اوابین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نمازِ مغرب کے فرض پڑھ کر چھ رکعتیں پڑھنا مستحب ہیں، ان کو صلوٰۃ الاوابین اور نماز اوابین بھی کہتے ہیں خواہ ایک سلام سے پڑھے یا دو سے یا تین سے اور تین سلام سے پڑھنا یعنی ہر دو رکعت پر سلام پھیر نا افضل ہے اور اگر ایک ہی نیت سے چھ رکعتیں پڑھیں تو ان میں پہلی دو سنت موکدہ ہوں گی۔ باقی چار نفل۔

حدیث میں ہے کہ {{اقتباس|جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور ان کے درمیان کوئی بری بات نہ کہے تو بارہ برس کی عبادت کے برابر لکھی جائیں گی۔ [1]}

}مَنْ صَلَّى بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيمَا بَيْنَهُنَّ بِسُوءٍ عُدِلْنَ لَهُ بِعِبَادَةِ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ سَنَةً. ” جس نے مغرب کے بعد چھ رکعات پڑھیں اور ان کے درمیان میں کوئی بری بات نہ کی تو یہ رکعات اس کے لئے بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوں گی۔“ (سنن الترمذی: ۴۳۵)🚫 سخت ضعیف : یہ روایت سخت ضعیف ہے، کیونکہ؛ ۱: اس کا راوی عمر بن أبی خثعم "ضعیف" ہے۔ (تقریب التہذیب: ۴۹۲۸) ٭امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : "میں نے محمد بن اسماعیل(امام بخاری رحمہ اللہ) سے سنا ہے کہ انہوں نے کہا عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم منکر الحدیث ہے۔" ٭ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہین اس کی کوئی اصل نہیں۔ (الفوائد المجموعة : ص ۴۳۷)

٭امام صغانی رحمہ اللہ نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے۔ (موضوعات: ص ۵۰)
حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (تخریج الاحیاء : ۲۶۱/۸)

٭ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سخت ضعیف کہا ہے۔(۴۶۹)



مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات کی فضیلت

مَنْ صَلَّى بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ عِشْرِينَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ . ” جس نے مغرب اور عشاء کے درمیان بیس رکعات پڑھیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائیں گے۔“ (ابن ماجه: ۱۳۷۳)


موضوع (من گھڑت): یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے۔ ۱ :اس کا راوی یعقوب بن ولید "کذاب" ہے۔امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ نے اسے کذاب کہا ہے۔(تقریب التہذیب: ۷۸۳۵) ٭علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ (ضعیف الجامع: ۵۶۶۲) واب۔ بہت رجوع کرنے والا۔ بہت تسبیح خوان۔[2] ابن ابی حاتم نے عمر و بن شرجیل رحمہ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’’ الاواب‘‘ حبشہ کی لغت میں تسبیح بیان کرنے والے کو کہتے ہیں۔[3]



اوابین کا وقت صحیح مسلم کی حدیث کی روشنی میں🕌🏜 Sahih Muslim Hadees # 1746

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنْ الضُّحَى فَقَالَ أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ

 ایوب نے قاسم شیبانی سے روایت کی کہ حضرت زید بن ارقم  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے کچھ لوگوں کو چاشت کے وقت نماز پڑھتے دیکھاتو کہا : ہاں یہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نماز اس وقت کی بجائے ایک اور وقت میں پڑھنا  افضل ہے ۔ بے شک رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا   اوابین ( اطاعت گزار ، توبہ کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع  کرنے والےلوگوں )  کی نماز اس وقت ہوتی ہے ۔  ، جب ( گرمی سے )  اونٹ کے دودھ چھڑائے  جانے والے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں ۔    Sahih Hadees

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح ترمذی
  2. تفسیر انورالبیآن،محمد علی سورہ ص،17
  3. تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی،ی سورہ ص،17