انجم رومانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انجم رومانی
پیدائش فضل دین
28 ستمبر 1920 (1920-09-28)ء
سلطان پور لودھی، کپور تھلہ، برطانوی ہندوستان
وفات اپریل 13، 2001(2001-40-13) (عمر  80 سال)
لاہور، پاکستان
قلمی نام انجم رومانی
پیشہ شاعر، ماہرِ تعلیم، مترجم
زبان اردو
قومیت پاکستانپاکستانی
نسل مہاجر
صنف شاعری، ترجمہ
ادبی تحریک حلقہ ارباب ذوق
نمایاں کام کوئے ملامت
ثناء اور طرح کی
دنیا کے کنارے سے

انجم رومانی (پیدائش: 28 ستمبر، 1920ء- وفات: 13 اپریل، 2001ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے ممتاز شاعر اور ماہر تعلیم تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

انجم رومانی 28 ستمبر، 1920ء کو سلطان پور لودھی، کپور تھلہ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام فضل دین تھا[1][2]۔ وہ 1948ء سے 1972ء تک ديال سنگھ کالج، لاہور میں شعبۂ ریاضی کے صدر اور 1972ء سے 1977ء تک اسی کالج کے وائس پرنسپل بھی رہے۔ وہ حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔[2]

ادبی خدمات[ترمیم]

انجم رومانی کی تصانف میں کوئے ملامت، پس انداز، دنیا کے کنارے سے اور ثناء اور طرح کی شامل ہیں جبکہ ان کے کلام کی کلیات کلیات انجم رومانی کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • ثناء اور طرح کی (نعتیں)
  • دنیا کے کنارے سے
  • پس انداز
  • کوئے ملامت
  • کلیات انجم رومانی
  • اقبال کا منتخب فارسی کلام (ترجمہ)

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

کچھ اجنبی سے لوگ تھے کچھ اجنبی سے ہم دنیا میں ہو نہ پائے شناسا کسی سے ہم
دیتے نہیں سجھائی جو دنیا کے خط و خال آئے ہیں تیرگی میں مگر روشنی سے ہم
یاں تو ہر ایک قدم پہ خلل ہے حواس کا اے خضر باز آئے تری ہم رہی سے ہم
دیتے ہیں لوگ آج اسے شاعری کا نام پڑھتے تھے لوحِ دل پہ کچھ آشفتگی سے ہم
رہتی ہے انجم ایک زمانے سے گفتگو کرتے نہیں کلام بظاہر کسی سے ہم

غزل

ہم سے بھی گاہے گاہے ملاقات چاہیے انسان ہیں سبھی تو مساوات چاہیے
اچھا چلو خدا نہ سہی ان کا کیا ہوا آخر کوئی قاضی حاجات چاہیے
ہے عاقبت خراب تو دنیا ہی ٹھیک ہو کوئی تو صورت گزر اوقات چاہیے
آئے گی ہم کو راس نہ یک رنگیٔ خلا اہلِ زمیں ہیں ہم ہمیں دن رات چاہیے
وا کردیئے ہیں علم نے دریائے معرفت اندھوں کو اب بھی کشف و کرامات چاہیے
جب قیس کی کہانی اب انجم کی داستان دنیا کو دل لگی کے لیے بات چاہیے

وفات[ترمیم]

انجم رومانی 13 اپریل، 2001ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں گلشن راوی کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]