ابی بن کعب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(اُبی بن کعب سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابی بن کعب
أبي بن كعب (عربی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
مقامِ پیدائش مدینہ منورہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 649  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
نسل بنو خزرج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نسل (P172) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ امام،قاری،فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تفسیر قرآن،فقہ،قرأت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،غزوہ احد،غزوہ خندق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

ابی بن کعب انصاری کاتب وحی، فاضل قرآن محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک ہیں۔[1]

نام ونسب اور ابتدائی حالات[ترمیم]

ابی نام،ابوالمنذر وابوالطفیل کنیت، سید القراء،سیدالانصار اورسید المسلمین القاب ہیں،قبیلہ نجار(خزرج) کے خاندان معاویہ سے تھے جو بنی حدیلہ کے نام سے مشہورتھا (حدیلہ معاویہ کی ماں کا نام تھا جو جشم بن خزرج کی اولاد میں تھی سلسلہ نسب یہ ہے: ابی بن کعب بن قیس بن عبید بن زیاد بن معاویہ بن عمر بن مالک بن نجار، [2]والدہ کا نام صہیلہ تھا جو عدی بن نذر کے سلسلہ سے تعلق رکھتی تھیں اور ابو طلحہ انصاری کی حقیقی پھوپھی تھیں اس بنا پر ابوطلحہ اور ابی پھوپھی زاد بھائی تھے۔ ابی کی دو کنیتیں تھیں، ابوالمنذر اورابوالطفیل ،پہلی کنیت آنحضرتﷺ نے رکھی تھی اور دوسری سیدناعمرنے ان کے بیٹے طفیل کے نام کی مناسبت سے پسند فرمائی۔

اسلام[ترمیم]

مدینہ کے جن انصار نے مکہ جاکر آنحضرتﷺ کے دست مبارک پر عقبہ ثانیہ میں بیعت کی تھی ان میں ابی بھی تھے آپ ان چھ صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے زمانہ نبوی میں قرآن مجید حفظ کیا اور ان فقہا صحابہ میں سے ہیں جو زمانہ نبوی میں فتویٰ دیتے تھے صحابہ میں بڑے قاری تھے۔ [3]

مواخات[ترمیم]

ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار میں برادری ومواخات قائم ہوئی تھی، اس میں سعیدبن زید بن عمرو بن نفیل سے جو عشرہ مبشرہ میں تھے ان کی مواخات ہوئی۔

غزوات میں شریک[ترمیم]

بدر سے طائف تک کے تمام غزوات میں شریک ہوئے۔

تدوین قرآن[ترمیم]

ابوبکر کے عہد خلاف میں قرآن مجید کی ترتیب و تدوین شروع ہوئی تو اس خدمت پر جو لوگ مامور ہوئے ان میں آپ بھی شامل تھے۔ عمر کے زمانے میں مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ ابتدا میں قرآن کی قرات میں بعض فروعی اختلافات تھے۔ آخر میں عثمان نے قرات قرآنی کے ممتاز ماہرین کی جانچ کے بعد اُبی بن کعب کے طریقہ کو پسند فرمایا۔ اور اسی قرات کے مطابق کلام مجید کے چار نسخے لکھو کر مختلف شہروں میں بجھوا دئیے۔ انہی نسخوں کی آج تک پیروی کی جارہی ہے۔

وفات[ترمیم]

39ھ میں عمر طبعی کو پہنچ کر عثمان غنی کے زمانہ خلافت میں جمعہ کے دن مدینہ میں وفات پائی۔ عثمان نے نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ منورہ میں دفن گئے گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انسائیکلوپیڈیا قرآنیات، قسط 5، صفحہ 15، سید قاسم محمود، اگست 2009ء، شاہکار بک فاؤنڈیشن، لاہور۔
  2. مسند احمد:5/113
  3. مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 8 صفحہ583