اندرون لاہور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اندرون لاہور کو پرانا لاہور بھی کہا جاتا ہے برصغیر میں مغلیہ دور حکومت کے دوران دشمن کے حملوں سے بچاؤ اور شہر لاہور کی حفاظت کے لئے اس کے اردگرد دیوار تعمیر کر دی گئی تھی۔ اس دیوار میں 13 دروازے بنائے گئے۔

لاہور کے دروازے[ترمیم]

اندرون لاہور میں بنائے گئے13دروازوں کے نام یہ ہیں: [1]

نام تصویر تفصیل
بھاٹی دروازہ Bhati Gate 3.JPG قدیم لاہور کے گرد قائم فصیل میں متعدد مقامات پر شہر میں داخلے کے لئے رکھے گئے دروازوں میں سے ایک اہم بھاٹی دروازہ، جو سید علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کی سمت واقع ہے۔
دہلی دروازہ Delhi Gate in 2014.JPG دہلی دروازہ لاہور، پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور کے مقام پر واقع ہے۔ دہلی دروازہ مغلیہ دور حکومت میں تعمیر کیا گیا اور یہ اندرون شہر کے راستوں پر تعمیر شدہ تیرہ دروازوں میں سے ایک ہے۔ جس علاقے میں یہ دروازہ واقع ہے وہ تاریخی لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور یہاں کئی یادگاریں، حویلیاں اور قدیم بازار واقع ہیں۔ مسجد وزیر خان بھی اسی درواز ےکے قریب واقع ہے
کشمیری دروازہ Kashmiri Gate 05.jpg کشمیری دروازہ، پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور کے مقام پر واقع ہے۔ یہ مغل دور حکومت میں تعمیر کیا گیا اور یہ اندرون شہر کے راستوں پر تعمیر شدہ تیرہ دروازوں میں سے ایک ہے۔ لاہور کا قدیم کشمیری بازار ادھر واقع ہے۔ مشہور سنہری مسجد بھی یہاں واقع ہے۔
لوہاری دروازہ Lahoreigatetoday.jpg لوہاری دروازہ لاہور، پاکستان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، جو اصلی حالت میں محفوظ ہے۔
روشنائی دروازہ Hazuri Bagh.JPG روشنائی دروازہ، اندرون شہر لاہور کی فصیل پر بنائے گئے تیرہ دروازوں میں سے ایک ہے، جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے۔ یہ دروازہ دوسرے مغلیہ دور میں تعمیر شدہ دروازوں سے اونچا اور چوڑا ہے۔ عالمگیری دروازے کے بعد مغلیہ فوج میں شامل ہاتھیوں کا دستہ اسی دروازے سے شہر میں داخل ہوا کرتا تھا۔ اسی دروازے سے ملحقہ حضوری باغ بھی تعمیر کیا گیا تھا۔
شیرانوالہ دروازہ Sheranwala gate lahore 02.jpg پاکستان کے شہر لاہور کا تاریخی دروازہ ہے۔ یہ فصیل شہر کے شمال مشرق کی جانب واقع ہے۔
مستی دروازہ Akbari-Gate-Lahore-Fort.jpg اکبری دروازہ جسے مستی دروازہ بھی کہا جاتا ہے لاہور، پاکستان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔

فہرست[ترمیم]

  1. بھاٹی دروازہ
  2. لوہاری دروازہ
  3. شاہ عالمی دروازہ
  4. موچی دروازہ
  5. اکبری دروازہ
  6. یکی دروازہ
  7. شیرانوالہ دروازہ
  8. کشمیری دروازہ
  9. مستی دروازہ
  10. دہلی دروازہ
  11. روشنائی دروازہ
  12. ٹکسالی دروازہ
  13. موری دروازہ

ان میں شاہ عالمی دروازہ، موچی دروازہ، اکبری دروازہ، یکی دروازہ، مستی دروازہ، ٹکسالی دروازہ اور موری دروازہ منہدم ہو چکے ہیں جبکہ بھاٹی دروازہ'، دہلی دروازہ، کشمیری دروازہ، لوہاری دروازہ، روشنائی دروازہ اور شیرانوالہ دروازہ آج بھی قائم ہیں۔

اندرون لاہور کے تاریخی مقامات[ترمیم]

  • قلعہ لاہور:
قلعہ لاہور

قلعہء لاہور، جسے مقامی طور پر شاہی قلعہ بھی کہا جاتا ہے، یہ اندرون شہر میں واقع ہے۔ گو کہ اس قلعہ کی تاریخ زمانہء قدیم سے جا ملتی ہے لیکن اس کی ازسرِ تعمیر مغل بادشاہ اکبر اعظم (1605-1556) نے کروائی جبکہ اکبر کے بعد آنے والی نسلیں بھی تزئین و آرائش کرتی رہیں۔ لہذٰا یہ قلعہ مغلیہ فنِ تعمیر و روایت کا ایک نہایت ہی شاندار نمونہ نظر آتاہے۔ قلعے کے اندر واقع چند مشہور مقامات میں شیش محل، عالمگیری دروازہ، نولکھا محل اور موتی مسجد شامل ہیں۔ 1981ء میں یونیسکو نے اس قلعے کو شالامار باغ کے ساتھ عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا۔

  • بادشاہی مسجد:
بادشاھی مسجد

بادشاہی مسجد 1673 میں اورنگزیب عالمگیر نے لاہور میں بنوائی۔ یہ عظیم الشان مسجد مغلوں کے دور کی ایک شاندار مثال ہے اور لاہور شہر کی شناخت بن چکی ہہے۔ یہ فیصل مسجد اسلام آباد کے بعد پورے پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے، جس میں بیک وقت 60 ہزار لوگ نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اس مسجد کا انداز تعمیر جامع مسجد دلی سے بہت ملتا جلتا ہے جو اورنگزیب کے والد شاہجہان نے 1648 میں تعمیر کروائی تھی۔

  • داتا دربار:
داتا دربار

داتا دربار لاہور، پاکستان کا بہت مشہور دربار یا مزار ہے جو تقریباً ایک ہزار سال سے موجود ہے۔ یہ سید علی بن عثمان الجلابی الھجویری الغزنوی ( سید علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش) کا مزار ہے۔ اس مزار کو لاہور کی ایک پہچان سمجھا جاتا ہے۔ جامعہ ہجویریہ جو ایک مسجد و مدرسہ ہے، اسی مزار کے ساتھ منسلک ہے۔ ابو الحسن علی ابن عثمان امام جلابی رحمہ اللہ تعالٰی هجویری رحمہ اللہ تعالٰی غزنوی یا ابوالقاسم حسن علی هجویری (عربی : علی بن عثمان الجلابی الهجویری الغزنوی) (کبھی کبھی هجویری ہجے) ، داتا گنج بخش (فارسی / اردو : داتا گنج بخش) یا داتا صاحب کے نام سے بھی مشہور ہیں، گیارویں صدی کے دوران ایک فارسی صوفی اور عالم تھے. انھوں نے کافی حد تک اسلام کے جنوبی ایشیا میں پھیلنے میں اہم کردار ادا کیا. آپ غزنی(آج افغانستان میں) میں پیدا ہوئے تھے غزنوی عہد کے ابتدائی ایام میں (990 عیسوی کے ارد گرد).. آپ کی سب سے مشہور کتاب کشف محجوب ہے . آپ نے حصول علم کی لئے بہت سے ممالک کا سفر کیا. آپ اپنی عمر کی آخری حصے میں لاہور تشریف لائے اور اسلام کی اشاعت کا کام شروع کیا. آپ کے ہاتھوں بیشمار لوگ مسلمان ھوے. آپ نے 1077 عیسوی میں لاہور (پنجاب ، پاکستان) میں ہی وفات پائی . آپ کا مزار لاہور میں آج بھی زائرین کے لئے انوار و تجلیات کا مرکز ہے اور بہت سے لوگ آپ کے وسیلہ سے الله کا قرب اور الله سے اپنی مشکلات کا حل پاتے ہیں۔

  • مسجد وزیر خان:
مسجد وزیر خان

مسجد وزیر خان اندرون شہر لاہور میں دہلی دروازہ، چوک رنگ محل اور موچی دروازہ سے تقریباً ایک فرلانگ کی دوری پر واقع ہے۔ مسجد کی بیرونی جانب ایک وسیع سرائے ہے جسے چوک وزیر خان کہا جاتا ہے۔ چوک کے تین محرابی دروازے ہیں: اول مشرقی جانب چٹا دروازہ، دوم شمالی جانب راجہ دینا ناتھ کی حویلی سے منسلک دروازہ، سوم شمالی زینے کا نزدیکی دروازہ۔

  • دیگر اہم مقامات:

مندرجہ بالا کے علاوہ کئی دیگرمقامات بھی اندرون شہر لاہور میں واقع ہیں جن میں قابل ذکر سنہری مسجد، مسجد مریم زمانی، ڈونگی مسجد اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مقبرہ، ہیں۔

  • حویلیاں:

اندرون شہر لاہور میں بہت سی حویلیاں بھی واقع ہیں جن میں کچھ اچھی حالت میں ہیں جبکہ باقی فوری توجہ کی طالب ہیں۔ بہت سی حویلیاں مغل اور سکھ طرز تعمیر کا نمونہ ہیں۔ اندرون شہر لاہور میں واقع چند مشہور حویلیاں درج زیل ہیں:

  • مبارک حویلی
  • چونہ منڈی حویلی
  • نونہال سنگھ کی حویلی
  • نثار حویلی
  • حویلی بارود خانہ

اور

  • سلمان سر ھندی کی حویلی
سمادھی مھاراجہ رنجیت سنگھ
  • دیگر مقامات:
  • شاہی حمام
  • سمادھی مھاراجہ رنجیت سنگھ
  • لال حویلی متصل موچی باغ
  • مغل حویلی (رہائش گاہ مھاراجہ رنجیت سنگھ)
  • حویلی سر واجد علی شاہ (نزد نثار حویلی)
  • حویلی میاں خان (رنگ محل)
  • حویلی شیر گڑھیاں (نزد لال کُھو)

مزید دیکھیں[ترمیم]

  1. https://www.youtube.com/watch?v=ppPuZwvPKIo