اندلس کی اموی خلافت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خلافت عباسیہ کے قائم ہونے کے بعد اندلس میں عبدالرحمٰن الداخل[1] نے حکومت بنائی، اندلس کبھی بھی خلافت عباسیہ کی قلمرو میں شامل نہ ہوا،[2] عبدالرحمان نے بھاگ کر اپنی جان بچائی،

یہ پیرا گراف تاریخ کا حصہ ہے خاندان بنو امیہ ایک شاندار ماضی[3]
خلیفہ اموی پیدائش تخت نشینی وفات

معزول

عبدالرحمان الداخل 756ء 138ھ 788ء

172ء

ہشام (اول)

عبدالرحمان دوم

محمد اول

منزر

عبد اللہ

عبدالرحمان ناصر

حکم

ہشام دوم

172ھ۔788ء

796ء

822 ء

856ء

886ء

888ء

912ء

961ء

796ء

823ء

856ء

886ء

888ء

912ء

961ء

976ء

ہشام کے بعد سلطنت کمزور ہو گئی 1030ء خاتمہ

جب دمشق پر خلافت عباسیہ نے اپنا قبضہ پکا کر لیا تو خاندان اموی کے افراد کا چن چن کے قتل عام شروع کر دیا، عبدالرحمان الداخل ، آخری اموی بادشاہ ہشام کا پوتا تھا، جو بھاگ نکلا، عبدالرحمان الداخل نے اپنی بہترین سپہ سالار اعظم کی حیثیت سے خود کو منوا لیا اور بے حد مصیبتوں کے بعد اندلس کی سلطنت کا مالک بن گیا ،

مدت خلافت[ترمیم]

امویوں نے اندلس کی سر زمین پر 284 برس حکومت کی[4]، اندلس میں اس طرح کا  شاندار اور بے حد کامیاب دور پھر کبھی نصیب نہیں ہوا، اس دور میں امویوں نے بےشمار فتوحات اور اصطلاحات کی،

مگر افسوس کی مسلمانوں نے قدر نہ کی اور اندلس سے مسلمان دربہ در ہو گئے،

عبد الرحمن کا طویل دور حکومت عرب اور بربر باشندوں کی بغاوتوں کیخلاف جدوجہد کرتے گزرا جن کی اکثریت آزادی چاہتی تھی۔ 763ء میں عبد الرحمن نے اپنے دار الحکومت کے قریب بھی ان باغیوں سے جنگ لڑی جو عباسیوں کی حمایت کر رہے تھی۔ اس نے فیصلہ کن فتح حاصل کی۔ آخری سالوں میں عبد الرحمن نے کئی محلاتی سازشوں کو بھی کچلا۔ اس نے فن تعمیر کے نادر شاہکار مسجد قرطبہ کی بنیاد رکھی جس کی تعمیر اس کے بیٹے اور جانشیں ہشام اول کے دور میں بھی جاری رہی۔ اس نے جس حکومت کو قائم کیا وہ 1031ء تک ہسپانیہ پر حکومت کرتی رہی۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مسلم سائنسدان۔
  2. مسلم سائنسدان۔
  3. مسلم سائنسدان۔
  4. مسلم سائنسدان۔
  5. Empty citation (معاونت)