انور سجاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر انور سجاد
پیدائش سیّد محمد سجاد انور علی بخاری
27 مئی 1935(1935-05-27)ء
لاہور، موجودہ پاکستان
قلمی نام ڈاکٹر انور سجاد
پیشہ ناول نگار، افسانہ نگار، اداکار، ڈراما نویس
زبان اردو
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل پنجابی
تعلیم ایم بی بی ایس
مادر علمی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج
اصناف افسانہ، ناول، ڈراما
ادبی تحریک حلقہ ارباب ذوق
نمایاں کام رگِ سنگ
پہلی کہانیاں
چوراہا
استعارے
رات کا پچھلا پہر
خوشيوں کا باغ
اہم اعزازات صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

ڈاکٹر انور سجاد (پیدائش: 27 مئی، 1935ء) پاکستان کے بقید حیات مشہور اردو افسانہ نگار، ناول نگار، اداکار اور ڈراما نویس ہیں جو اپنے افسانوں میں علامت نگاری کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر انور سجاد 27 مئی، 1935ء کو لاہور، موجودہ پاکستان میں پیدا ہوئے[1]۔ ان کا اصل نام سیّد محمد سجاد انور علی بخاری ہے۔[2] انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کیا۔ پھر ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ کا امتحان لندن سے پاس کیا۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

انور سجاد کی شخصیت پہلو دار ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں۔ نظریاتی وابستگی انہیں سیاست تک لے آئی۔ اسٹیج، ٹیلی وژن کی قوتِ اظہار سے واقف ہیں چنانچہ ڈراما نویس بھی ہیں اور کامیاب اداکار بھی۔ ایک طاقتور برش پر انگلیاں جمانے کا فن جانتے ہیں اور جدید افسانے کا ایک معتبر نام ہیں۔ وہ اپنی شخصیت اور روحِ عصر کے اظہار کے لیے تمام شعبوں میں یکساں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے یہ تمام پہلو ان کی افسانہ نگاری میں کسی نہ کسی طرح ظاہر ہوئے ہیں۔ وہ اشیاء کو باطنی ویژن سے دیکھتے ہیں جس کی مثالیں ان کے افسانوں میں ملتی ہیں۔[3] اپنے افسانوں میں انہوں نے حقیقت کو Fantasy کے روپ میں بیان کرنے کے لیے نئی نئی تکنیک استعمال کی ہیں۔ استعارے اور علامتوں کی بھرمار سے انہوں نے Inside out کی طرف سفر کیا اور مشاہدے باطن کی دھندلی پر چھائیوں سے عصری حقیقت بیان کی ہے۔ سیاسی اور معاشی ناہمواری ان کے موضوع خاص ہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد کا پہلا ناولٹ رگ سنگ 1955ء میں شائع ہوا۔ دیگر کتابوں میں استعارے 1970ء، آج، پہلی کہانیاں ، چوراہا، خوشیوں کا باغ اور دیگر شامل ہیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • رگ سنگ
  • استعارے
  • آج
  • پہلی کہانیاں
  • چوراہا
  • زرد کونپل
  • خوشیوں کا باغ
  • نگار خانہ
  • صبا اور سمندر
  • جنم روپ
  • نیلی نوٹ بُک
  • رسی کی زنجیر
  • مجموعہ ڈاکٹر انور سجاد

اعزازات[ترمیم]

ڈاکٹر انور سجاد کو 1989ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔[1]

ناقدین کی رائے[ترمیم]

ممتاز نقاد شمس الرحمٰن فاروقی، ڈاکٹر انور سجاد کے فن کے بارے میں کہتے ہیں :

انور سجاد کے افسانے سماجی تاریخ نہیں بنتے بلکہ اس سے عظیم تر حقیقت بنتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے یہاں انسان یعنی کردار، علامت بن جاتے ہیں۔ یہ بات قابلِ لحاظ ہے کہ انور سجاد کے کردار بے نام ہوتے ہیں اور وہ انہیں ایسی صفات کے ذریعے مشخص کرتے ہیں جو انہیں کسی طبقے یا قوم سے زیادہ جسمانی یا ذہنی کیفیات کے ذریعے تقریباً دیو مالائی فضا سے متعلق کردیتے اور خطِ مستقیم کی بجائے دائرے کا تاثر پیدا کرتے ہیں۔[4]

ممتاز شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر انور سجاد کی تکنیک اور اسلوب کے بارے میں کہتے ہیں :

انور سجاد کے افسانوں کے اسلوب پر غور کرتے ہوئے مجھے غزل بہت یاد آئی۔ شعور کی رو میں ایک غیر شعوری باظنی ربط ضرور ہوتا ہے۔ یہی ربط ایک اچھی غزل میں بھی موجود ہوتا ہے۔ یوں اردو کی یہ صنف جدید ذہن کے قریب پہنچ جاتی ہے۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ڈاکٹر انور سجاد، پاکستانی کنیکشنز، برمنگھم برطانیہ
  2. ڈاکٹر انور سجاد، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
  3. ص 296، اردو افسانہ: فنی و تکنیکی مطالعہ، ڈاکٹر نکہت ریحانہ خان، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، طبع اول نومبر 1986ء
  4. ص 513، اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات (پی ایچ ڈی مقالہ)، مقالہ نگار فوزیہ اسلم، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز، اسلام آباد، اکتوبر 2005ء
  5. ص 518، اردو افسانے میں اسلوب اور تکنیک کے تجربات (پی ایچ ڈی مقالہ)، مقالہ نگار فوزیہ اسلم، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز، اسلام آباد، اکتوبر 2005ء