انور حسین (کرکٹ کھلاڑی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
انور حسین کھوکھر ٹیسٹ کیپ نمبر 2
Anwer Hussain.jpeg
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیدائیں ہاتھ سے
گیند بازیدائیں بازو فاسٹ میڈیم
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ فرسٹ کلاس
میچ 4 45
رنز بنائے 42 1511
بیٹنگ اوسط 7.00 26.98
100s/50s -/- -/12
ٹاپ اسکور 17 81
گیندیں کرائیں 36 2910
وکٹ 1 36
بولنگ اوسط 29.00 36.02
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ
بہترین بولنگ 1/25 4/66
کیچ/سٹمپ -/- 14/-

انور حسین کھوکھر انگریزی:Anwar Hussain (پیدائش: 16 جولائی 1920ء لاہور، پنجاب) | (وفات : 9 اکتوبر 2002ء لاہور، پنجاب) ایک پاکستانی کرکٹر تھے۔[1]انورحسین کا شمار بھی انہی کھلاڑیوں میں ہوتاہے جو پاکستان کی اس اولین ٹیسٹ ٹیم کاحصہ تھے جس نے1952-53ء میں بھارت کادورہ کیا۔اس سیریز کے 4 ٹیسٹوں میں وہ کوئی قابل ذکر کارکردگی نہ دکھا سکے کیونکہ وہ صرف 42 رنز بنانے کے ساتھ صرف ایک وکٹ کا حصول بہت سے لوگوں کے لیے مایوسی کاباعث بنا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس کے بعد دوبارہ کبھی قومی ٹیم میں شامل نہیں کیے گئے۔

ابتدائی زمانہ[ترمیم]

انورحسین کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے پہلی پھینکی جانے والی گیند کاسامنا کرنے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ جب دسمبر1947ء میں مغربی پنجاب اور سندھ کامقابلہ ہوا تھا۔تاہم اس وقت ان کواندازہ نہیں تھا کہ وہ جس گیند کو کھیل رہے ہیں آنے والے وقت میں یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا فرسٹ کلاس میچ کہلائے گا تاہم 1990ء کی دہائی میں اس فرسٹ کلاس میچ کو پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کاآغاز قرار دے دیا گیا۔ انور حسین نے 20 سال کی عمرمیں دی ریسٹ کے خلاف 41-1940ء میں پتن گولر سے کیا تھا بعض ازاں انہوں نے نارتھ بھارت اور بمبئی کے لیے رنجی ٹرافی میں شرکت کی۔ وہ اولین نمبروں پر بیٹنگ کرتے اور میڈیم فاسٹ بائولنگ کرتے تھے۔ پاکستان کے آزاد ہونے کے بعد انہوں نے دو اہم موقعوں پر شاندار کارکردگی کامظاہرہ کیا۔66 رنز کے عوض4وکٹ اور81 رنزکی شاندارباری بھی ان کے کھاتے میں درج ہو گئی۔اس کے بعد ان کو لاہور میں منعقدہ غیر سرکاری ٹیسٹ کے لیے منتخب کرلیاگیا اسی سیزن میں سیلون(موجودہ سری لنکا) کا دورہ بھی کیا۔دسمبر1951ء میں کراچی کے مقام پر ایم سی سی کے خلاف ان کے48 رنز ایک شاہکارباری تھی جس کے دوران میں انہوںنے اپنے کپتان عبدالحفیظ کاردارکے ساتھ83 رنز کی شراکت میں حصہ لیا یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسی باری کی بدولت وہ پاکستان کو فتح کے نزدیک لے گئے جس کی بنا پر پاکستان کو ٹیسٹ کرکٹ کاسٹیٹس ملا۔اسی کے اعتراف میں انورحسین کو جولائی کو بھارت جانے والی ٹیم کانائب کپتان بنا دیاگیا۔ 1954-55ء میں انہوں نے کراچی ٹیم کی بھی قیادت کی تاہم فائنل میں ان کی جگہ 20 سالہ حنیف محمد کو کپتان بنا دیا گیا جنہوں نے اپنے بھائیوں رئیس محمد اور وزیر محمد کے ساتھ مل کر کراچی کو 9 وکٹوں سے فتح دلائی اسی میں حنیف محمد کی سنچری داد کے لائق تھی جس کی وجہ سے انورحسین کاسفر مسدود ہو گیا۔

ٹیسٹ کیریئر کا آغاز[ترمیم]

انورحسین شاید اس لحاظ سے بھی بدقسمت تھے کہ وہ پاکستان کی پہلی ٹیسٹ ٹیم میں اپنے انتخاب کودرست ثابت نہ کر سکے۔دہلی میں منعقدہ پہلے ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں 4/4 رنزکی باری تک محدود رہے جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں لکھنئو کے مقام پر 5 رنز ہی بنا سکے۔اسی وجہ سے تیسرے ٹیسٹ میں انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔تاہم حیرت انگیز طور پر سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میں چنائی کے مقام پر وہ واپس آئے مگر 17 رنز پر وہ رن آئوٹ ہو گئے۔پانچویں ٹیسٹ میں بھی وہ 9 رنز ہی بنا پائے تھے کہ ایل بی ڈبلیو قرار دیے گئے۔ جبکہ بائولنگ میں انہوں نے 25رنز کے عوض صرف ایک وکٹ حاصل کی۔ دوسری اننگز میں وہ پھر کوئی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور 3 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئے یہ ان کا آخری ٹیسٹ میچ تھا۔

اعداد و شمار[ترمیم]

انور حسین کھوکھر نے 4 ٹیسٹ میچوں کی 6 اننگز میں 17 کے سب زیادہ انفرادی سکور کے ساتھ 42 رنز بنائے۔ ان کی فی اننگ اوسط 7.00 رہی جبکہ فرسٹ کلاس میچوں میں انہوں نے 45 میچوں کی 65 اننگز میں 9 مرتبہ نائٹ آئوٹ رہ کر 1511 رنز سکور کئے جس میں 81 ان کا سب سے بڑا انفرادی سکور تھا اور 12 نصف سنچریوں کی مدد سے بننے والے اس مجموعہ کی اوسط 26.98 تھی۔ بولنگ میں انہوں نے ٹیسٹ میچوں میں ایک جبکہ فرسٹ کلاس میچوں میں 26 وکٹیں بھی حاصل کیں۔ فرسٹ کلاس میچوں میں ان کی کسی ایک اننگ میں بہترین بولنگ 66/4 تھی جبکہ ان کی بولنگ اوسط 36.02 رہی[2]

وفات[ترمیم]

پاکستانی کرکٹ ٹیم میں ٹیسٹ کیپ نمبر 2حاصل کرنیوالے انورحسین 82 سال 85 دن کی عمر میں جگر کے کینسر کی وجہ سے9 اکتوبر 2002ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Anwar Hussain (cricketer)". 
  2. https://www.espncricinfo.com/player/anwar-hussain-39001

حوالہ جات[ترمیم]