ايرانی فضائیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ
Seal of the Islamic Republic of Iran Air Force.svg
اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کا نشان
فعال 1925–اب تک
ملک Flag of ایران اسلامی جمہوریہ ایران
شاخ فضائیہ
حجم 37,000 (estimate)[1]
حصہ ارتش
فوجی چھاؤنی /ایچ کیو تہران
عرفیت فارسی: تیزپروازان‎, "برق رفتار"
نصب العین فارسی: بلند آسمان جایگاه من است
"ميرا مقام بلند آسمان"
رنگ      گہرا نيلا
مارچ 18 اپریل
برسیاں 8 فروری (فضائیہ کا دن)
معرکے
  • انگريزی روسی جنگ
  • دوفار کی جنگ
  • ايران عراق جنگ
  • 2014 ميں داعش کيخلاف فوجی کارروائی
کمان دار
موجودہ
کمان دار
برگيڈيئر جنرل حسن شاہ شافی
طغرا
Roundel Roundel of Iran.svg
Aircraft flown
حملہ F-4D/E, Su-24MK, F-5E/F, Saeqeh
Electronic
warfare
RC-130, B707 Elint
Fighter F-14A, MiG-29A/UB, Mirage F1, F-7M
Helicopter CH-47, AB-206, AB-214, AS-61, Mi-17, AH-1J, RH-53D
Patrol P-3F
Reconnaissance RF-4E
Trainer F-5A/B/Simorgh, PC-7, F33C, Fajr-3, FT-7
Transport C-130, IL-76, F27, B 747, B 707, Falcon 20, Falcon 50, JetStar, Y-12, PC-6, Socata TB.

اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ (' ' آئی آر آئی اے ايف' ') (نیروی هوایی ارتش جمهوری اسلامی ایران) اسلامی جمہوریہ ایران کی افواج کی فضائی شاخ ہے۔ ایران کی فضائیہ 1980ء کی دہائی کے اوائل میں سابق شاہی ایرانی فضائیہ کا نام بدلے جانے پر وجود ميں آئی ۔ فضائیہ نے شاہ کی حکومت کے دوران خریدے گئے بڑی تعداد ميں امریکی طيارے کچھ کامیابی کے ساتھ قابلِ استعمال رکھنے کی کوشش کی ہے۔ فضائیہ نے توجہ سوویت اور چینی طياروں کی خريداری پر مرکوز رکھی اس کے علاوہ سابق عراقی اور مقامی طور پر بنائے گئے طياروں کو استعمال ميں لايا گيا تاکہ ايرانی فضائیہ کو ايک قابل فضائی قوت کے طور پر قائم رکھا جائے ۔

تاريخ[ترمیم]

اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد سابق شاہی ایرانی فضائیہ کو نیا نام ديے جانے کے بعد معرض وجود میں آئی۔ برطانوی پبلشنگ کمپنی اوربس وار پلان پآرٹ وورک میگزین کے مطابق ایران – عراق جنگ شروع ہونے تک نام تبديل نہيں کيا گيا تھا۔ اس "نئی" ایرانی فضائیہ نے زیادہ تر ساز و سامان شاہی ایرانی فضائیہ سے ورثہ ميں پايا یہاں تک کہ بعد از انقلاب کی افراتفری کے دوران اپنے بہت سے ممتاز افسروں کو امریکہ اور شاہ کے وفادار سمجھا جانے کی وجہ سے کھو ديے۔ مغرب کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی وجہ سے ایران نے برازیل، روس اور عوامی جمہوریہ چین سے نيا سامان خريدنا شروع کيا۔ انقلاب کے بعد سے آئی آر آئی اے ايف کی عین مطابق ساخت کا تعین کرنا مشکل ہے، لیکن اندازے موجود ہیں۔ عراقی فضائیہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے ہوائی جہازوں نے 1991ء میں خلیج فارس کی جنگ کے دوران ایران میں پناہ لی اور بہت سے ایرانی فضائیہ نے اپنی سروس ميں شامل کرليے یا اسپیئر پارٹس الگ کرنے کے لیے رکھ ليے۔ فضائیہ کی طرف سے درپیش مسلسل اسپیئر پارٹس کی قلت کی وجہ سے، ایران نے 1980ء کی دہائی کے اواخر میں فضائیہ کی مدد کرنے کے لیے مقامی ہوائی و فضائی صنعت کو ترقی دینے کا فیصلہ کيا۔ 2002ء میں یوکرائن کے تعاون سے ایران نے کامیابی سے انٹوناوو-140 ٹرانسپورٹ طیارے کے لائسنس پر ایران-140 کی تیاری شروع کر دی۔ بیک وقت، ایران نے F-14 ٹام کیٹ اور F-5 ٹائيگر 11 سے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مقامی سطح پر دو لڑاکا طياروں کی تیاری شروع کی جنہيں ازراکہش اور شافاق کا نام دیا گیا۔ تب سے ملک ہیلی کاپٹر کی تیاری میں بھی خود کفیل ہو چکا ہے۔ ایران کا دعوی ہے کہ یہ پرانے امریکی ايچ -1 کوبرا گن شپ ہیلی کاپٹر کی پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ایران بیل 212 ہیلی کاپٹر اور بیل 206 ہیلی کاپٹروں کی سیریل پروڈکشن کرتا ہے۔ یہ بالترتیب شاباویز 2-75 اور شاباویز 206 کے طور پر جانے جاتے ہيں۔

ایران عراق جنگ[ترمیم]

1988 میں ايرانی فضائیہ کا ايک سی-130ايچ طيارہ
ايرانی فضائیہ کا آبدوز شکن لاک ہيڈ پی3-سی اورين طيارہ

فروری 1979ء اور جولائی 1980ء کے درمیان جبری ریٹاریمنٹوں کے سلسلے کی وجہ سے فضائیہ کی افرادی قوت آدھی ہو گئی. جس کی وجہ سے فضائیہ ایران عراق جنگ ("پہلی خلیج فارس جنگ" بھی کہا جاتا ہے) کے لیے بالکل تیار نہ تھی۔ 22 ستمبر 1980ء کی سہ پہر آٹھ بڑے ایرانی ہوائی اڈوں اور چار دیگر فوجی تنصیبات پر اچانک عراقی فضائی حملوں نے ایرانی فضائیہ کو بالکل جھنجھوڑ کے رکھ ديا تھا ۔ ایران نے جوابی حملہ 206 ايف-4، ايف-5 اور ايف-14 ہوائی جہازوں سے آپریشن کمان-99 شروع کرکے کیا۔ آپریشن کمان-99 شروع ہونے کے ساتھ ہی مارک 82، مارک 83 اور مارک 84 بموں اور اے جی ایم-65 ميورک میزائلوں کے ساتھ مسلح 40 ايف-4 فينٹم لڑاکا طياروں نے ہامدان ہوائی اڈے سے 23 ستمبر 1980ء کو اڑان بھری۔ راستے ميں دورانِ پرواز ايندھن بھر کر يہ فينٹم عراقی دار الحکومت بغداد پہنچے، جہاں انہوں نے الراشد، الحببانییہ اور ال کوت کے ہوائی اڈوں پر حملہ کيا۔ دریں اثناء، آٹھ مزید ايف-4 طياروں نے تہران سے اڑ کر الراشد ہوائى اڈے پر دوسرا حملہ کیا۔ ایرانی فضائیہ نے آپریشن تبریزII کا آغاز 58 ايف-5ايی ٹائیگر طياروں سے موصل ایئر بیس پر حملہ کر کے کيا۔ موصل ایئر بیس پر حملے کے بعد 50 ايف-5ايی طياروں سے نصیریہ ائربیس پر حملہ کر کے بہت نقصان پہنچايا۔ تمام 146 ایرانی ايف-4 اور ايف-5 لڑاکا طياروں کو عراق پر چھاپہ مار کارروائی کے لیے بھیجا گیا جبکے 60 ايف-14 ٹام کیٹس عراقی حملوں کے خلاف ایرانی فضائی حدود کی حفاظت کے لیے مامور تھے۔ ایرانی ايف-14 دو عراقی مگ-(1 مگ-21آر ايف اور 1 مگ-21ايم ايف) اور 3 عراقی مگ-23 (مگ-23يم ايس) مار گرانے ميں کامياب ہوئے , ایک ایرانی ايف-5ايی بھی ایک عراقی سُو-20 گرانے ميں کامياب ہوا۔ عراقی مگ-23 طيارے نے بھی 2 ایرانی ايف-5ايی طياروں کو مارگِرایا جبکے عراقی مگ-21 طيارہ بھی دو ایرانی ايف-5ايی طيارے مار گرانے میں کامیاب رہا۔ عراقی ائير ڈيفينس نے ایک زمين سے فضاء ميں مار کرنے والے ايس اے 3 ميزائل کے زريعے غلطی سے اپنا ہی آئی ايل 76ايم ڈی سٹریٹجک کارگو طيارہ مار گرايا۔ عراقی تاہم اس حملے کے لیے اچھی طرح تیار تھے اور ان کی فضائیہ کا زیادہ تر حصہ دیگر عرب ممالک مثلاً سعودی عرب وغيرہ بھجواديا اس طرح زیادہ تر عراقی فضائیہ جنگ ميں دشمن کی کارروائی سے محفوظ رہی۔ صدام حسین اور عراقی فوج کو بھاری دھچکا تب لگا جب عراقی فضائیہ ایرانی فضائیہ کی کمزوريوں سے فائدہ اٹھانے ميں ناکام ہو گئی۔ ایران کے قریب قریب کے تمام عراقی ہوائی اڈے ہفتوں سے ناقابلِ استعمال تھے اور ایران کے مطابق، عراق کی فضائی کارکردگی 55 فیصد تک کم کر دی گئی تھی۔ اس طرح ایرانیوں کو عراق پر حملے کے لیے تیاری کرنے کا وقت مل گيا ۔ اگرچہ ایرانی فضائیہ کی تیاری کی شرح مہینوں میں نمایاں طور پر بڑھ گئی مگر اس کا مجموعی کردار اور اثر و رسوخ کم ہوگيا، کيونکے مذہبی حکومت مسلح ملیشیا يعنی اسلامی انقلابی گارڈز کور (سپاہ پاسدارانِ انقلاب) کو وسائل ميں ترجيح دينے لگی اور بیک وقت اس کا ایک علاحدہ ہوائی بازو تیار کرنے کی کوشش کی تھی۔ 1982ء کی پہلی ششماہی میں زیادہ تر ایرانی علاقوں کی عراقی قبضے سے آزادی کے بعد، ایرانی فضائیہ کی صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو گئی۔ جارحانہ کردار کی حامل فضائیہ سے يہ ايک دفائی قوت بن گئی، یہ زیادہ تر فضائی دفاع کے فرائض اور عراق کے اندر نسبتا کم صنعتی اور فوجی اہمیت کے حامل اہداف کے خلاف حملے کرنے لگی۔ بیک وقت، ایرانی فضائیہ کو امریکی پابندیوں کی وجہ سے بیرونی مدد کے بغیر خود کو برقرار رکھنے اور اپنے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے بیڑے کو آپریشنل رکھنے کا طریقہ سیکھنے کو ملا۔ 1970ء کے عشرے میں امریکہ سے خریدے متروک سامان پر انحصار رہا، ایرانیوں نے اپنی ہوائی و فضائی صنعت قائم کی۔ ان کی کوشش زیادہ تر غیر معروف رہی اور اس نے حال ہی میں کچھ کاميابی حاصل ہوئی۔ 1984 اور 1985ء کے دوران، ایرانی فضائیہ نے خود کو بہتر طور پر منظم اور لیس مخالف عراقی فضائیہ کے مدمقابل پایا —عراقی فضائیہ نے فرانس اور سوویت یونین کی طرف سے اعلی لڑاکا بمبار طياروں کی فراہمی کے بعد ایرانی آبادی کے مراکز، صنعتی ڈھانچے، پاورپلانٹس اور تیل کے برآمدی اڈوں تابڑ توڑ حملوں کا آغاز کیا۔ يہ "ٹینکر جنگ" اور "شہروں کی جنگ" کہلائی۔ عراقی فضائی حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے خلاف اپنا دفاع کرنے کے لیے، ایرانی فضائیہ نے بھاری گرومن ايف-14 ٹام کیٹ فضائی برتری والے لڑاکا طيارے استعمال کيے۔ ٹام کیٹس بنیادی طور پر تزويراتی اہميت کے حامل اہم کہآرک جزیرے (ایرانی تیل کی برآمدات کے اہم مرکز) اور تہران کے دفاع میں تعینات کیے گئے تھے۔ 1980ء اور 1988ء کے درمیان ان علاقوں ميں عراقی فضائیہ سے 300 سے زائد فضائی جھڑپيں ہوئيں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایرانی فضائیہ متبادل اسپیئر پارٹس حاصل نہ کر سکنے کی وجہ سے عراق کے خلاف جنگ میں دفاعی حالت ميں رہی اور دفاعی اثاثوں کا تحفظ کرتی رہی۔ 1987 کے وسط ميں ایرانی فضائیہ خلیج فارس پر امریکی بحریہ کے لڑاکا طياروں کے مدمقابل آئی۔ جولائی 1987ء اور اگست 1988ء کے درمیان عراقی فضائیہ سے بڑی تعداد ميں جھڑپوں کے باعث ایرانی فضائیہ کی صلاحیت بری طرح کم اور خراب ہو گئی ۔ سب سے زیادہ نمایاں ایرانی لڑاکا پائلٹ جلیل زاندی تھے۔ ان کی شہرت ایک ايف-14 ٹام کیٹ پائلٹ کے طور پر تھی۔ وہ 11 عراقی ہوائی جہازوں کو مار گرانے ميں کامياب ہوئے۔

ایران عراق جنگ کے بعد[ترمیم]

2010 میں ايرانی فضائیہ کا سی-130ايچ طيارہ

فوری طور پر ایران عراق جنگ کے بعد، ایرانی فضائیہ کو جزوی طور پر سوویت یونین کے مگ-29لڑاکا اور سُو-24 بمبار طياروں سے اور چینی ايف-7 اور ايف ٹی-7 لڑاکا طياروں سے دوبارہ منظم کیا گیا تھا۔ ایرانی فضائیہ کے لیے درکار کمک فراہم کرتے ہوئے ان اقسام کے طياروں نے پرانے امریکی ايف-4 فينٹم، ايف-14s (اب دنیا میں صرف ایرانی فضائیہ استعمال کرتی ہے) یا ايف-5s کو نہيں بدلا۔ اس کی بجائے، ایرانی فضائیہ نے ان اقسام کو قابلِ استعمال رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور متعدد اپ گریڈ کرنے کے منصوبے شروع کر دیے .

1990ء[ترمیم]

ایرانی فضائیہ کا گرومن ايف-14 ٹام کیٹ لڑاکا طيارہ

1991 کی خلیج فارس کی جنگ کے دوران متعدد عراقی پائلٹ اتحادی فوجوں کے ہاتھوں تباہی سے بچنے کے لیے عراقی فضائیہ کے طیارے اڑا کے ایران لے آئے۔ ایرانیوں نے یہ طیارے واپس کرنے کی بجائے ایران – عراق جنگ کے ہرجانے کے طور پر اپنے استعمال میں ڈالے۔ طیارے میراج ايف1، مگ-23s، مگ-29s، سُو-20، سُو 22ايم، سُو 24، سُو 25 اور کئی آئی ايل-76 اور خفیہ,"عدنان 1" اے -اواکس آئی ايل-76 سمیت طياروں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ جنگ بندی کے بعد بھی ایرانی فضائیہ نے شمالی عراق میں کرد علیحدگی پسند تنظیم کے اڈوں کے خلاف کئی فضائی حملے کیے۔ اس طرح کی پہلی کارروائی 6 اپریل 1992ء کو آٹھ راکٹوں اور کلسٹر بموں کے ساتھ مسلح ايف-4 فينٹم طياروں پیپلز مجاہدان ایران کے کیمپ اشرف کے خلاف کی۔ اس کارروائی کے دوران ایک ايف-4 باغی یا عراقی طيارہ شکن توپ کے ذريعے مار گرايا گيا اور دونوں پائلٹ(لیفٹیننٹ کرنل امينی اور کيپٹن شریفی) اور کو گرفتار کرليا گيا اور 1998 تک رہا نہيں کيا گيا۔ جواب کی دھمکیوں کے باوجود عراق کُرد علیحدگی پسند گوریلوں کے خلاف اپنی جنگ اور نہ پرواز زون کی مغربی پابندی کے باعث فضائی آپریشنز محدود ہوجانے کی وجہ سے بدلہ لینے کے قابل نہیں تھا ۔

2000ء[ترمیم]

2006 میں ایرانی میڈیا نے خبروں کا ایک سلسلہ شائع کيا کہ وینزویلا ایران کو اپنے 21 ايف-16 طیارے فروخت کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے،صدر ہوگو چاويز کے ايک مشير نے اس بات کی تصدیق کی کہ وینزویلا کی فوج اپنے ايف-16 بیڑے کو کسی دوسرے ملک ممکنہ طور پر ایران کو امریکہ کے صدر ہوگو چاويز پر پابندیيوں کے جواب میں فروخت پر غور کر رہی ہے۔ اس کے جواب میں ایک امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ں ﻮﻧود مکارماک،نے وینزویلا کو خبردار کیا کہ وینزویلا "ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی تحریری رضامندی کے بغیر ايف-16 طیارے کسی تیسرے ملک کو فروخت يا منتقل نہیں کر سکتا۔ ماسکو دفاعی بريف کے مطابق روس نے 2000ء اور 2006ء کے درمیان ایران کو 6 سُو 25يو بی زمینی حملے کی تربیت والے لڑاکا طیارے، 12 ایم آئی-17ايس ايچ ملٹری ہیلی کاپٹر، 21 ایم آئی-17 ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹروں اور 3 ایم آئی-17بی-5 طبی ہیلی کاپٹر فروخت کيے۔ 700 ملین ڈالر کی لاگت سے مگ-29 اور ایس یو-24 لڑاکا طياروں کی مرمت کا کام ببھی مکمل کيا گيا۔ 22 ستمبر 2009ء کو تہران میں ایک سالانہ پریڈ کے بعد ايرانی فضائیہ کا ایک آئی ايل 76 سٹریٹجک کارگو طيارہ اور ایک ايف-5ايی ٹائیگر لڑاکا طيارہ آپس میں ٹکرا گئے وآرامان اور کے قریب گر کر تباہ ہوئے،طياروں پر سوار تمام سات افراد جاں بحق ہو گئے۔

2010ء[ترمیم]

اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کا مگ-29 لڑاکا طيارہ

2014ء کے اختتام پر ايرانی فضائیہ کے عراق اور شام میں داعش کے خلاف فوجی کارروائی میں ملوث ہونے کے بعض شواہد ملے تھے۔ الجزیرا کی طرف سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو میں ایرانی ايف-4 فينٹم II لڑاکا طيارہ دیالہ میں داعش کی کچھ عمارتوں پر بمباری کر رہا ہے۔

موجودہ بناوٹ[ترمیم]

سخوئی

شيراز شہر کے شاہد دستغيب بين الاقوامی ہوائی اڈے پر مہو پرواز ايرانی فضائیہ کاسخوئی سُو-24 ايم کے لڑاکا طيارہ

1979ء کے بعد سے ايرانی فضائیہ کی ساخت بہت کم تبدیل ہوئی ہے۔ سب سے پہلے بہت محدود پيمانے پر، کئی یونٹس کی دوبارہ تعيناتی سمیت بعض نئے سکواڈرن کا قیام 1980ء کی خزاں میں عمل ميں لايا گيا جب ايف-4 ڈی-طياروں کا بیڑا شیراز میں تعينات تھا، تب ايف-4ايی طياروں کے دو سکواڈرن شیراز سے ہامی دان میں تعينات کرديئے گئے اور ايف-14 ٹام کیٹ لڑاکا طياروں کا ایک اسکوارڈن مہرآباد میں تعینات کیا گيا۔ عراق کے ساتھ جنگ کے دوران زيادہ تر تعیناتیياں عارضی نوعيت کی تھيں . موجودہ فضائی دفاعی اثاثوں کی یونٹس کی ایک اہم تنظیم نو 1985ء میں کی گئی۔ 1990 کی دہائی کے دوران دوبارہ کوئی بڑی تنظیم نو نہيں کی گئی. ايرانی فضائیہ کی صلاحیتوں،ساز و سامان اور کارکردگی نے 1990 کی دہائی میں عراقی فضائیہ اور اماراتی فضائیہ کی تنظیم نو کے عمل کو متاثر کیا ۔

1993 کا جينزسينٹينل اندازہ برائے يونٹ[ترمیم]

تنزويراتی ہوائی اڈا قسم مقام يونٹ
تنزويراتی ہوائی اڈا -1 ايف-5ايی مہرآباد اسکوارڈن
ايف-7ايم مہرآباد اسکوارڈن
ايف-14اے , مگ-29 مہرآباد اسکوارڈن
سی-130ايچ، آئی ايل-76 مہرآباد اسکوارڈن
ايف-27/فالکم مہرآباد اسکوارڈن
تنزويراتی ہوائی اڈا -2 ايف-5ايی/ڈی تبريز اسکوارڈن
ايف-5ايی تبريز اسکوارڈن
ايف-7ايم تبريز اسکوارڈن
سی-130ايچ تبريز فلائٹ
تنزويراتی ہوائی اڈا -3 ايف-6 ہامادان اسکوارڈن
ايف-7ايم ہامادان اسکوارڈن
تنزويراتی ہوائی اڈا -4 ايف-5ايی/ڈی ديزفل اسکوارڈن
ايف-5ايی ديزفل اسکوارڈن
تنزويراتی ہوائی اڈا -5 شناخت نہيں ہو سکی
تنزويراتی ہوائی اڈا -6 ايف-5ايی بوشہر اسکوارڈن
ايف-5ايی بوشہر فلائٹ
ايف-5ايی بوشہر فلائٹ
تنزويراتی ہوائی اڈا -7 نورتھروپ ايف-5 شیراز اسکوارڈن
ايف-14اے , مگ-29 شیراز اسکوارڈن
سی-130ايچ، آئی ايل-76 شیراز اسکوارڈن
ايف-27 شیراز فلائٹ
آبدوز شکن لاک ہيڈ پی3-سی اورين شیراز اسکوارڈن

ممکنہ خريدارياں[ترمیم]

سُو-30[ترمیم]

یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے 250 سُو-30ايم کے ايم جنگی طیارے اور 20 آئی ايل-78 فضائی ٹینکر طیاروں کو خریدنے کے لیے روسی روسوبورون ايکسپورٹ اسلحہ گروپ کے ساتھ ایک اسلحہ کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں ۔اس نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی دفاعی حکام ممکنہ ایران – روس معاہدے جس میں ایران ایک 1 ارب ڈالر مالیت کے ایک درجن سکواڈرن جیٹ طیاروں کی ادائیگی کرے گا کی تحقیقات کر رہے ہيں۔ ایران اور روس دونوں نے ان دعووں کو پروپیگنڈہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ 16 ستمبر 2008 میں ایران کی "مہر نیوز ایجنسی" کی ایک حالیہ براڈ کاسٹ کے مطابق نامہ نگار نے ایران کی فضائیہ کو ایک درجن سُو 30 طیاروں اور مقامی سطح پر روس اور چین کے اشتراک سے بنائے گئے نظام کو ٹيسٹ کرتے ديکھا ہے۔ اسرائیل کے سخت انتباہ کے وہ ایران پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے اور جارجیا پر روس امریکہ تنازعے کے بعد روس کی طرف سے ایران کو اسلحہ فروخت کرنے کی تفصیلات آ رہی ہيں .

جے -10[ترمیم]

روسی خبر رساں ادارے ريانووستی کے مطابق ایران نے چین کے ساتھ روسی ساختہ اے ايل-31ايف اين انجنوں کے ساتھ دو سکواڈرن جے -10 لڑاکا طیارے خریدنے کے ایک سودے پر دستخط کيے ہيں۔ طیاروں کی کل لاگت 1 ارب ڈالر ہے اور فراہمی 2008 اور 2010 کے درمیان متوقع ہے۔ جبکے چینی وزارت خارجہ نے چینی لڑاکا طیارے ایران کو فروخت کرنے کے کسی سودے سے صاف انکار کيا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان لیو جیانچاؤ نے صحافیوں کو بتایا: 'یہ سچ نہیں ہے، یہ ایک غیر ذمہ دارانہ رپورٹ ہے، چین جے -10 جیٹ طیاروں پر ایران کے ساتھ مذاکرات نہيں کر رہا.

جے ايف-17 تھنڈر[ترمیم]

گلوبل سيکيورٹی کی ويب سائٹ کے مطابق جولائی 2003ء میں چین اور پاکستان کے اشتراک سے بنائے گئے نئے 'سپر-7' یا جے ايف-17 تھنڈر لڑاکا طیارے خریدنے پر چین ایران بات چيت ہوئی۔ تاہم 2014 تک ایران سے کسی بھی ایسے جہاز کے آرڈرموصول نہیں ہوئے .

جہاز[ترمیم]

موجودہ طيارے[ترمیم]

اترتا ہوا ميراج ايف 1 کيو
ديزفل ہوائی اڈے پر کھڑا مگ-29 لڑاکا طيارہ
ايرانی سی-130 ايی
طيارہ ساخت قسم ماڈل استعمال ميں نوٹ
لڑاکا طيارے
ايف-4 فينٹم II امريکہ ملٹی رول طيارہ ڈی ،ايی، آرايف 42[2]
نورتھروپ ايف-5 امريکہ لڑاکا نورتھروپ ايف-5/سائکہ 25[2] سائکہ طيارہ ايف-5 سے بنايا گيا
چينگڈو ايف-7 چین/ پاکستان لڑاکا طيارہ/انٹرسيپٹر 17[2] لائسنس پے بنا مگ-21
مگ-29 روس ملٹی لڑاکا طيارہ 20[2]
سخوئی سُو-24 روس بمبار 24[2]
گرومن ايف-14 ٹام کیٹ امريکہ لڑاکا ايف-14اے 24[2]
میراج ايف-1 فرانس لڑاکا ايف1-ايی کيو 9[2] خلیج کی جنگ کے دوران عراقی فضائیہ سے ليے گئے
بحری گشتی طيارے
لاک ہيڈ پی3-سی اورين امريکہ بحری گشت پی3-ايف 5[2]
ٹينکر طيارے
بوئنگ-707 امريکہ فضائ ميں ايندھن فراہم کرنے والا طيارہ/نقل و حمل 3[2]
بوئنگ-747 امريکہ فضائ ميں ايندھن فراہم کرنے والا طيارہ/نقل و حمل 3[2]
فوجی نقل و حمل طيارے
بوئنگ-707 امريکہ سربراہانِ مملکت کی فضائی نقل و حمل کے ليے استعمال کيا جاتا ہے 1[2]
بوئنگ-747 امريکہ سربراہانِ مملکت کی فضائی نقل و حمل کے ليے استعمال کيا جاتا ہے 2[2]
سی-130ايچ ہرکوليس امريکہ نقل و حمل ايی اور ايچ 3[2]
اليوشن آئی ايل-76 روس بھاری نقل و حمل 5[2]
فوکر ايف-27 نيدرلينڈ نقل و حمل 10[2]
پيلاٹس پی سی-6 سوئٹزر لينڈ عام مقاصد 13[2]
ہيلی کاپٹر
اگسٹا بيل-206 اٹلی عام مقاصد 2[2]
اگسٹا بيل-212 اٹلی عام مقاصد 2[2]
تربيتی طيارے
نورتھروپ ايف-5 امريکہ تربيت بی اور ايف 21[2]
چينگڈو ايف-7 چین/ پاکستان تربيت ايف ٹی-7 4[2] لائسنس پے بنا مگ-21
میراج ايف1 فرانس تربيت ايف1- بی کيو 4[2] خلیج کی جنگ کے دوران عراقی فضائیہ سے ليے گئے
پيلاٹس پی سی-7 سوئٹزر لينڈ تربيت 35[2]
اگسٹا بيل-206 اٹلی تربيت 1[2]

تنصيبات[ترمیم]

پچھلے کئی سالوں میں مشرقی اور وسطی ایران میں کئی نئے ہوائی اڈے تعمیر کیے گئے۔ ان تنصيبات میں سے کچھ نے ايرانی فضائیہ یونٹس کی بھرپور تعیناتی دیکھی ہے اور ان ميں سے کم از کم دو اب مستقل "ٹیکٹکل لڑاکا اڈے بن گئے ہيں یہ 1979ء سے اب تک قائم پہلے اس طرح کے اڈے ہیں۔ چین کی حمایت کے ساتھ نئے ہوائی اڈوں کے علاوہ ايرانی فضائیہ نے ملک بھر میں پيشگی اطلاع ریڈار کی سائٹس کی بھی ایک بڑی تعداد تعمیر کی۔ بہر حال ناہموار علاقے اور فضائی پيشگی اطلاع کے اثاثوں کی کمی کی وجہ اس کی ملکی فضائی حدود کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔ 14 تنزويراتی ہوائی اڈوں کو برقرار رکھنے کے علاوہ ايرانی فضائیہ ملک بھر ميں کئی چھوٹی ہوائی پٹيوں پر متعدد عارضی ڈیٹیچمنٹ برقرار رکھنے کی پالیسی پر بھی عمل پیرا ہے۔ مشہد کے قریب تنزويراتی ہوائی اڈے نمبر 14 پر موجود سابق عراقی میراج ايف1 2005ء اور 2006ء میں اکثر خلیج فارس کے اوپر پرواز کرتے دیکھے گئے ۔

نشانات[ترمیم]

Iriaffin.svg

ايرانی فضائیہ کے نشانات شاہی ایرانی فضائیہ سے صرف معمولی مختلف ہیں ۔ اگرچہ بنیادی فرق سفيد ميں سرخ رنگ پے سبز کے درميان لکھا لفظ "اللہ"ہے۔

ميزائل اورراکٹ[ترمیم]

8 مارچ 2009 کو ایران نے لڑاکا طیاروں کو جو مقامی سطح پر تیار فضائ سے زمین ميں مار کرنے والے میزائلوں سے مسلح کرديا گيا جو سمندر میں 110 کلومیٹر تک اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہيں .

ايرانی فضائیہ کے مشہور آپریشن[ترمیم]

  • آپریشن کمان99- ایران کا 140 سے زیادہ لڑاکا طیاروں کے ساتھ ایران عراق جنگ کے دوران سب سے بڑا فضائی آپريشن۔
  • آپریشن جلتی تلوار- ایک زیر تعمیرعراقی ایٹمی ری ایکٹر پر ہونے والا ایرانی فضائی حملہ۔
  • ايچ-3 فضائی حملہ- عراق میں ایرانی فضائیہ کا آپریشن
  • پرل آپریشن- ایرانی فضائیہ اور بحریہ کا خلیج فارس میں عراقی فضائیہ اور بحریہ کے خلاف ایک کامیاب مشترکہ آپریشن۔
  • آپریشن سلطان 10- ایران عراق جنگ کے دوران عراقی فضائیہ کو نئے فرانسیسی لڑاکا اور تربیتی طیاروں کی فراہمی متاثر کرنے کيلئے کيا گياآپریشن ۔

مزيد ديکھيں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Hossein Aryan (November 15, 2011)، The Artesh: Iran’s Marginalized and Under-Armed Conventional Military، Middle East Institute، اخذ کردہ بتاریخ December 15, 2015 
  2. ^ 2.00 2.01 2.02 2.03 2.04 2.05 2.06 2.07 2.08 2.09 2.10 2.11 2.12 2.13 2.14 2.15 2.16 2.17 2.18 2.19 2.20 2.21 2.22 "World Air Forces 2016 pg. 20"۔ Flightglobal Insight۔ 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 January 2016۔