انتظار حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انتظار حسینستارہ امتیاز
انتظار حسین.jpg
انتظار حسین
پیدائش انتظار حسین7 دسمبر 1923 (1923-12-07) ‏(92)ضلع میرٹھ، برطانوی ہند
وفات فروری 2، 2016 (عمر 92 سال)لاہور
پیشہ صحافی، ناول نگار
زبان اردو
قومیت پاکستانی
شہریت پاکستان
تعلیم ایم اے اردو
مادر علمی جامعہ پنجاب، پاکستان
دور 1953ء تا 2016ء

انتظار حسین (7 دسمبر، 1923ء - 2 فروری، 2016ء) اردو کے ایک ناول نگار، افسانہ نگار اور تنقید نگار تھے، انھوں نے ایک داستان اور آپ بیتی طرز پر دو کتابیں لکھیں۔ حکومت فرانس نے ان کو ستمبر 2014ء میں آفیسر آف دی آرڈر آف آرٹس اینڈ لیٹرز عطا کیا۔ انتظار حسین کا انتقال 2 فروری 2016ء کو 92 سال کی عمر میں لاہور کے ایک ہسپتال میں ہوا۔[1]

سوانح[ترمیم]

انتظار حسین 7 دسمبر 1923ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ کالج سے بی اے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد لاہور میں قیام پزیر ہوئے جہاں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اردو کرنے کے بعد وہ صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوگئے۔ پہلا افسانوی مجموعہ ’’گلی کوچے‘‘ 1953ء میں شائع ہوا۔ روزنامہ مشرق میں طویل عرصے تک چھپنے والے کالم ’’لاہور نامہ‘‘ کو بہت شہرت ملی۔ اس کے علاوہ ریڈیو میں بھی کالم نگاری کرتے رہے۔ افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں ان کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔

فن[ترمیم]

انتظار حسین اردو افسانے کا ایک معتبر نام ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اسلوب اور بدلتے لہجوں کے باعث پیش منظر کے افسانہ نگاروں کے لیے بڑا چیلنج تھے۔ ان کی اہمیت یوں بھی ہے کہ انہوں نے داستانوی فضا، اس کی کردار نگاری اور اسلوب کا اپنے عصری تقاضوں کے تحت برتاؤ کرنا چاہا۔ ان کی تحریروں کو پڑھ کر حیرت کاایک ریلا سا آتا ہے جس کی بنا پر ان کے سنجیدہ قارئین کے پاؤں اکھڑ جاتے ہیں۔ ان کی خود ساختہ صورت حال حقیقت سے بہت دور ہے۔ اس طرح کی صورت حال تخیل کے حوالے سے یورپ میں سامنے آئی۔

ماضی پرستی[ترمیم]

ان کی تحریروں کی فضا ماضی کے داستانوں کی بازگشت ہے ۔ ان کے یہاں پچھتاوے، یاد ماضی، کلاسیک سے محبت، ماضی پرستی، ماضی پر نوحہ خوانی اور روایت میں پناہ کی تلاش بہت نمایاں ہے۔ پرانی اقدار کے بکھرنے اور نئی اقدار کے سطحی اور جذباتی ہونے کا دکھ اور اظہار کے ضمن میں بہت سی جگہوں پر انداز اور لب و لہجہ ترش ہو جاتا ہے۔

علامت[ترمیم]

وہ علامتی اور استعاراتی اسلوب کو نت نئے ڈھنگ سے استعمال کرنے والے افسانہ نگار تھے، لیکن اپنی تمام تر ماضی پرستی اور مستقبل سے فرار اور انکار کے باوجود ان کی تحریروں میں ایک عجیب طرح کا سوز اورحسن ہے۔ اس میں ویسی ہی کشش ہے جو چاندنی راتوں میں پرانی عمارتوں میں محسوس ہوتی ہے۔

اساطیر[ترمیم]

انتظار حسین کا فن عوامی نہیں۔ انہوں نے اساطیری رجحان کو بھی اپنی تحریروں کا حصہ بنایا۔ ان کے افسانوں کے اسرار معلوم کرنے کے لیے وسیع مطالعہ کرنا بھی لازمی ہے۔ ہجرت کے حوالے سے ایک خاص طرح کا تناؤ انتظار حسین کے ہاں جاری و ساری ہے۔ اس صورت حال سے وہ خود کو منطقی طور پر الگ نہیں کر سکے۔ انہیں زندگی کی ظاہری بناوٹ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی البتہ باطن میں جو حالت درپیش ہوتی اس کا خیال رکھتے۔ یہی باطن کی غوطہ زنی اور اسلوبیاتی تنوع انتظار حسین کی پہچان ہے۔ لیکن وہ اسے فکری اور نظری پسماندگی کا نام بھی دیتے ہیں۔ ایسے میں وہ فرد کی انفرادی سطح پر اخلاقی جدوجہد کو بے معنی قرار دیتے ہیں۔ یہی موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح وہ مقام ہے جہاں پر انتظار حسین افسانے کے پیش منظر میں داخل ہوتے نظر آتے ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

ناول[ترمیم]

  • آگے سمندر ہے
  • بستی
  • چاند گہن
  • دن ۔ (ناولٹ)

افسانے[ترمیم]

  • آخری آدمی
  • خالی پنجرہ
  • خیمے سے دور
  • شہر افسوس
  • کچھوے
  • کنکرے
  • گلی کوچے

آپ بیتی[ترمیم]

دیگر[ترمیم]

  • جل گرجے (داستان)
  • نظرئیے سے آگے (تنقید)[2]

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

انتظار حسین کا 2 فروری 2016ء کو مختصر علالت کے بعد انتقال ہوا، اور 3 فروری کو انھیں سپرد خاک کیا گیا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]