مندرجات کا رخ کریں

اویجیت رائے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اویجِیت رائے
Avijit Roy
معلومات شخصیت
پیدائش 12 ستمبر 1972ء
بنگلہ دیش
وفات 26 فروری 2015ء
ڈھاکہ، بنگلہ دیش
طرز وفات قتل   ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش
ریاستہائے متحدہ امریکا   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ بونیا احمد   ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد اجے رائے   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی بنگلہ دیش کی بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور
پیشہ مصنف، بلاگر، سائنسداں
مادری زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت مکتو مانا (بلاگ)، سیکولر ازم

اویجِیت رائے (انگریزی: Avijit Roy؛ 12 ستمبر 1972ء — 26 فروری 2015ء) بنگلہ دیشی نژاد مصنف اور سیکولر بلاگر تھے جنھوں نے انٹرنیٹ پر مُکتو مانا نامی پلیٹ فارم قائم کیا۔ وہ مذہبی انتہا پسندی، خرافات اور دقیانوسی سوچ کے خلاف کھلے انداز میں لکھتے تھے اور آزادِی خیال و فکر کی ترویج کے لیے جانے جاتے تھے۔ اس میں عمومًا مذہبی عقائد اور سماجی اقدار پر تنقید شامل ہوتی تھی۔[1]

ابتدائی زندگی اور تعلیم

[ترمیم]

اویجِیت رائے 12 ستمبر 1972ء کو پیدا ہوئے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کی بنگلہ دیش یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے میکینیکل انجینئرنگ میں بیچلر کیا اور بعد ازاں نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپورسے بایومیڈیکل انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔[1]

فکر و سرگرمیاں

[ترمیم]

اویجِیت رائے آزادِ ی فکر، سائنسی سوچ اور سیکولر ازم کے علمبردار تھے۔ انھوں نے آن لائن فورم اور بعد ازاں بلاگ مُکتو مانا (بنگالی میں "آزاد دماغ") قائم کیا جہاں وہ اور دیگر لکھاری مذہب، معاشرت اور انسانی حقوق جیسے موضوعات پر مضمون اور مباحثہ شائع کرتے تھے۔ رائے نے متعدد کتابیں اور مضامین لکھے، جن میں مذہب پر تنقیدی نکتۂ نظر نمایاں تھا۔[2]

حملہ اور شہادت

[ترمیم]

26 فروری 2015ء کو اویجِیت رائے اور ان کی اہلیہ بونیا احمد بنگلہ دیش کے ایک کتابی میلے میں شرکت کے بعد ڈھاکا واپس آ رہے تھے جب ان پر نامعلوم حملہ آوروں نے حملہ کیا۔ حملہ آوروں نے اویجِیت رائے کو رکشے سے باہر نکالا اور چاقو اور ماچیٹ (ایک قسم کے کلہاڑے) سے حملہ کیا۔ وہ شدید زخمی ہوئے اور اسپتال لے جایا گیا مگر جانبر نہ ہو سکے؛ ان کی اہلیہ بھی زخمی ہوئیں۔ یہ واقعہ عالمی سطح پر آزادیٔ اظہار اور سیکولر لکھاریوں کے خلاف تشدد کے طور پر سخت تنقید کا باعث بنا۔[3][4]

قانونی کارروائی

[ترمیم]

حملے کے بعد بنگلہ دیشی حکام نے تفتیش کی۔ متعدد افراد پر مقدمات چلائے گئے اور مختلف ادوار میں کچھ کو سزا سنائی گئی۔ ملک کی عدالتوں نے اس واقعے کو اظہارِ رائے کی آزادی دبانے کی کوشش قرار دیا اور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہی۔[5]

ورثہ اور اثرات

[ترمیم]

اویجِیت رائے کی بے رحمانہ موت نے بنگلہ دیش اور بین الاقوامی سطح پر سیکولر ازم، آزادیٔ اظہار اور بلاگرز کی حفاظت کے حوالہ سے وسیع بحث کو جنم دیا۔ ان کی تحریروں اور مکتو مانا پلیٹ فارم نے آزادِی خیال کے لکھاریوں کے لیے پلیٹ فارم اور حوصلہ فراہم کیا۔ وہ بہت سے لوگوں کے لیے سیکولر ازم اور سائنسی فکر کا نشان بن گئے۔[4]

حوالہ جات

[ترمیم]

تحریری کام

[ترمیم]
  • Avijit Roy (2005). Alo Hate Choliyache Andharer Jatri আলো হাতে চলিয়াছে আঁধারের যাত্রী [Caravan of Darkness Walking With Light in Hand] (بزبان بنگالی). Dhaka: Ankur Prakashani. ISBN:9844641241.
  • —— (2007). Mahabishe Pran O Budhimattar Khonje মহাবিশ্বে প্রাণ ও বুদ্ধিমত্তার খোঁজে [In Search of Life And Intelligence in the Universe] (بزبان بنگالی). Dhaka: Obshor Prokashan. ISBN:978-9844152120.
  • —— (2008). Bisshash Er Virus বিশ্বাসের ভাইরাস [The Virus of Faith] (بزبان بنگالی). Dhaka: Shuddhashar Prokashani.[1]
  • —— (2010). Somokamita: Ekti Boigganik Ebong Shomaj Monostattik Onushandhan সমকামিতা : একটি বৈজ্ঞানিক এবং সমাজ-মনস্তাত্বিক অনুসন্ধান [Homosexuality: A Scientific and socio-psychological investigation] (بزبان بنگالی). Dhaka: Somokamita. OCLC:969997954.
  • Raihan Abir; —— (2011). Obisshahser Dorshon অবিশ্বাসের দর্শন [The Philosophy of Disbelief] (بزبان بنگالی). Dhaka: Jagriti Prokashoni. ISBN:978-984-8972-02-1.
  • —— (2014). Bisshash Er Virus: Bisshash Er Bibortinio Bishleshon বিশ্বাসের ভাইরাস: বিশ্বাসের বিবর্তনীয় বিশ্লেষণ) (بزبان بنگالی). Dhaka: Jagriti Prokashoni. ISBN:9789849091455.


مزید دیکھیے

[ترمیم]
  1. بنگلہ دیش میں سیکیولر ازم کے حامیوں پر حملے
  2. ساگر سروور اور مہر٘ رونی کا قتل
  3. سائبر مخالفین پر سیاسی دباؤ
  4. بنگلہ دیش میں مقتول صحافیوں کی فہرست
  1. Lizzie Dearden (27 فروری 2015)۔ "American-Bangladeshi atheist blogger Avijit Roy hacked to death by suspected Islamist extremists"۔ The Independent