اندرابھوتی گوتم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گوتم گندھر
گوتم
نشست پر بیٹھے اندرابھوتی گوتم کا تصویرچہ، تسبیح تھامے ہوئے اور شویتامبر سنیاسی قسم کے لباس میں، پندرہویں صدی۔
ذاتی معلومات
والدین
  • واسو بھوتی (والد)
  • پرتھوی (والدہ)
گوتم سوامی، کلپاسوتر، پراکرت مخطوطہ کا تصویرچہ، 1503ء (ویلکم کلکشن، لندن سے)
مندرا کے جین مندر میں اندرابھوتی گوتم کا مجسمہ
گوتم گندھر (دائیں) کی نقاشی، تیرتھنکر مہاویر کی ”دِویا دھونی“ (خدائی گفتگو) کو سنتے ہوئے۔

اندرابھوتی گوتم موجودہ نصف وقت کے چکر کے چوبیسویں اور آخری تیرتھنکر مہاویر کے گندھر (خاص شاگرد) تھے۔[1] ان کو گوتم گندھر اور گوتم سوامی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

نام[ترمیم]

ان کا پیدائشی نام اندرابھوتی گوتم تھا۔ وہ اپنے گوتر (قبیلہ) کی وجہ سے گوتم کہلاتے تھے۔ پراکرت کتب مقدسہ میں ان کو ”گویم“ بھی کہا گیا ہے۔

پیدائش[ترمیم]

وہ مگدھ سلطنت کے گاؤں ”گوچھ چھر“ میں براہمن میاں بیوی واسو بھوتی اور پرتھوی کے ہاں پیدا پوئے تھے۔

دگمبر روایت[ترمیم]

دگمبر مقدس کتاب شت کھنڈ آگم کے مطابق اِندر ایک بھکاری سنیاسی بن کر اندرابھوتی کے پاس آئے۔ اِندر نے ان سے حسب ذیل آیت کا مطلب پوچھا:

पंचेव अत्थिकाया छज्जीव णिकाया महव्वया पंच|
अट्ठयपवयण-मादा सहेउओ बंध-मोक्खो य||

جب وہ اس آیت کو بیان کرنے میں ناکام رہے تو اِندر نے ان کو مشورہ دیا کہ خداوند مہاویر کے سموشرن جائیں تاکہ وہ آیت کا مطلب جان پائیں۔ جب وہ خداوند مہاویر کے سموشرن، ان کے گندھاکوتی (गंधकुटी) کے مقام کو جا رہے تھے تو انھوں نے نہایت بلند مان استمبھ (فخر کا کھمبا) دیکھا۔ مان استمبھ کو دیکھتے ہی ان کا فخر ختم ہو گیا اور ان میں دوسرے کے مقابلے میں کمتری کا احساس پیدا ہو گیا۔ وہ پچاس سال کی عمر میں خداوند مہاویر کے خاص شاگرد بنے۔ جس دن انھوں نے دیکشا لی اس دن کو ”گرو پورنیما“ کے نام سے منایا جاتا ہے۔[حوالہ درکار] ان کے بھائی اگنی بھوتی اور وایو بھوتی دونوں اعلیٰ مرتبہ کے اسکالر تھے جو بعد میں خداوند مہاویر کے گندھر (خاص شاگرد) بھی بنے۔

شویتامبر روایت[ترمیم]

جین بھدر کی تصنیف ”گندھر کے ساتھ مناظرہ“ کی تفصیل کے مطابق براہمن عالم گوتم نے دیوتاؤں کو ایک عظیم قربانی کے لیے بلوایا لیکن جب دیوتاؤں نے سنا کہ نزدیک ہی مہاویر اپنے دوسرے سموشرن پر تبلیغ کر رہے ہیں تو وہ فرار ہو گئے۔[2] طیش میں آ کر گوتم نے مہاویر کے ساتھ مناظرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ مناظرہ میں مہاویر نے گوتم اور دوسرے دس براہمنوں کو شکست دی اور یقین دلایا کہ وہ چوبیسویں تیرتھنکر اور ہمہ دان ہیں اور مناظرہ میں موجود تمام براہمنوں کو اپنا معتقد بنا لیا۔[2]

شویتامبر کتب کے مطابق گوتم ”کیشی“ (جین مت کے 23ویں تیرتھنکر پارشوناتھ کے گندھر) سے ملاقات کر چکے تھے۔[3]

عقائد[ترمیم]

گوتم فلاح و بہبود کے کام کیا کرتے تھے اور وہ اپنی جادوئی طاقتوں سے کچھ سادھوؤں کو خوراک بھی فراہم کرتے تھے۔[4]

اکثر شویتامبر فرقے کے لوگ کتب میں گوتم کے نام کو نئے سال کی نیک شگونی کی علامت کے طور پر لکھتے ہیں۔[4]

ادب میں[ترمیم]

گوتم کا ”Exposition of Explainations“ میں مہاویر کے ترجمان کے طور پر ذکر ہے۔[2] اس میں مزید ذکر ہے کہ وہ اپنے پچھلے جنموں میں دوست تھے اور اپنے نئے جنم میں وہ دونوں ”موکش“ حاصل کریں گے۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حواشی[ترمیم]

  1. Teerthankar mahaveer aur unki acharya parampara by Dr. Nemi chandra shastry, Sagar, 1974 vol-1-4.
  2. ^ ا ب پ ت Dundas 2002، صفحہ۔ 37.
  3. von Glasenapp 1999، صفحہ۔ 35.
  4. ^ ا ب Dundas 2002، صفحہ۔ 39.

حوالہ جات[ترمیم]

  • Paul Dundas، The Jains، روٹلیج، آئی ایس بی این 0-415-26605-X
  • Outline of Jainism by S.Gopalan, published by Waily Estern Ltd.,New Delhi-110016 in 1969
  • Jaina Sutras, Translated from the Prakrit by Hermann Jacobi, 1884
  • Source at http://www.AtmaDharma.com
  • Scriptures