ام رومان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ام رومان
معلومات شخصیت
مقام پیدائش سلسلہ کوہ سروات  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 628  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر ابو بکر صدیق  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عائشہ بنت ابی بکر،  طفیل بن عبد اللہ الازدی،  عبد الرحمن بن ابی بکر  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ام رومان بنت عامر ( متوفی / 930ء ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحابیہ اور ابوبکر صدیق کی زوجہ تھیں۔

نام و نسب[ترمیم]

ام رومان کنیت ہے ان کا نام زینب بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عتاب بن اذينہ بن سبيع بن دھمان بن الحارث بن غنم بن مالک بن کنانہ ہے۔
قبیلہ کنانہ کے خاندان فراس سے تھیں۔

اسلام[ترمیم]

ابتدائے اسلام میں ابوبکر کے ساتھ انہوں نے بھی اس صدا کو لبیک کہا۔

ہجرت[ترمیم]

ہجرت کے وقت ابوبکر تنہا آنحضرتﷺ کی معیت میں مدینہ کو روانہ ہو گئے تھے لیکن ان کا خاندان مکہ میں مقیم تھا، مدینہ پہنچے تو وہاں سے زید بن حارثہ اور ابورافع مستورات کو لانے کے لیے بھیجے گئے، اُمّ رومان بھی ان ہی کے ہمراہ مدینہ میں آئیں۔

ازدواجی حیثیت[ترمیم]

پہلا نکاح عبد اللہ بن حارث بن سخيرة الازدی سے ہوا جن سے طفیل بن عبداللہ متولد ہوئے اور ان ہی کے ہمراہ مکہ آکر اقامت کی،عبد اللہ ابوبکر کے حلیف بن گئے تھے۔ جب ان کے مذکورہ شوہر کا انتقال ہوا تو ابو بکر صدیق نے ام رومان سے نکاح کر لیا۔

اولاد[ترمیم]

ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر اور عبد الرحمن بن ابی بکر انہی کے بطن سے تھے۔

وفات[ترمیم]

اُمّ رومان نے یا اس کے بعد انتقال کیا آنحضرتﷺ خود قبر میں اُترے اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 6ھ میں وفات پائی تھی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیر الصحابیات، مؤلف، مولانا سعید انصاری 87،مشتاق بک کارنر لاہور