ام کلثوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ام کلثوم

مصری مغنیہ ۔ 30 دسمبر 1898ء سلطنت عثمانیہ میں ایک کسان گھرانے میں پیداہوئیں ۔ اُنہوں نے باقاعدہ تعلیم نہں پائی۔ 1954ء میں‌قاہرہ کے ڈاکٹر حسن الخضری سے شادی ہوئی۔ مصری کہتے ہیں کہ اہرام مصر اور ام کلثوم کی آواز کو ثبات دوام حاصل ہے۔ عرب کلاسیکی موسیقی میں کافی مہارت حاصل کی۔ بہت سے اعزازات ملے ۔ سابق شاہ فاروق اول نے انہیں الکمال کا اعزاز دیا۔ مصر کی حکومت نے ان کی آواز میں قرآن حکیم کو ریکاڈ کیا۔ 3 فروری 1975ء کو قاہرہ مصر میں ان کا انتقال ہو گیا۔ اپنے انتقال کے تقریبا 30 سال بعد اُنہیں عرب کی تاریخ کی سب سے عظیم خاتون گلوکارہ مانا گیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

وہ سلطنت عثمانیہ کے دورحکومت میں دریائے نیل کے ایک ڈیلٹا میں بحیرہ روم کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کی تاریخ پیدائیش معلوم نہیں ہے کیونکہ اس دوران عرب میں تاریخ پیدائیش لکھنے اور محفوظ کرنے کا رواج نہیں تھا۔ مصری وزارت کے مطابق 31 دسمبر 1898ء یاں 31 دسمبر 1904ء کو ہوئی ہے۔ اُن کی پیدائیش ان دو تاریخوں کے درمیان کبھی ہوئی ہے۔

نوعمری میں ہی ان میں گانے کا زبردست ہنر تھا۔ اُن کے والد امام تھے اور قرآن کی تلاوت کرتے تھے۔ ام کلثوم نے سارا قرآن یاد کر لیا تھا۔ جب وہ 12 سال کی تھیں تو ان کے والد نے اُن کا بھیس بدل کر لڑکوں جیسہ حلیہ بنا کر ایک فنکاروں کی ٹولی میں داخل کیا جس کو وہ خود ہدایت دیتے تھے۔ 16 سال کی عمر میں ایک نسبتاً مشہور گلوکار محمد ابو العلا نے دیکھا اور اُنہیں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم دی۔ کچھ سالوں بعد وہ مشہور بربط نواز اور موسیقار زکریا احمد سے ملیں جنہوں نے اُن کو قاہرہ آنے کا مشورہ دیا۔ اگرچہ وہ 1920ء تک قاہرہ کئی دفعہ آچکی تھیں مگر وہ مستقل طور پر وہاں 1923ء میں منتقل ہوئیں۔ امین بہ المہدی نے کئی دفعہ اُنہیں اپنے گھر بلایا اور اُنہیں عود بجانا سکھایا۔ اس دوران ام کلثوم کی اُن کی بیٹی روایہ المہدی سے بہت اچھی دوستی ہو گئی اور وہ دونوں بہت قریبی دوست بن گئیں۔ ام کلثوم روایہ کی شادی میں بھی گئیں اگرچہ وہ عوام کے سامنے آنا پسند نہیں کرتیں تھیں۔

امین المہدی نے اُنہیں قاہرہ کے ثقافتی حلقے میں متعارف کرایا۔ اُنہوں نے ام کلثوم کو غیر روایتی طرز زندگی سے بھی بچایا درحقیقت ساری زندگی اُنہنوں نے اپنے اصل اور اقدار سے رشتہ استوار رکھا۔ اُنہوں نے اپنی عوامی شبیہ کو کبھی بگڑنے نہیں دیا اور اس نے بے شک عوام میں ان کی رغبت میں اضافہ کیا۔

اس دوران ان کا تعارف مشہور شاعر احمد رامی سے ہوا جنہوں نے بعد میں اُن کے لیے 137 گیت لکھے۔ رامی نے اُنہیں فرانسیسی ادب سے بھی متعارف کرایا جس سے وہ خود بہت زیادہ متاثر تھے اور بعد میں ان کے عربی ادب اور ادبی تجزیہ کے استاد بھی بنے۔