی، تحقیقی مقالات لکھے جن کو اہل علم نے وقعت اور اہمیت کی نظر سے دیکھا۔

  • 1۔ قائم اور ان کا کلام
  • 2۔ شاہ برکت اللہ۔ حیات اور علمی کارنامے
  • 3۔ ادب، ادیب اور اضافت
  • 4۔ سراج العوارف (ترجمہ)
  • 5۔ آداب السالکین
  • 6۔ چہار انواع

بیعت وخلافت[ترمیم]

ڈاکٹر سید محمد امین میاں کو تاج العلماء سید اولادِ رسول محمد میاں برکاتی سے بیعت وخلافت کا شر ف حاصل ہے۔ اور والد بزرگوار احسن العلماء سید حسن میاں قادری نے بھی اجازت حاصل ہے۔ مزید حضور مفتی اعظم مولانا الشاہ مصطفیٰ رضا نوری نے بھی آپ کو اجازت مرحمت فرمائی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.ziaetaiba.com/ur/scholar/syed-muhammad-ameen-barkati