انڈس کوہستانی زبان
| انڈس کوہستانی | |
|---|---|
| دیس | ضلع لوئر کوہستان: دریائے سندھ کے مغربی علاقے بنکھڈ، دُبیر، پٹن، ججیال، کیال ضلع اپر کوہستان: دریائے سندھ کے مغربی علاقے سیؤ، رزقہ اور تمام کھندیا وادی |
| خطہ | پاکستان |
| 279079 سے زائد (2017ء) | |
ہند-یورپی
| |
| فارسی-عربی | |
| رموزِ زبان | |
| آیزو 639-3 | – |
انڈس کوہستانی زبان داردی لسانی گروہ کی کوہستانی ذیلی شاخ سے تعلق رکھتی ہے جو ضلع لوئر کوہستان اور اپر کوہستان میں وادی کھندیا، سیؤ اور رزکہ کے علاقہ میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کے بولنے والوں کی ایک چھوٹی بستی کھندیا سے ملحق علاقہ تانگر میں پائی جاتی ہے۔[1]
ڈاکٹر بدرس مرحوم نے اس زبان پر کام کیا ہے اور اسے کھنوالی کا نام دیا ہے۔ اس زبان کو ڈاکٹر لٹنر (1893ء) نے “Shuthun”، ماہر لسانیات گریرسن (1928ء) نے “Maiya” اور جناب Fussman (1989ء) نے “Maiyan” کا نام دیا ہے۔ ممکن ہے کہ کسی دور میں یہ زبان یہاں کے ایک بڑے قبیلے ”منی“ کی مناسبت سے ”منِیا“ یا ”مایاں“ کہلاتی رہی ہو۔ آج کل مقامی سطح پر اس زبان کو لہجوں کے اعتبار سے کھلوچی/کھلچیا، پٹونڅی اور دوبیری کا علاقائی نام بھی دیا جاتا ہے۔ اس زبان کا اپنا کوئی محفوظ اور مخصوص نام نہ ہونے کی وجہ سے جدید محققین نے اس زُبان کو انڈس کوہستانی کا نام دیا ہے تاکہ کوہستانی زبانوں کے ذیلی گروہ میں اسے توروالی اور گاؤری زبان سے الگ شناخت دی جا سکے۔ اس زبان کے بولنے والوں کی ایک محدود تعداد ان کوہستانیوں کی بھی ہے جو قدیم وقتوں میں وادی دوبیر سے نقل مکانی کے بعد جموں کشمیر میں جا کر آباد ہو گئے تھے۔
یہ شینا کوہستانی، بٹیڑی، گباری اور چھلسیو کی ہمسایہ زبان ہے اور ان تمام زبانوں میں ایک دوسرے کے ساتھ لُغوی اشتراک پایا جاتا ہے۔ اس زبان میں بہت کم تحریری مواد موجود ہے۔ مایو زُبان میں قرآن مجید کی ایک تفسیر مولانا غلام عیسی مرحوم کئی سال پہلے شائع چکے ہیں۔ اس زبان کا ایک ابتدائی قاعدہ جناب م ش راشید ، ایک کہاوتوں اور چالیس حدیثوں کا کتابچہ جناب طالب جان آباسندھی نے شائع کیا ہے۔ انڈس کوہستانی زبان میں غیر مطبوعہ ابتدائی کام قاعدے کی شکل میں مولاناسید عبد الحق شاہ مرحوم نے 1930 کی دہائی کے اخیر میں کیا جس کے کچھ حصے آج بھی دستیاب ہیں۔ انگریزی زُبان میں اس کی ایک اہم لُغت جناب کلوز پیٹر زولر نے شائع کی ہے۔ اس کے علاوہ ایس آئی ایل نے بھی اس زبان پر تحقیقی مواد شائع کیا ہے۔ اس زبان میں روایتی لوک ادب اور لوک شاعری کی کئی اصناف پائی جاتی ہیں۔ اس میں ریڈیائی پروگرام بھی نشر ہو رہے ہیں۔ شینا کوہستانی اور انڈس کوہستانی زبان کے بیچ دریائے سندھ واقع ہے تاہم تجارتی مراکز کمیلا، پٹن، پالس، ججیال اور دُبیر میں دونوں زبانیں بولی اور سمجھی جاتی ہیں اور مقامی لوگوں کی رابطہ کی زبانیں ہیں۔ اس کے دوسرے نام اباسندھ کوہستانی، اباسیْن کوہستانی، کوستَیں، کِھلچو/کِھلوچی ، پَٹونْچی، دُبیری ہیں۔
اس زبان کو ایک علاقائی زبان دینے کا مطالبہ 2015ء سے زور پکڑ رہا ہے جبکہ ایک اعلٰی وفد نے ریاستی وزیر اعلٰی سے ملکر اس بات کا مطالبہ کیا تھا۔[2] اس زبان کا نام ”انڈس کوہستانی“ بہت ہی جدید نام ہے جو لسانی تحقیق کرنے والوں نے اہنی سہولت کے لیے دیا ہے اہل زبان نے نہیں۔ اہل زبان اسے اپنے مخصوص نام ” کوستَئیں“ یا پھر کِھلچو/کِھلوچی، پَٹونچی، دُبیری کا نام دیتے ہیں۔ یہ علاقہ بحرین کی زبان توروالی کے قریب ہے۔
فقرہ کی ساخت
[ترمیم]اُردو زبان کی طرح انڈس کوہستانی صرف و نحو میں فقرہ کی ساخت فاعل-مفعول-فعل انداز میں ہوتی ہے۔ مثلاً فقرہ مہ چائے پوم تُھو یعنی میں چائے پیتا ہوں۔
بولیاں
[ترمیم]بنیادی طور پر اس زبان کے دو لہجے ہیں
- منی
- منذری