مندرجات کا رخ کریں

اورطیٰ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

اورطیٰ[1] یا ابہر سب سے بڑی شریان جو دل سے شروع ہوتی ہے اور باقی تمام شریانیں اسی کی شاخیں ہیں۔[2] اسے شریان اعظم بھی کہتے ہیں۔[3] نیز اورطٰی کو اورطہ بھی لکھا جاتا ہے۔

اس کے تین حصے ہوتے ہیں، محراب اورطیٰ، اورطیٰ صدریہ اور اورطیٰ بطنیہ۔[4]

سوائے پھیپھڑوں کے باقی تمام جسم کو خون اسی شریان کے ذریعے مہیا کیا جاتا ہے۔ اورطہ دل کے بائیں بطن سے شروع ہوتی ہے اور گردن کے نچلے حصے کے قریب تک پہنچ کر اوپر اٹھتی ہے۔ پھر یہ چھاتی اور پیٹ میں سے ہوتی ہوئی پیچھے اور نیچے کی طرف محراب کی بناتی ہے۔ اورطہ کی پوری لمبائی کے ساتھ ساتھ اس سے شریانوں کی شاخیں نکلتی ہیں۔ یہ شریانیں دل کے عضلات، دماغ اور تمام اندرونی اعضا، جسمانی عضلات اور ہڈیوں تک خون پہنچاتی ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ شمس الاطبا غلام جیلانی خان صاحب (1923)۔ مخزن الجواہر طبی و ڈاکٹری لغات۔ لاہور: مرکنٹائل پریس۔ ص 141
  2. ↑ شمس الاطبا غلام جیلانی خان صاحب (1923)۔ مخزن الجواہر طبی و ڈاکٹری لغات۔ لاہور: مرکنٹائل پریس۔ ص 22–23
  3. ↑ شمس الاطبا غلام جیلانی خان صاحب (1923)۔ مخزن الجواہر۔ لاہور: مرکنٹائل پریس۔ ص 478
  4. ↑ مسعود حفیظ رفاعی (1974)۔ سرتاج الحکمت۔ دہلی: کامیاب بک ڈپو۔ ج 3۔ ص 61