انتھونی مسکارینہاس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
انتھونی مسکارینہاس
(انگریزی میں: Anthony Mascarenhas ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 10 جولا‎ئی 1928  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلگام  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 دسمبر 1986 (58 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ صحافی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نیویل انتھونی مسکارینہاس ایک پاکستانی صحافی اور مصنف تھے۔ ان کی تصنیفات The Rape of Bangla Desh اور Bangladesh: A Legacy of Blood میں 1971ء کی جنگ آزادی بنگلہ دیش کے دوران میں پاکستانی فوج کی جانب کی گئی بربریت کا انکشاف موجود ہے۔[1]

ذاتی زندگی[ترمیم]

انتھونی بلگام کے ایک گوائی کیتھولک خاندان میں پیدا ہوئے اور کراچی میں تعلیم حاصل کی۔[2] ان کے اور ان کی زوجہ اِیوآن مسکارینہاس کے پانچ بچے تھے۔ انہوں 1986ء میں وفات پائی۔[3]

کیریئر[ترمیم]

انتھونی ایک صحافی تھے جو The Morning News (کراچی) میں اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے۔[4] بنگلہ دیش میں ہوئے ظلم و ستم کے متعلق معلومات جمع کرنے کے بعد ان کو خیال آیا کے کہانی کو پاکستان میں شائع نہیں کرنا چاہیے اور انہوں نے دی سنڈے ٹائمز کے ہیرولڈ ایونز سے رابطہ کیا۔ 1971ء میں رپورٹ شائع کرنے سے پہلے وہ اپنے خاندان کے ہمراہ برطانیہ منتقل ہو گئے۔[5] اس کے بعد انہوں 14 سال تک دی سنڈے ٹائمز کے ساتھ کام کیا۔ بعد میں، وہ ایک فری لانس مصنف ہو گئے۔

1972ء میں صحافت میں انہیں اپنے عرصۂ حیات کے کار نمایاں کے لیے Granada's Gerald Barry اعزاز سے اور اس کے ساتھ ساتھ جنگ آزادی بنگلہ دیش کے دوران میں ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو رپورٹ کرنے کے لیے International Publishing Company کے خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Bangladesh war: The article that changed history". BBC News. 16 دسمبر 2011. مؤرشف من الأصل في 24 دسمبر 2018. 
  2. Sarwar، Beena (16 جولائی 2011). "Pakistani Journalists: Standing Tall". Economic & Political Weekly. مؤرشف من الأصل في 24 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2013. 
  3. "Mr Anthony Mascarenhas". The Times (Obituary). London. 8 دسمبر 1986. صفحة 14. 
  4. Ehsan، Muhammad Ali (25 نومبر 2012). "Must we apologise?". Pakistan Observer. مؤرشف من الأصل في 7 اپریل 2014. اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2013. 
  5. Jack، Ian (21 مئی 2011). "It's not the arithmetic of genocide that's important. It's that we pay attention". The Guardian. مؤرشف من الأصل في 24 دسمبر 2018. اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2013.