اویس احمد غنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اویس احمد غنی
(انگریزی میں: Owais Ahmed Ghani خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
صدر آصف علی زرداری
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
معلومات شخصیت
پیدائش 5 فروری 1951 (68 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پشاور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
جماعت پاکستان تحریک انصاف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ایڈورڈز کالج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

صوبہ خیبر پختونخوا کے سابقہ گورنر۔ اس سے پہلے وہ بلوچستان کے گورنر رہے۔ اس دور میں بلوچستان میں باقاعدہ فوج کشی ہوئی اور بلوچوں کے دو اہم رہنماء نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کو ہلاک کر دیا گیا۔ نواب بگٹی کے صاحبزادے نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کے خلاف جو ایف آئی آر درج کرائی ہے اس میں اویس احمد غنی کا نام بھی شامل تھا۔ اویس احمد غنی کا تعلق چونکہ سردار عبدالرب نشتر کے خاندان سے تھا اور اس خاندان کے زیادہ تر افراد فوج اور دیگر سرکاری اداروں میں ہیں لہٰذا اس پسِ منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹنے کے بعد انہیں پہلے صوبائی وزیر صنعت پھر وفاقی وزیر اور اس کے بعد بلوچستان اور صوبہ سرحد کا گورنر تعینات کیا۔ انہیں دو ہزار تین میں بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا تھا اور چونکہ ان کا تعلق کاکڑ قبیلے سے ہے اور ان کے آباؤ اجداد بلوچستان کے ضلع ژوب سے ہجرت کرکے پشاور آئے تھے لہٰذا تعیناتی کے وقت بلوچ اور پشتونوں کے ممکنہ اعتراض کو رفع کرنے کے لیے سرکاری طور پر انہیں بلوچستان کا مقامی ثابت کرنے کے لیے میڈیا پر سرکاری طور پر باقاعدہ ایک مہم چلائی گئی ۔

پختونخوا گورنر[ترمیم]

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دوران جب اس وقت کے صوبہ خیبر پختونخوا کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل علی جان اورکزئی کے مرکزی حکومت کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے تھے تو جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے اویس احمد غنی کو جنوری دوہزار آٹھ میں صوبہ سرحد کا نیا گورنر مقرر کیا۔ پرویز مشرف کی اقتدار سے رخصتی کے بعد وہ دو سال مزید صوبے کے گورنر رہے۔ لیکن حکومت پر فاٹا ارکان اور خود پیپلز پارٹی کی جانب سے شدید دباؤ رہا کہ ان کو اس عہدے سے سبکدوش کیا جائے۔ یوں فروری 2011 میں ان کو اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ بیرسٹر مسعود کوثر کو گورنر تعینات کیا گیا۔

سیاسی عہدے
ماقبل 
عبدالقادر بلوچ
گورنر بلوچستان
2003 – 2008
مابعد 
آمت اللہ خان یٰسین زئی
تا حال
ماقبل 
علی محمد جان اورکزئی
گورنر خیبر پختونخوا
2008 – 2011
مابعد 
سید مسعود کوثر