اوکاڑہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اوکاڑہ
District Headquarter Hospital Old building - panoramio.jpg 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
منتظم ضلع اوکاڑہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 30°48′36″N 73°27′35″E / 30.81°N 73.459722222222°E / 30.81; 73.459722222222  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 105 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
آبادی
کل آبادی 232386   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 1168718  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر

اوکاڑہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک مشہور شہر ہے جو ضلع اوکاڑہ کا صدر مقام ہے۔ اوکاڑہ کو منی لاہور یعنی چھوٹا لاہور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ لاہور کے جنوب مغرب میں دریائے راوی سے ۱۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک زرعی علاقہ ہے جو کپاس کی صنعت میں مشہور ہے۔ یہاں سے سیلہ چاول، آلو اور مکئی نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک بھی برآمد ہوتے ہیں۔ اوکاڑہ سے نزدیک ترین بڑا شہر ساہیوال ہے۔ آبادی کے لحاظ سے اوکاڑہ کا شمار پاکستان کے بڑے اضلاع میں ہوتا ہے۔ اوکاڑہ میں ڈیری فارمز کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں اور یہاں کا پنیر ملک بھر میں مشہور ہے۔ اوکاڑہ کا پوسٹل کوڈ ۵۶۳۰۰ ہے۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

شہر کا نام اوکاں نامی درخت سے منسوب ہے۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں یہاں اوکاں کا جنگل ہوا کرتا تھا جس میں مسافر ٹھہرا کرتے تھے۔ اوکاڑہ کو اوکاں والا اور اوکاں اڈا بھی کہا جاتا تھا۔

تاریخ[ترمیم]

؁ ۱۸۴۹ء میں پنجاب پر برطانوی قبضے کے بعد دو سال پاکپتن ضلعی ہیڈ کوارٹر رہا۔ ؁ ۱۸۵۱ء میں انگریزوں نے ایک نئے ضلع منٹگمری کی بنیاد رکھی جس کا ہیڈ کوارٹر گوگیرہ کو بنایا گیا۔ تب موجودہ ساہیوال، پاکپتن اور اوکاڑہ اسی ضلع کے حصے تھے۔ ؁ ۱۸۶۵ء میں ضلع کا ہیڈ کوارٹر ساہیوال (تب منٹگمری) میں شفٹ کر دیا گیا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک اوکاڑہ ضلع منٹگمری کا ایک چھوٹا سا شہر تھا۔

دی اربن یونٹ کے تحت اوکاڑہ پر تیار کی گئی رپورٹ کے مطابق نہری نظام متعارف کروائے جانے سے پہلے اوکاڑہ ایک بنجر علاقہ تھا۔ ؁ ۱۹۱۳ء میں پہلے لوئر باری دوآب اور اس کے بعد پاکپتن اور دیپالپور کی نہروں نے اس علاقے کو کھیتی باڑی کا مرکز بنا دیا۔

؁ ۱۹۱۸ء میں ریلوے لائن بچھنے سے اوکاڑہ کراچی اور لاہور سے جڑ گیا جبکہ ؁ ۱۹۲۵ء تک اوکاڑہ کو سڑکوں کے ذریعے سبھی بڑے شہروں کیساتھ جوڑا جا چکا تھا۔

؁ ۱۹۱۳ء میں اوکاڑہ کو ٹاؤن کمیٹی اور پھر ؁ ۱۹۳۰ء میں میونسپل کمیٹی کا درجہ دے دیا گیا۔ میونسپل کمیٹی درجہ ملتے ہی اوکاڑہ کو تحصیل آفس اور پولیس اسٹیشن کی سہولیات بھی میسر ہوگئیں۔

؁ ۱۹۳۶ء میں جب اوکاڑہ میں برلا گروپ نے ستلج ٹیکسٹائل مل کی بنیاد رکھی تو اوکاڑہ کے لیے معاشی ترقی کے دروازے کھل گئے اور اردگرد کے علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شہر میں آکر آباد ہو گئی۔

؁ ۱۹۴۲ء میں یہاں مارکیٹ کمیٹی بننے کے بعد اوکاڑہ کو زرعی اجناس کی تجارت کے علاوہ سبزی اور فروٹ منڈی، غلہ منڈی، تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال، گورنمنٹ ہائی سکول (بوائز اینڈ گرلز)، ٹیلیفون ایکسچینج، پاور ہاؤس، میونسپل پارک اور پوسٹ آفس کی سہولیات بھی دستیاب ہوگئیں۔

اوکاڑہ کی آبادی کا بڑا حصہ ہندوؤں اور سکھوں پر مشتمل تھا جو تقسیم ہند کے بعد بھارت چلے گئے جنکی جگہ بھارت سے آئے مہاجر مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر آبادکاری کی گئی۔ ؁ ۱۹۶۷ء میں یہاں فوجی چھاؤنی قائم کی گئی۔

؁ ۱۹۸۲ء میں جب اوکاڑہ کو ضلع کا درجہ دیا گیا تب یہ دو تحصیلوں دیپالپور اور اوکاڑہ پر مشتمل تھا۔ ؁ ۱۹۸۸ء میں بابا فرید شوگر مل کے لگ جانے سے ضلع اوکاڑہ کو مزید تقویت ملی جبکہ بعد ازاں ستلج ٹیکسٹائل مل کے ساتھ ساتھ اس کے بھی بند ہوجانے سے ضلع کی معاشی ساکھ شدید متاثر ہوئی۔

جغرافیائی لحاظ سے اوکاڑہ کے مشرق میں قصور، مغرب کی طرف ساہیوال اور پاکپتن، شمال میں فیصل آباد اور شیخوپورہ سے جبکہ جنوب میں بہاولنگر واقع ہے۔ اس کے مشرق میں دریائے ستلج جبکہ مغرب میں دریائے راوی اور دریائے بیاس (جو اب مکمل طور پر خشک ہوچکا ہے) بہتے ہیں۔ یوں تو دریائے ستلج میں سال کا بیشتر حصہ پانی کی مقدار کافی کم دیکھنے کو ملتی ہے مگر اگست اور ستمبر کے مہینوں میں بارشوں اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے سبب اکثر طغیانی آجاتی ہے۔

ضلع اوکاڑہ اس وقت تین تحصیلوں پر مشتمل ہے جس میں تحصیل اوکاڑہ، تحصیل دیپالپور اور تحصیل رینالہ خورد شامل ہیں۔ ضلع اوکاڑہ کا رقبہ ۴۳۷۷ مربع کلومیٹر ہے۔ ؁ ۱۹۹۸ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی تقریباً ۲۲،۰۰،۰۰۰ تھی جو اس وقت اندازہً ۳۲،۰۰،۰۰۰ تک جاپہنچی ہے۔ یہاں کی تین تحصیلوں میں ۵ ایم این اے اور ۱۰ ایم پی اے موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی حالیہ حلقہ بندی کے تحت ضلع اوکاڑہ کو ۱۴۰ یونین کونسلوں اور ۷ مونسپل کمیٹیوں (اوکاڑہ، دیپالپور، رینالہ خورد، بصیر پور، حویلی لکھا، حجرہ شاہ مقیم اور منڈی احمد آباد) میں تقسیم کیا گیا ہے۔

تعلیمی لحاظ سے ضلع اوکاڑہ میں ۱۲ ڈگری کالج، ۵ ہائر سکینڈری سکول، ۱۴۲ سکینڈری سکول، ۱۵۱ مڈل سکول، ۱۲۵۷ پرائمری سکول جبکہ ایک یونیورسٹی بھی موجود ہے۔

اس علاقہ میں بسنے والی مشہور ذاتوں میں سید،بلوچ، شیخ، آرائیں، بودلہ، راﺅ، بھٹی، جٹ، کمیانہ،سیال، گجر، کمبوہ، وٹو، جوئیہ، ڈوگر اور کھرل شامل ہیں۔

اہم شخصیات میں مولانا محمد لکھوی کے بیٹے معین الدین لکھوی ہیں جو ممبر قومی اسمبلی رہے۔ انہیں ستارۂ امتیازسے نوازا گیا۔ اوکاڑہ کے راﺅ سکندر اقبال ؁ ۲۰۰۲؍ سے ؁ ۲۰۰۷ء تک وزیر دفاع رہے ہیں۔ میاں منظور وٹو سابق وزیر اعلی پنجاب، میاں محمد زمان وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رہ چکے ہیں۔ اب ان کے بیٹے میاں یاور زمان صوبائی وزیر برائے آبپاشی ہیں۔ اس کے علاوہ اوکاڑہ کے سید صمصام بخاری وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و نشریات، رانا اکرام ربانی اور اشرف خان سوہنا بھی صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔

مشہور صحافی آفتاب اقبال، جنید احمد، ادیب ظفر اقبال، شاعر اقبال صلاح الدین اور پنجابی شاعر بابو راج علی کا تعلق بھی اسی علاقے سے ہے۔ محمد حنیف، جنہوں نے اوکاڑہ پر ایک مشہور کتاب "A CASE OF EXPLODING MANGOES" لکھی، بھی اسی ضلع سے ہیں۔ یہاں پائے جانے والے درختوں میں کیکر، اوکاں، بیری اور ونڈ پائے جاتے ہیں۔ اوکاڑہ میں آلو کی منڈی ایشیا کی سب سے بڑی منڈی مانی جاتی ہیں۔ یہاں کاشت کردہ فصلوں میں گندم، مکئی، ٹماٹر، چاول، کپاس، آم اور مالٹا سرفہرست ہیں۔

ایک تاریخی شخصیت میر چاکر خان رند، بلوچ قبیلے رند کا سردار تھا جس نے 1518ء میں اوکاڑہ کے علاقہ ستگھرہ کو اپنا مسکن بنایا۔ وہ اپنی فوج کے ہمراہ پنجاب پر حملہ آور ہونیوالی افغان فوجوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ شیر شاہ سوری اور مغل بادشاہ ہمایوں کی لڑائی میں انہوں نے مغل بادشاہ کا ساتھ دیا۔ 1556ء میں دہلی تخت پر بیٹھنے کے بعد مغل بادشاہ ہمایوں نے میر چاکر رند کو ایک بڑی جاگیر سے نوازا۔ میر چاکر خان رند کی وفات 1565ء میں ہوئی۔ ان کا مقبرہ آج بھی ستگھرہ میں موجود ہے۔

احمد خان کھرل پنجاب کی دھرتی کا وہ سپوت ہے جس نے رنجیت سنگھ کے بعد انگریز کا اس علاقے میں راستہ روکا۔ اوکاڑہ کے گاؤں جھامرے سے تعلق رکھنے والے اس راٹھ نے مقامی قبائل کو ناصرف ایک جگہ اکٹھا کیا بلکہ انگریز کیخلاف بغاوت کے لیے آمادہ بھی کیا۔ اوکاڑہ کے اس سپوت کو 21 ستمبر 1857 کے دن شہید کیا گیا۔

زبان[ترمیم]

ضلع اوکاڑہ کے زیادہ تر لوگوں کی زبان پنجابی ہے۔ پنجابی کے ساتھ ساتھ ہریانوی زبان بھی مستعمل ہے جسے رانگڑی بھی کہتے ہیں۔

انتظامیہ[ترمیم]

اوکاڑہ شہر بطور صدر مقام ضلع اوکاڑہ ۱۰ یونین کونسلوں میں منقسم ہے۔

صنعت و تجارت[ترمیم]

سیلہ چاول، آلو اور مکئی کی خرید و فروخت کے لیے اوکاڑہ عالمی منڈیوں میں ایک مقام رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے زرعی آلات پورے ملک میں مشہور ہیں۔

زراعت[ترمیم]

مکئی اور آلو کی پیداوار میں اوکاڑہ کو پاکستان کے دےگر تمام شہروں پر فوقیت حاصل ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر"صفحہ اوکاڑہ في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ کردہ بتاریخ 9 جون 2018۔ 
  2. Punjab Agriculture Department

Wikivoyage-Logo-v3-icon.svg اوکاڑہ سفری راہنما منجانب ویکی سفر

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔