امیہ بن خلف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امیہ بن خلف
معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
مقام وفات بدر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
اولاد صفوان بن امیہ،  وربیعہ بن امیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

امیہ بن خلف اسلام کا بہت بڑا دشمن اور بلال بن رباح اور خباب بن الارت کا آقا جس کے خلاف قرآن میں آیتیں نازل ہوئیں۔

بلال اور خباب پر ستم[ترمیم]

خباب بن الارت اور بلال بن رباح غلام تھے۔ ان کا آقا امیہ بن خلف بڑا ظالم اور سخت گیر تھا۔ جب یہ مسلمان ہو گئے تو ان کو بھوکا پیاسا بھی رکھتا اور مارتا اور کہتا کلمہ چھوڑ دے۔ ایک دن بلال کو ایسی ہی اذیتیں دی جا رہی تھیں کہ ادھر سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ہوا۔ آپ سیدنا بلال پر یہ ظلم برداشت نہ کرسکے۔ لہذا سیدنا ابوبکر سے کہا کہ وہ بلال کو اس مصیبت سے نجات دلائیں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر نے امیہ بن خلف کو بلال کی منہ مانگی قیمت ادا کرکے خریدا، پھر آزاد کر دیا۔ ایک روایت کے مطابق یہ قیمت ایک کلو سے زائد چاندی تھی۔[1]

قتل کی پیشین گوئی[ترمیم]

رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق پیشین گوئی کی تھی کہ مسلمانوں کے ہاتھوں امیہ بن خلف قتل ہوگا

  • انصار کے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ جنگ بدر سے پہلے عمرہ کی نیت سے مکہ آئے اور اپنے حلیف دوست امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے اس وقت ابو جہل رئیس مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ کوئی مسلمان کعبہ میں داخل ہونے اور طواف نہ کرنے پائے۔ امیہ بن خلف رواداری کی وجہ سے سیدنا سعد کو کعبہ لے گیا وہ طواف کر ہی رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھ لیا تو سیدنا سعد پر برس پڑا۔ سیدنا سعد نے کڑک کر جواب دیا کہ اگر تم مجھے روکو گے تو میں تمہارے تجارتی قافلہ کی راہ روک کر تمہارا ناک میں دم کر دوں گا۔ امیہ سیدنا سعد سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ ابو جہل سے آرام سے بات کرو۔ یہ مکہ کا سردار ہے۔ سیدنا سعد کہنے لگے تم ابو جہل کی اتنی طرف داری نہ کرو۔ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ تم ان کے اصحاب کے ہاتھوں قتل ہو گے۔ امیہ نے پوچھا کیا یہاں مکہ میں؟ سیدنا سعد نے فرمایا۔ میں یہ نہیں جانتا۔ پھر کہنے لگے کہ تمہارے قتل کا سبب یہی ابو جہل بنے گا۔ [2]

عبد الرحمن بن عوف کا بچانا[ترمیم]

جاہلیت کے دور میں امیہ بن خلف اور عبدالرحمن بن عوف میں دوستی تھی۔ غزوہ بدر میں جب مسلمان کافروں کو گرفتار کر رہے اور مال غنیمت اکٹھا کر رہے تھے اس وقت عبد الرحمن بن عوف چند ز رہیں سنبھالے جا رہے تھے۔ امیہ نے انہیں دیکھ لیا اور پکار کر کہا : تمہیں میری ضرورت ہے؟ میں تمہاری ان زر ہوں سے بہتر ہوں۔ امیہ کا مطلب یہ تھا کہ اگر عبد الرحمن بن عوف مجھے قیدی بنا کر اپنی پناہ میں لے لیں تو میں کم از کم جان سے تو بچ جاؤں گا اور اگر زندہ رہا تو انہیں اس کام کا اتنا معاوضہ دوں گا جو ان زرہوں سے کہیں بہتر ہوگا۔

بلال حبشی کا قتل کرنا[ترمیم]

عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے علی دونوں کو گرفتار کرکے آگے بڑھا ہی تھا کہ اتفاق سے سیدنا بلال کی نظر امیہ بن خلف پر پڑ گئی۔ امیہ کو دیکھتے ہی انہیں وہ زمانہ یاد آگیا جب امیہ ان پر مشق ستم کیا کرتا تھا۔ وہ فوراً پکار اٹھے ' اوہ! کفر کا سر! امیہ بن خلف! آج یا میں زندہ رہوں گا یا یہ زندہ رہے گا ' میں نے سیدنا بلال کو بہتیرا سمجھایا کہ یہ میرا قیدی ہے مگر وہ کسی صورت نہ مانے اور انصار کو بلا کر وہی بات کہی کہ ' آج یا میں زندہ رہوں گا یا یہ کفر کا سر ' چنانچہ ان لوگوں نے ہمیں گھیرے میں لے لیا۔ میں ان کا بچاؤ کر رہا تھا بلکہ اپنے آپ کو امیہ پر ڈال رہا تھا۔ مگر ہجوم کے سامنے میری کچھ پیش نہ گئی۔ ان لوگوں نے امیہ کو میرے نیچے سے نکال کر باپ اور بیٹے دونوں کو بیدردی سے قتل کر دیا۔ مرنے سے پہلے امیہ نے ایسی دردناک چیخ ماری جیسی میں نے پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ عبد الرحمن بن عوف کہا کرتے تھے اللہ تعالیٰ بلال پر رحم فرمائے۔ جنگ بدر کے دن میری ز رہیں بھی گئیں اور میرے قیدی کے بارے میں مجھے تڑپا بھی دیا۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ابن ہشام 9: 317: رحمۃ للعالمین 1: 57
  2. بخاری۔ کتاب المناقب۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام
  3. بخاری۔ کتاب الجہاد باب دعا النبی علی المشرکین