انعام الحق جاوید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ڈاکٹر انعام الحق جاوید اردو اور پنجابی زبان کے شاعر ،محقق اور نقاد ہیں۔

ولادت[ترمیم]

ڈاکٹر انعام الحق 6 جون 1949ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔

علمی کام[ترمیم]

پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔ اے اردو اور ایم اے پنجابی امتیازی حیثیت (گولڈ میڈل) سے پاس کیا۔ پنجاب یونیورسٹی ہی سے پنجابی زبان میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ’’چیئرمین شعبۂ پاکستانی زبانیں ‘‘ اور’’ڈین فیکلٹی آف سوشل سائنسز‘‘ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اوپن یونیورسٹی میں انہوں نے ’’ایم فل‘‘ اور ’’پی ایچ ڈی‘‘ برائے پاکستانی زبانیں و ادب کا اجرا کیا جو قومی یکجہتی اور لسانی ہم آہنگی کے فروغ کے حوالے سے منفرد نوعیت کے اہم پروگرام ہیں۔ ان پروگراموں میں دلچسپی رکھنے والے طلبہ کے لیے انہوں نے 12 کتابیں مرتب کیں۔ 60 سے زائد تحقیقی و تنقیدی مقالات کے علاوہ اردو، پنجابی اورانگریزی میں تحقیق و تنقید اور تراجم پر مبنی 22 کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں سے دو کتابوں پر اعلیٰ سطح کے حکومتی ایوارڈ (خوشحال خان خٹک اور جام درک ایوارڈ) دیے گئے جب کہ ایک کتاب پر رائٹرز گلڈ ایوارڈ، ایک کتاب پر میاں محمد بخش ایوارڈ، (برطانیہ) اور ایک کتاب پر کاروان ادب ایوارڈ (برطانیہ) دیا گیا۔ 2005ء میں انہیں جشن ساحر لدھیانوی کے موقع پر ’’ادیب ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا جبکہ 2009ء میں حکومت پاکستان نے ان کو صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔

بحیثیت شاعر[ترمیم]

بحیثیت اسکالر اور شاعر امریکا، برطانیہ، قطر، دبئی، مسقط، ناروے، سعودی عرب، ایران، تھائی لینڈ، فرانس، اٹلی اور جرمنی سمیت کئی ممالک میں متعدد مرتبہ پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں، اب تک ان کے 21 شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں، پہلے شعری مجموعہ ’’خوش بیانیاں ‘‘پر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن لینگوئجز کی طالبہ عائشہ نے 2000ء میں ایم اے کا مقالہ تحریک کیا، آنسہ شہلا گل نے 2013ء میں ’’ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی مزاحیہ شاعری کا موضوعاتی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ سے ایم فل کا مقالہ لکھا۔ ان کا کلام میٹرک اور ایف اے پنجابی/اردو کے نصاب میں شامل ہے جبکہ تحقیقی کتاب ’’پنجابی ادب دا ارتقا‘‘ کئی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ سطح نصاب کا حصہ ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے سینکڑوں اردو/پنجابی ادبی پروگراموں اور مشاعروں میں بطور کمپیئر، شاعر اور اسکالر شرکت کی اور برسوں چلنے والے پنجابی ادبی پروگرام ’’سانجھاں ‘‘ کے علاوہ اڑھائی سال تک ’’سخن رنگ‘‘ کے نام سے نئی کتابوں کے تعارف پر مبنی ہفتہ وار ادبی پروگرام پیش کیا جو صبح آٹھ بجے روشن پاکستان میں براہ راست ٹیلی کاسٹ ہوتا رہا، ان کا کلام آڈیو اور ویڈیو پر بھی منتقل ہوچکا ہے۔

عملی زندگی[ترمیم]

ملازمت کا باقاعدہ آغاز 1981ء میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں ریسرچ آفیسر کے طور پر کیا۔ 1984ء میں مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد سے منسلک ہو گئے جہاں ماہ نامہ رسالہ ’’اخبار اردو‘‘ کے مدیر اور شعبہ دارالتصنیف کے انچارج کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں، جون 1997ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں وابستگی اختیار کی، بعد ازاں اگست 2011ء میں پرووائس چانسلر الخیر یونیورسٹی کا منصب سنبھالا، ان دنوں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر ہیں۔

تصنیفات[ترمیم]

  • قائد اعظم پاکستانی زبانوں کے آئینے میں
  • صلاح الدین ناصر: ایک ورسٹائل شاعر اور سفیرِ نعت
  • برطانیہ میں اُردو کے چار سال
  • پرکہاں
  • پنجابی ادب دا ارتقا 1988ء - 1947ء
  • رانگ نمبر
  • پنجابی ڈراما
  • تبسم طرازیاں
  • کَکر تھلے
  • بیرونی ممالک میں اُردو
  • ساتویں سمت
  • خوش کلامیاں
  • کشتیٔ زعفران
  • سو بٹا سو
  • لا یعنی
  • گلہائے تبسم
  • زندگی کے صحرا میں
  • کوئے ظرافت
  • خوش بیانیاں [1]
  • بکرا منڈی
  • دیوان خاص[2]

حوالہ جات[ترمیم]