انڈس کوہستانی زبان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

انڈس کوہستانی زبان کا لسانی تعلق: ہندیورپی> ہندایرانی> ہندآرہائی> شمال مغربی لسانی گروہ>داردی> کوہستانی لسانی گروہ>انڈس کوہستانی

لسانی علاقہ و آبادی:

  • 1۔ ضلع لوئر کوہستان: دریائے سندھ کےمغربی علاقے بنکھڈ، دُبیر، پٹن، ججیال، کیال اور ضلع اپر کوہستان: دریائے سندھ کےمغربی علاقے سیؤ، رزقہ اور کھندیا وادی۔

2۔ سرینگر، کشمیر

زبان والوں کی موجودہ تعداد: 279079 تک (ِ2017)

انڈس کوہستانی زبان داردی لسانی گروہ کی کوہستانی ذیلی شاخ سے تعلق رکھتی ہے جو ضلع لوئر کوہستان اور اپر کوہستان میں وادی کھندیا، سیؤ اور رزکہ کے علاقہ میں بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اس زبان کے بولنے کو کچھ تعداد سرینگر کشمیر میں بھی پائی جاتی ہے جو قدیم وقتوں میں انڈس کوہستان سے نقل مکانی کر گئے تھے۔

یہ شینا کوہستانی زبان کی ہمسایہ زبان ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ بھاری لُغوی لسانی اشتراک پایا جاتا ہے۔ اس زبان میں بہت کم تحریری مواد پایا جاتا۔ پُرانے وقتوں اور کتابوں میں اس زُبان کو ”مَائیاں یا مَئییاں“ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ مقامی سطح پر اس زُبان کو کِھلچو/کِھلوچی، پَٹون٘چی، دُبیری بھی کہا جاتا ہے۔ محقیقین اس زُبان کو انڈس کوہستانی کا نام دیتے ہیں تا کہ کوہستانی زبانوں کے ذیلی گروہ میں اسے انڈس کوہستان سے شناخت کیا جا سکے۔ اس زُبان میں قرآن مجید کی تفسیر مولانا غلام عیسی مرحوم کئی سال پہلے لکھ چکے ہیں۔ ایک ابتدائی قاعدہ جناب م ش رشید اور ایک کہاؤتوں کی کتاب جناب طالب جان آباسندھی نے مرتب اور شائع کی ہے تاہم بہت کم تحریری مواد پایا جاتا ہے۔انگریزی زُبان میں اس کی ایک اہم لُغت جناب کلوز پیٹر زولر نے شائع کی ہے۔

اس زبان میں میں روایتی لوک ادب اور لوک شاعری کی کئی اصناف پائی جاتی ہیں۔ اس زبان میں ریڈیائی پروگرام بھی نشر ہو رہے ہیں۔ شینا کوہستانی اور انڈس کوہستانی زبان کے بیچ دریائے سندھ واقع ہے تا ہم تجارتی مراکز کمیلا، پٹن، پالس، ججیال اور دُبیر میں دونوں زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں اس لیے لسانی اشتراک میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔