اوروک
| اوروک | |
|---|---|
| تاریخ تاسیس | 3200 ق.م[1] |
| انتظامی تقسیم | |
| ملک | |
| تقسیم اعلیٰ | محافظہ مثنی |
| جغرافیائی خصوصیات | |
| متناسقات | 31°19′33″N 45°38′15″E / 31.3259°N 45.6374°E |
| رقبہ | 541 ہیکٹر 292 ہیکٹر 450 ہیکٹر [1] |
| قابل ذکر | |
| جیو رمز | 90377 |
![]() | |
| درستی - ترمیم | |
اوروک (الوركاء) (سمیری: میخی رسم الخط: 𒀕𒆠، اکدی: 𒌷𒀕 یا 𒌷𒀔، آرامی: אֶרֶךְ یا אַרַך، سریانی: ܐܪܟ، عبرانی: אֶרֶךְ، یونانی: Ὀρχόη، Ὀρέχ، Ὠρύγεια وغیرہ) ایک تاریخی شہر ہے جو سومری اور بابلی تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ میسوپوٹیمیا میں دریائے فرات کے مشرقی کنارے کے قریب واقع ہے اور شہر أور سے تقریباً 35 میل اور تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ [3]
یہ شہر دنیا کی قدیم ترین تہذیبی بستیوں میں شمار ہوتا ہے اور اس کی تاریخ تقریباً 4000 قبل مسیح تک جاتی ہے۔ اَوروک ہی وہ شہر ہے جہاں دنیا کی ابتدائی تحریر وجود میں آئی اور یہی سے انسانی تاریخ میں پہلی بار لکھائی کا آغاز ہوا۔ ابتدائی طور پر یہاں تصویری تحریر استعمال ہوتی تھی، جو بعد میں ترقی کر کے میخی رسم الخط بن گئی۔ تقریباً 3100 قبل مسیح کے قریب یہاں تحریر اپنی ابتدائی شکل میں ظاہر ہوئی۔ اوروک قدیم دنیا میں ایک اہم سیاسی اور تہذیبی مرکز تھا اور تقریباً 2900 قبل مسیح کے زمانے میں یہ ایک بڑے اور بااثر شہر کے طور پر جانا جاتا تھا۔ بعض اندازوں کے مطابق اس شہر کا دائرہ تقریباً 6 کلومیٹر تھا، جس کی وجہ سے یہ اس دور کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا تھا۔
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 عنوان : Guinness World Records 2019 — صفحہ: 162 — ISBN 978-1-912286-46-1
- ↑ "صفحہ اوروک في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 اگست 2026ء
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|accessdate=(معاونت) و|accessdate=میں 14 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ طه باقر - مقدمة في تاريخ الحضارات القديمة - الجزء الأول.
- عراق میں آثار قدیمہ
- عراق میں مقامات عالمی ثقافتی ورثہ
- سابقہ مملکتیں
- رزمیہ گلگامش
- محافظہ مثنی
- خط میخنی
- آشوریات
- بین النہرین
- سلطنت بابل
- بالائی بین النہرین
- عراق کے سابقہ آباد مقامات
- چوتھے ہزارے قبل مسیح میں قائم ہونے والے آباد مقامات
- قدیم شہر
- 1844ء کی آثار قدیمہ دریافتیں
- ایشیاء کے آثار قدیمہ
- سلطنت اشکانیان
- آہنی دور کے مقامات

