اولین ٹیسٹ میں پانچ وکٹ حاصل کرنے والے پاکستانی کھلاڑی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہد آفریدی پاکستان دورہ نیوزی لینڈ دسمبر 2010
شاہد آفریدی نے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کرکٹ ٹیم کے خلاف 1998-99 میں 52 دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔، [1]

کرکٹ کی اصطلاح میں (انگریزی: five-wicket haul، five-for یا fifer) [2] سے مراد کسی بھی گیند باز کے لیے اولین میچ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹ لینا ہے۔ یہ کارکردگی بہت اعلی مانی جاتی ہے۔[3] اکتوبر 2016ء تک 147 کرکٹ کھلاڑی اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔[4] جن میں سے دس کھلاڑی پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔[5] پاکستان کے کھلاڑی سات مختلف ممالک، تین بار نیوزی لینڈ، دو بار آسٹریلیا اور ایک ایک بار بنگلہ دیش، بھارت، انگلستان، زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے خلاف اولین میچ میں پانچ وکٹ حاصل کر چکے ہیں۔[6] ان دس مواقع پر پاکستان نے چار مرتبہ میچ جیتا جبکہ چھ مرتبہ میچ "بے نتیجہ" رہا۔ پاکستانی کھلاڑیوں نے آٹھ مختلف مقامات پر اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا جن میں پانچ بیرون ملک مقامات اور تین بار نیشنل اسٹیڈیم، کراچی میں یہ اعزاز حاصل کیا۔[7]

عارف بٹ پہلے پاکستانی کھلاڑی تھے جنہوں نے اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ انہوں نے 65-1964ء میں آسٹریلیا کے خلاف 89 سکور دے کر 6 وکٹ حاصل کیں۔[8][9]

محمد نذیر اور محمد زاہد وہ واحد گیند باز ہیں جنہوں نے اولین میچ میں سات سات وکٹیں حاصل کیں۔ بٹ اور تنویر احمد نے چھ چھ وکٹیں اور دیگر چھ کھلاڑیوں نے اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔[5] زاہد نے97-1996 ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف 66 سکور دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں جوکسی بھی پاکستانی گیند باز کی اولین ٹیسٹ میچ میں بہترین کارکردگی ہے۔[5] انہوں نے پورے میچ میں130 سکور دے کر 11 وکٹیں حاصل کیں۔ یہ واحد پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی ہیں جنہوں نے اپنے اولین میچ میں 10 یا اسے سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔[10] پاکستانی گیند بازوں میں شاہد آفریدی 2۔ 21 سکور فی اوور کے لحاظ سے سب سے بہترین شرح اکانومی کے حامل گیند باز ہیں جبکہ زاہد سب سے بہترین سٹرائیک ریٹ کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ [note 1]

2014 ء تک، سب سے آخری پاکستانی کرکٹ کھلاڑی جس نے اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں تنویر احمد ہیں۔ انہوں نے 11-2010ء میں شیخ زید اسٹیڈیم، ابوظہبی، متحدہ عرب امارات میں جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں 120 سکور دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔[5][12]

اشارات[ترمیم]

نشان مطلب
تاریخ میچ کی تاریخ یا میچ شروع ہونے کی تاریخ
اننگز میچ کی جس اننگز میں اولین ٹیسٹ میں پانچ وکٹیں لی گئیں۔
اوور اننگز میں جتنے اوور پھینکے گئے
سکور سکور حاصل کیے گئے
وکٹیں جتنی وکٹیں حاصل کی گئیں
اکانومی گیند بازی شرح اکانومی (اوسط سکور فی اوور)
بلے باز جن بلے بازوں کی وکٹیں حاصل کی گئیں
اکانومی گیند بازی شرح اکانومی (اوسط سکور فی اوور)
نتیجہ پاکستان کرکٹ ٹیم کا اس میچ میں نتیجہ
MoM گیند باز بطور "مرد میدان" منتخب کیا گیا
double-dagger میچ میں 10 یا زائد وکٹیں لی گئیں
بے نتیجہ میچ بے نتیجہ رہا

پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے کھلاڑی[ترمیم]

اولین ٹیسٹ میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پاکستانی کھلاڑی
عدد گیند باز تاریخ میدان بمقابلہ اننگز اوور اسکور وکٹیں اکانومی بلے باز نتیجہ
1 بٹ, عارفعارف بٹ 4 دسمبر 1964 میلبورن کرکٹ گراؤنڈ، میلبورن  آسٹریلیا 2 21.3 89 6 3.12 بے نتیجہ[9]
2 نذیر, محمدمحمد نذیر 24 اکتوبر 1969 نیشنل اسٹیڈیم، کراچی  نیوزی لینڈ 2 30.1 99 7 3.28 بے نتیجہ[13]
3 شاہد نذیرشاہد نذیر 17 اکتوبر 1996 شیخوپورہ اسٹیڈیم، شیخوپورہ  زمبابوے 1 22.4 53 5 2.33 بے نتیجہ[14]
4 زاہد, محمدمحمد زاہدMoMdouble-dagger 28 نومبر 1996 راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم، راولپنڈی  نیوزی لینڈ 4 20.0 66 7 3.30 جیتے[10]
5 آفریدی, شاہدشاہد آفریدی 22 اکتوبر 1998 نیشنل اسٹیڈیم، کراچی  آسٹریلیا 1 23.3 52 5 2.21 بے نتیجہ[1]
6 سمیع, محمدمحمد سمیعMoM 8 مارچ 2001 ایڈن پارک، آک لینڈ  نیوزی لینڈ 4 15.0 36 5 2.40 جیتے[15]
7 احمد, شبیرشبیر احمد 20 اگست 2003 نیشنل اسٹیڈیم، کراچی  بنگلادیش 3 18.1 48 5 2.64 جیتے[16]
8 عرفات, یاسریاسر عرفات 8 دسمبر 2007 ایم چناسوامی اسٹیڈیم، بنگلور  بھارت 1 39.0 161 5 4.12 بے نتیجہ[17]
9 ریاض, وہابوہاب ریاض 18 اگست 2010 اوول، لندن  انگلستان 1 18.0 63 5 3.50 جیتے[18]
10 احمد, تنویرتنویر احمد 20 نومبر 2010 شیخ زید اسٹیڈیم، ابو ظہبی
(غیر جانبدار میدان)
 جنوبی افریقا 1 28.0 120 6 4.28 بے نتیجہ[12]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

ملاحظات
  1. کرکٹ میں، سٹرائیک ریٹ سے مراد اوسط گیندیں بلحاظ حاصل شدہ وکٹ کے لحاظ سے ناپا جاتا ہے۔[11]
حوالہ جات
  1. ^ ا ب "تیسرا ٹیسٹ: پاکستان بمقابلہ آسٹریلیا بمقام کراچی، اکتوبر 22–26، 1998"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  2. "ریان سائیڈ بوٹم کا انٹرویو"۔ دی سکاٹ مین۔ 17 اگست 2008۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اکتوبر 2009۔ ... میں انگلستان کے لیے پانچ وکٹیں لینا پسند کرتا ہوں
  3. ایم اے پرویز (2001)۔ کرکٹ کی ڈکشنری۔ اورئنٹ بلیک سوان۔ صفحہ 31۔ آئی ایس بی این 978-81-7370-184-9۔
  4. "شماریات / سٹیٹس گرو / ٹیسٹ میچ / گیند بازی ریکارڈز / شماریات"۔ کرک انفو۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2014۔
  5. ^ ا ب پ ت "شماریات / سٹیٹس گرو / ٹیسٹ میچ / گیند بازی ریکارڈز / شماریات (پاکستان)"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 ستمبر 2014۔
  6. "شماریات / سٹیٹس گرو / ٹیسٹ میچ / گیندبازی ریکارڈز / بلحاظ بالمقابل ٹیم"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  7. "شماریات / سٹیٹس گرو / ٹیسٹ میچ / گیندبازی ریکارڈز / گراؤنڈ اوسط"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  8. "شماریات / سٹیٹس گرو / ٹیسٹ میچ / گیندبازی ریکارڈز/ بلحاظ میچ کا سال"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  9. ^ ا ب "Only Test: آسٹریلیا بمقابلہ پاکستان بمقام میلبورن، 4 تا 8، 1964"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  10. ^ ا ب "دوسر اٹیسٹ میچ: پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ بمقام راولپنڈی، 28 نومبر – 1 دسمبر، 1996"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  11. مارٹن ولیم سن۔ "تشریح کرکٹ – کرکٹ اصطلاحیات کا مطلب"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  12. ^ ا ب "دوسرا ٹیسٹ: پاکستان بمقابلہ جنوبی افریقہ بمقام ابو ظہبی، 20 تا 24 نومبر ، 2010"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  13. "پہلا ٹیسٹ: پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ بمقام کراچی، اکتوبر 24–27، 1969"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  14. "پہلا ٹیسٹ: پاکستان بمقابلہ زمبابوے بمقام شیخوپورہ، اکتوبر 17–21، 1996"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  15. "پہلا ٹیسٹ: نیوزی لینڈ بمقابلہ پاکستان بمقام آک لینڈ، مارچ 8–12، 2001"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  16. "پہلا ٹیسٹ: پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش بمقام کراچی، اگست 20–24، 2003"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  17. "تیسرا ٹیسٹ: بھارت بمقابلہ پاکستان بمقام بنگلور، دسمبر 8–12، 2007"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔
  18. "تیسرا ٹیسٹ: انگلستان بمقابلہ پاکستان بمقام اوول، Aug 18–21، 2010"۔ کرک انفو۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 ستمبر 2013۔

سانچہ:ابتدائی ترتیب:پاکستان