انس بن مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انس بن مالک
(عربی میں: أنس بن مالكخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
انس بن مالک

معلومات شخصیت
پیدائش 10 ق ھ
یثرب
وفات 93ھ
بصرہ
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ
Umayyad Flag.svg خلافت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
کنیت ابو حمزہ، ابو ثمامہ
زوجہ زینب بنت نبیط
والد مالک بن نضر بن ضمضم
والدہ ام سلیم بنت ملحان
رشتے دار چاچا:
انس بن نضر
بھائی:
براء بن مالک
زید بن مالک
عملی زندگی
نسب النجاری الانصاری
یہ مشہور ہیں: خادم نبی محمد، صحابہ میں سے بصرہ میں وفات پانے والے آخری صحابی
ابن حجر کے نزدیک صحابی
ذہبی کے نزدیک صحابی
روایت کردہ حدیثوں کی تعداد 2،286 حدیثاً
استاد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،ابو ہریرہ،معاذ بن جبل،ابوذر غفاری،سلمان فارسی،عبداللہ بن رواحہ،عبد اللہ بن عباس،ابو موسیٰ اشعری،عبد اللہ بن مسعود  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں استاد (P1066) ویکی ڈیٹا پر
نمایاں شاگرد محمد بن سیرین،ابن شہاب زہری،سلیمان بن مہران الاعمش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
دلچسپی فقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ خیبر،غزوہ حنین،فتح مکہ،غزوہ طائف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

انس بن مالک صحابی اور محدث تھے۔ ہجرت کے کچھ عرصے بعد ان کی والدہ نے انہیں بطور خادم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سپرد کردیا۔ اس وقت ان کی عمر دس برس کی تھی۔ حضور کے زندگی بھر خادم رہے۔ عبداللہ بن زبیر کی طرف سے بصرہ کے امام مقرر ہوئے۔ حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن اشعث کی بغاوت میں ان کی شرکت کو ناپسند کیا۔ لیکن بعد میں خلیفہ عبدالملک بن مروان نے اس کی تلافی کر دی۔ اوراُن سے نہ صرف معذرت کی بلکہ اظہار عقیدت بھی کیا۔ آخر میں بصرہ میں قیام فرمایا ۔ اورکافی لمبی عمر پا کر انتقال فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں رہنے کی وجہ سے آپ سے بہت سی احادیث مروی ہیں۔ امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں زیادہ تر انہیں سے احادیث روایت کی ہیں۔ لیکن امام ابو حنیفہ ان کی بعض حدیثوں کو مستند قرار نہیں دیتے۔ آپ انس بن مالک ابن نضر انصاری خزرجی ہیں،حضور کے خادم خاص کے طور پر دس سال صحبت پاک میں رہے، سو برس سے زیادہ عمر پائی، عہد فاروقی میں بصرہ چلے گئے تھے، وہاں سے قریب ہی ایک مقام پر 93ھ؁ میں آپ کا انتقال ہوا، بصرہ میں آخری صحابی کی وفات آپ کی ہوئی،آپ کی قبر انور زیارت گاہ خاص و عام ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]