انشاء اللہ خان انشا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(انشاء اللہ خان سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
انشاء اللہ خان انشا
Insahullah.JPG

معلومات شخصیت
پیدائش 1 دسمبر 1752[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مرشد آباد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 19 مئی 1817 (65 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Fictional flag of the Mughal Empire.svg مغلیہ سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید انشاء اللہ خان انشاء (پیدائش: دسمبر 1752ء— وفات: 19 مئی 1817ء) میر ماشااللہ خان کے بیٹے تھے۔ جو ایک ماہر طبیب تھے۔ ان کے بزرگ نجف اشرف کے رہنے والے تھے۔ انشاءکے دادا سید نوراللہ خاں نجف میں طبابت کرتے تھے کہ بادشاہ دہلی فرخ سیئر نے انھیں اپنے علاج کے لیے ہندوستان کا بُلاوا بھیجا۔ وہ اپنے فرزند میر ماشاءاللہ خاں کے ہم راہ ہندوستان آئے اور بادشاہ کا علاج کیا۔ صحت یابی کے بعد بادشاہ نے انھیں خوب نوازا۔ چناں چہ وہ یہیں کے ہورہے۔ ان کے فرزند میر ماشاءاللہ خاں جوانی میں مرشد آباد چلے گئے تھے وہیں انھوں نے دو شادیاں کیں، انشاءاللہ خاں ان کی دوسری بیوی کے بطن سے تھے۔ مغلیہ عہد میں ہندوستان تشریف لائے۔ کئی پشتیں بادشاہوں کی رکاب میں گزارنے کے بعد جب مغل حکومت کو زوال آیا تو ماشاء اللہ خان دہلی چھوڑ کر مرشد آباد چلے گئے۔ جہاں 1756ء انشاء پیدا ہوئے۔

انشاء کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل،ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اوراردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔ یہی نہیں بلکہ انشاء پہلے ہندوستانی ہیں جنہوں نے دریائے لطافت کے نام سے زبان و بیان کے قواعد پرروشنی ڈالی۔ انشاء نے 1817ء میں لکھنؤ میں وفات پائی۔

انشاء نے غزل میں الفاظ کے متنوع استعمال سے تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی اور اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ تاہم بعض اوقات محض قافیہ پیمائی اور ابتذال کا احساس بھی ہوتا ہے۔ انشاء کی غزل کا عاشق لکھنوی تمدن کا نمائندہ بانکا ہے۔ جس نے بعد ازاں روایتی حیثیت اختیار کر لی جس حاضر جوابی اور بذلہ سنجی نے انہیں نواب سعادت علی خاں کا چہیتا بنا دیا تھا۔ اس نے غزل میں مزاح کی ایک نئی طرح بھی ڈالی۔ زبان میں دہلی کی گھلاوٹ برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ اس لیے اشعار میں زبان کے ساتھ ساتھ جو چیز دگر ہے اسے محض انشائیت ہی سے موسوم کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL375606A — بنام: Insha'allah Khan Insha' — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: آرون سوارٹز — اجازت نامہ: GNU Affero General Public License, version 3.0
  2. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 5 مارچ 2020 — ناشر: Bibliographic Agency for Higher Education