انڈتوا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انڈتوا[ترمیم]

انڈتوا (Inditva) بھارت کے سابق صدركےآر نارائنن کا پیش کردہ تصور ہے جس کا کہ ہندوتوا سے براہ راست طور پر ٹکراؤ ہے۔ 13 اگست 2002 کو صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گودھرا سانحہ کے بعد گجرات فسادات اور متعلقہ فرقہ وارانہ امور انہیں سب سے پریشان کرتے تھے کیونکہ یہ بڑا بہت ہی زیادہ اور دور رس حد تک کے نتائج پر محیط تھا۔ ``یہ قوم کے مستقبل سے تعلق رکھتا ہے، قوم کی وحدت کو متاثر کرتا ہے اور میں ان سب طرح کے واقعات سے فکرمند تھا۔ ایک صدر کے طور پر، میں نے اکثر بے سہارا محسوس کیا تھا۔ جب کئی وفد میرے پاس آتے تھے اور مجھ سے ان کے مسائل بتاتے تھے، میں اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ گجرات لاچاري کی ایک اہم مثال تھی۔[1]

انڈتوا کی حمایت / اس کا حوالہ[ترمیم]

انسانی حقوق کا غیر سرکاری ادارہ انڈین سوشل انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی کے کے سامو، سینئر تکنیکی افسر،[2] نے جو ‘‘دستاویز اقلیتیں 2002‘‘ مرتب کیا، اس میں خصوصیت سے : كے آر نارائنن کی اس نظریے کا حوالہ دیا ہے جس میں بھارت میں خیر سگالی کے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔[3]

انڈتوا کی تنقید / مضحکہ خیز حوالہ[ترمیم]

حالانکہ سیاسی اورتعلیمی حلقوں میں " انڈتوا" لفظ کا استعمال کم ہی رہا ہے، لیکن ہندوتوا کے حامیوں کی تنقید اور سماجی نیٹ ورکنگ سائٹس اور بلاگز پر لفظ کا مذاق اڑايا گیا ہے۔ ایسے ہی ایک کارکن ونود شرما نے ایک بلاگ میں لکھا ہے جس کا عنوان ہے "مودی کا انڈتوا"، اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ "مودی نے اصلی فرقہ پرستی کے زہر سے بھارت کو بچایا جسے سیکولرازم کی آڑ میں پھیلایا جا رہا تھا۔" [4]

ناولوں میں انڈتوا کا استعمال[ترمیم]

مشہور ناول نگار اشوک بنگر اپنی ناولوں میں انڈتوا کا نکثرت استعمال کر چکے ہیں۔ وہ اپنی ناول Armies of Hanuman میں انڈتوا کی ہندوتوا پر فوقیت کو یوں بیان کرتے ہیں[5]:

You understood that it's not about 'hindutva' and the politics of religion, but about 'inditva', Indian pride, and a story too great to be either saffronised or sanitised.

اسی طرح وہ اپنی ایک اور ناول Demons of Chitrakut میں دوبارہ انڈتوا کی اہمیت بیان کرتے ہوئے یہی جملے کا دوبارہ اعادہ کرتے ہیں۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

ماخذ[ترمیم]