انا ساگر جھیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
انا ساگر جھیل
The Anasāgar Lake 1 PHOTOGRAPHED BY FATEH.RawKEy.jpg
انا ساگر جھیل
محل وقوع اجمیر، راجستھان
جغرافیائی متناسق 26°28′30″N 74°37′30″E / 26.475°N 74.625°E / 26.475; 74.625متناسقات: 26°28′30″N 74°37′30″E / 26.475°N 74.625°E / 26.475; 74.625
نکاسی طاس ممالک بھارت

انا ساگر جھیل ہندوستانی ریاست راجستھان کے شہر اجمیر میں واقع ایک مصنوعی جھیل جسے پرتھوی راج چوہان کے دادا انا جی چوہان نے 1135 عیسوی سے 1150 عیسوی کو دوران مقامی آبادی کہ مدد سے بنوایا۔ ساگر ہندی میں سمندر کو کہتے ہیں اور چونکہ اسے انا جی چوہان نے بنوایا اس لیے اس کا نام انا ساگر ہوا۔ انا ساگر ہندوستان کی چند خوبصورت جھیلوں میں سے ایک ہے۔ مغل شہنشاہ نور الدین محمد جہانگیر نے یہاں   ایک باغ   دولت باغ کے نام سے بنوایا اور شاہ جہان نے یہاں ایک بارہ دری تعمیر کروائی  ۔ اس جھیل کا رقبہ 13 کلومیٹر ہے۔ اور وسط میں ایک جزیرہ ہے جہاں کشتی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ قریبی پہاڑی پر ایک سرکٹ ہاؤس ہے جو برطانوی عہد میں سرکاری رہائش گاہ  کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔[1]

یہ وہی انا ساگر ہے جو  سلطان الہند خواجہ معین الدین  جشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے  کوزے میں سما گیا تھا۔ یہ واقعہ بہت مشہور ہے میں مختصرا ذکر کر دیتا ہوں کہ ایک بار آپ نے اپنے ایک خادم کو پانی لانے کو کہا  جب خادم انا ساگر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں راجپوت سپاہیوں کا پہرہ ہے جب اس نے پانی لینا چاہا تو سپاہیوں نے کہا کہ تم  یہاں سے پانی نہیں لے سکتے خادم نے واپس آ کر ساری صورت حال  خواجہ معین الدین  جشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے گوش گزار کی اس پر آپ نے فرمایا یہ میرا کوزہ لے جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم زیادہ پانی نہیں لیتے صرف یہ کوزہ بھرنے کی اجازت دے دو ۔ خادم کوزہ لیکر وہاں پہنچا اور اجازت طلب کی سپاہیوں نے  سوچا ایک کوزہ  ہی تو ہے   لیجانے دو انہوں نے اجازت دے دی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ بس یہی ایک کوزہ اس کے بعد پانی لینے نہ آنا ،جب خادم نے کوزہ پانی میں ڈال کر نکالا تو 13 کلومیٹر پر پھیلا  انا ساگر کوزے میں سما چکا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]