اُبی بن کعب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ابی ابن کعب[ترمیم]

٩٣ھ۔۔۔٦٥٩ء آپ انصاری خزرجی ہیں،کاتب وحی تھے آپ ان چھ صحابہ میں سے ہیں جنہوں نے زمانہ نبوی میں قرآن مجید حفظ کیا اور ان فقہاء صحابہ میں سے ہیں جو زمانہ نبوی میں فتویٰ دیتے تھے صحابہ میں بڑے قاری تھے۔حضور انور نے آپ کی کنیت ابوالمنذر رکھی تھی اور عمر فاروق نے ابو الطفیل،حضور انور نے آپ کو خطاب دیا سید انصار،عمر فاروق نے خطاب دیا سیدالمسلین کا،آپ نے مدینہ منورہ میں ۱۹ھ؁ انیس ہجری میں وفات پائی یعنی خلافت فاروقی میں۔[1] صحابی اور کاتب وحی۔ قبیلہ نجار (خزرج) کے خاندان معاویہ سے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سید الانصار کا خطاب مرحمت فرمایا۔ قرآن مجید کے حافظ اور قاری تھے۔ بدر سے طائف تک کے تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ حضرت ابوبکر کے عہد خلاف میں قرآن مجید کی ترتیب و تدوین شروع ہوئی تو اس خدمت پر جو لوگ مامور ہوئے ان میں آپ بھی شامل تھے۔ حضرت عمر کے زمانے میں مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ ابتدا میں قرآن کی قرات میں بعض فروعی اختلافات تھے۔ آخر میں حضرت عثمان نے قرات قرآنی کے ممتاز ماہرین کی جانچ کے بعد اُبی بن کعب کے طریقہ کو پسند فرمایا۔ اور اسی قرات کے مطابق کلام مجید کے چار نسخے لکھو کر مختلف شہروں میں بجھوا دئیے۔ انہی نسخوں کی آج تک پیروی کی جارہی ہے۔ مدینہ میں وفات پائی۔


  1. ^ مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 8 صفحہ583