اورنگ آباد (مہاراشٹر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


اورنگ آباد
دروازوں کا شہر
—  شہر  —
اورنگ آباد
Location of اورنگ آباد
in مہاراشٹرا
متناسقات 19.78°N 75.29°E / 19.78°N 75.29°E / 19.78; 75.29متناسقات: 19.78°N 75.29°E / 19.78°N 75.29°E / 19.78; 75.29
ملک Flag of India.svg بھارت
علاقہ Marathwada
ریاست مہاراشٹرا
ضلع اورنگ آباد
Divisional commissioner Bhaskar Munde
ناظم شہر Vijaya Rahatkar
آبادی

کثافت

1,167,649 (2009)

6,051 /km2 (15,672 /sq mi)

دفتری زبانیں مراٹھی، اردو
منطقۂ وقت IST (متناسق عالمی وقت+05:30)
رقبہ

ارتفاع

200 square kilometres (77 sq mi)

513 میٹرs (1,683 فٹ)

موقع جال www.AurangabadMahapalika.org

اورنگ آباد بھارت کے صوبۂ مہاراشٹر کا ایک مشہور تاریخی شہر ہے، اورنگ آباد مغل بادشاہ حضرت محی الدین عالمگیر رحمہ اللہ کے نام سے موسوم ہے، یہ تاریخی شہر سیاحوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اورنگ آباد مختلف تاریخی مقامات سے گھرا ہوا ہے۔ جن میں اجنٹا کے غار، ایلورہ کے غار، بی بی کا مقبرہ، پن چکی اور اورنگ زیب رحمہ اللہ اور ملک عنبر کے ہاتھوں سے تعمیر شدہ جامع مسجد شامل ہیں۔

اورنگ آباد کو دروازوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ حال میں اورنگ آباد کو مہاراشٹر کا سیاحتی کیپیٹل قرار دیا گيا ہے۔ اورنگ آباد شہر کو دنیا کے تیز رفتار ترقی کرنے والے شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اورنگ آباد کو 1610ء میں احمد نگر کے بادشاہ مرتضی نظام کے وزیراعظم ملک عنبر نے بسایا تھا، اورنگ آباد کے آس پاس اس وقت ایک کھڑکی نام کا دیہات تھا، اس وجہ سے اورنگ آباد کو بھی کھڑکی (Khadki) کہا جانے لگا۔ ملک عنبر نے اورنگ آباد کو اپنا دارالخلافہ بنایا، اور اس کی پوری فوج نے کھڑکی کے اطراف میں سکونت اختیار کرلی ، جس کی وجہ سے کھڑکی کو ایک مشہور شہرکا درجہ حاصل ہوگیا۔ ملک عنبر چونکہ فن تعمیر کا دلدادہ تھا، صحیح قول کے مطابق شہر اورنگ آباد کی خوبصورتی اور اس کا خوبصورت جائے مقام ملک عنبر کے فن تعمیر کا نتیجہ ہے۔ ملک عنبر کا سن 1626ء میں انتقال ہوگیا، اس کے بعد اس کا بیٹا فتح خان آیا، جس نے سن 1633ء میں دولت آباد سمیت کھڑکی پر قبضہ جمایا اور کھڑکی کا نام فتح نگر رکھا۔

سن 1653ء میں جب شہزادہ محی الدین اورنگ زیب رحمہ اللہ نے دوسری بار دکن پر فتح حاصل کی تو انھوں نے فتح نگر کو اپنا دارالحکومت بنایا اور فتح نگر کا انھوں نے اورنگ آباد نام رکھا۔

سن 1660ء میں اورنگ زيب رحمہ اللہ کے فرزند اعظم شاہ نے اپنی ماں دلرس بانوبیگم کی قبرپر بی بی کے مقبرے کی تعمیر کی۔

اورنگ زیب رحمہ اللہ کا جنرل نظام الملک آصف جہاں اورنگ آباد پہنچا، اور اس نے بھی اپنا دارالحکومت اورنگ آباد بنایا، سن 1723 میں دلی کا سفر کیا لیکن پھر ایک بار وہ دلی سے 1724 میں اورنگ آباد واپس ہوا، اور سن 1763 میں نظام علی خان آصف جہاں دوئم نے اورنگ آباد کے بجائے حیدرآباد کو اپنا دارالحکومت بنایا۔


بی بی کا مقبرہ جسے دکن کا تاج محل بھی کہتے ہیں۔
زیب النساء محل، اورنگ آباد 1880۔
پن چکی، باباشاہ مسافر درگاہ، 1880۔

ذرائع نقل وحمل[ترمیم]

ہوائی[ترمیم]

شہر اورنگ آباد ایک جدید گھریلو اورنگ آباد ہوائی اڈے کا حامل ہیں، اس ہوائی اڈے سے پچھلے دو برسوں سے عازمین حج کو براہ راست جدہ ائیرپورٹ پہنچانے کا انتظام کیا جارہا ہے۔ اورنگ آبادہوائی اڈے سے دلھی، ادھیپور، ممبئی، جئے پور، پونے اورناگپور کے لیئے مربوط فلائٹس مہیا ہیں۔

ریلوے[ترمیم]

شہر اورنگ آباد ریلوے ملک بھر کے ریلوے لائنوں سے منسلک ہیں۔ شہر میں دو بڑے ریلوے مراکز ہیں۔ اورنگ آباد اسٹیشن کوڈ AWB ہے ۔ اورنگ آباد ریلوے ممبئی، دلی ، حیدرآباد، ناندیڑ، پرلی ناگپور، نظام آباد ، ناسک، کنول، رینگونٹا، اروڈ، مدورائی، بھوپال اور گوالیار سے مربوط ہيں۔ اورنگ آباد سے ممبئی کے لیئے تیزرفتارٹرین اورنگ آباد جن شتابدی ایکسپریس مسافرین کے لیئے نفع بخش ہے۔ شہر میں بسوں اور منی بسوں نے عوامی نقل و حمل کا بیڑہ اٹھارکھا ہے لیکن مستقبل میں شہر میں تیز اور آرام دہ سفر کے ليے لوکل ٹرین کا منصوبہ بھی زیر غور ہیں۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

اورنگ آباد شہر دکن بھر میں صنعتی ترقی اور ممبئی اور پونے سے قریب ہونے کے سبب تعلمی مرکز بن گیا ہے۔ یہاں اورنگ آباد میونسپل کارپوریشن اور پرائیوٹ اداروں کی جانب سے بے شمار اسکول چلائے جاتے ہيں۔ اسی طرح شہر اورنگ آباد میں کئی ہائی اسکول اور کالجس قائم ہيں۔

اورنگ آباد شہر دن بدن ٹیکنالوجی اور انتظامی تعلیم میں اہمیت حاصل کررہا ہے، جہاں کئی ایک انجئیرنگ اور مینیجمینٹ ادارے بھی قائم ہوچکے ہيں۔ اورنگ آباد شہر میں عظیم یونیورسٹی بابا صاحب امیڈکر نام سے واقع ہے، جس میں عربی، اردو، مراٹھی، سنسکرت انگلش اور فارسی کے علاوہ متعدد م مضامین کے شعبے جات قائم ہیں۔ یونیورسٹی کے ماتحت شہر بھر میں مختلف کالج چلتے ہيں۔ جن میں چند ذیل میں دیئے جارہے ہيں

  • . Government College of Engineering, Aurangabad
  • Jawaharlal Nehru Engineering College
  • Marathwada Institute of Technology (MIT)
  • . PES College of Engineering
  • . Hitech College of Engineering
  • University Department of Chemical Technology
  • School of Management Studies, Dr. B A M University
  • Central Institute of Plastics Engineering and Technology (CIPET) (has its center in Aurangabad Chikalthana MIDC [1])
  • MGM Institute of Management, etc.

اردوتعلیمی ادارے[ترمیم]

  • ڈاکٹررفیق زکریا کمیپس، روضہ باغ، اورنگ آباد
  • ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس فارویمن، بھڑکل گیٹ، اورنگ آباد
  • سرسید کالج، روشن گیٹ اورنگ آباد

دینی تعلیمی ادارے[ترمیم]

شہراورنگ آباد میں جہاں عصری علوم کے اہم مراکز قائم ہیں وہیں شہر اورنگ آباد کو عظیم دینی مراکز کے وجود کا شرف حاصل ہے۔ پورے شہر اورنگ آباد میں کئی دینی ادارے لڑکے اورلڑکیوں کے لیئے قائم ہیں جن میں معیاری ادارے یہ ہیں۔

  • جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم ، بڈی لین اورنگ آباد
  • جامعہ اسلامیہ دارالعلوم یکخانہ، سٹی چوک اورنگ آباد
  • جامعہ الطیبات للبنات بیگم جانی اورنگ آباد
  • مکتب دارارقم روشن مسجد دلال واڑی، پیٹھن گیٹ اورنگ آباد
  • مکتب فیض القرآن روہیلہ گلی، سٹی چوک اورنگ آباد
  • مرکز فیض عالمگیر ٹاکلکرسوسائٹی اورنگ آباد
  • مکتب اشاعت القرآن، طلحہ مسجد ہلال کالونی، اورنگ آباد
  • مدرسہ رابعہ بصریہ للبنات قاسم بری درگاہ پڑے گاوں اورنگ آباد

اہم شخصیات[ترمیم]

  • عبدالغفور ندوی
  • ریاض الدین فاروقی ندوی
  • عبدالقدیر مدنی
  • مجیب الدین صاحب قاسمی
  • کلیم الدین ندوی (استاذ حدیث جامعہ کاشف العلوم)
  • انیس الرحمن ندوی
  • علیم الدین ندوی
  • معزالدین قاسمی
  • حافظ عبدالروف استاذ حفظ کاشف العلوم
  • معز الدین فاروقی ندوی
  • عبدالرشید ندوی مدنی
  • صدرالحسن ندوی مدنی
  • صادق ندوی لیکچرار ذاکر حسین کالج اورنگ آباد
  • مفتی جنید قاسمی نایگاوں اورنگ آباد

بیرونی روابط[ترمیم]