ام درداء کبری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ام الدرداء الکبریٰ آپ کا نام خیرہ بنت ابی حدرد ہے، یہ بھی کہا گیا کہ ان کا نام ہجیمہ ہے اسلمیہ ہیں، صحابیہ ہیں

نام و نسب[ترمیم]

اُمّ الدرداء دو تھیں اور دونوں ابو الدرداء کے عقدِ نکاح میں آئیں، لیکن جو بڑی تھیں وہ صحابیہ ہیں۔ امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کے قول کے مطابق ان کا نام خیرہ تھا اور ابو حدردا سلمی کی صاحب زادی تھیں۔ بڑی عالمہ زاہدہ فاضلہ صحابیہ ہیں،عبادات میں مشہور ہیں

وفات[ترمیم]

ابو الدرداء سے دو سال پہلے وفات پائی،خلافت عثمانیہ میں شام کے علاقہ میں فوت ہوئیں۔[1][2] ام درداء سے فرماتی ہیں ایک بار میرے پاس ابودرداء غصے میں آئے میں نے کہا آپ کو کس چیز نے غصہ دلایا فرمایا اﷲ کی قسم میں محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے کاموں میں سے صرف یہ پاتا ہوں کہ وہ نماز جماعت سے پڑھ لیتے ہیں ام الدرداء ابو الدرداء کی بیوی ہیں ان کا نام خیرہ ہے۔ ابوالدرداء نے اپنے شہر والوں کی ان سے شکایت کی، اسی شہر والوں نے مسلمانوں کے سارے کام چھوڑ دیے یا بدل دیے صرف نماز باجماعت باقی تھی،اب ان میں بھی سستی کرنے لگے۔ خیال رہے کہ ابو الدرداء بڑے زاہد،تارک الدنیا،روزہ دار،شب بیدار صحابی تھے حتی کہ ام الدرداء نے بناؤ سنگار چھوڑ دیا تھا،حضرت سلمان فارسی کے پوچھنے پر کہا کہ میں سنگار کس لیے کروں میرے خاوند کو عبادت سے فرصت ہی نہیں جو میری طرف توجہ کریں،آپ چاہتے یہ تھے کہ سارے مسلمان مجھ جیسے عابد و زاہد ہوں،جس شہر میں آپ تھے وہاں کے باشندے اس درجے کے زاہد نہ تھے، اس کی آپ شکایت کر رہے ہیں کہ یہ لوگ نہ راتوں کو جاگتے ہیں نہ اشراق وغیرہ کی پابندی کرتے ہیں ہاں جماعت کے پابند ہیں تو اس میں بھی کمی کرنے لگے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحابہ دین کی ساری باتیں چھوڑ چکے تھے جیسا کہ روافض نے اس حدیث سے سمجھا وہ زمانہ خیر القرون میں سے تھا، اس کی بہتری کی گواہی قرآن و حدیث دے رہے ہیں۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أسد الغابہ،مؤلف: أبو الحسن علی عز الدين ابن الأثير ،ناشر: دار الفكر بيروت
  2. الاستیعاب ،کتاب النساء،باب الدال3584،أم الدرداء،ج4،ص488
  3. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان جلد2 صفحہ303