اِختھوس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اِختھوس کو ایک مسحی علامت کے طور پر اپنایا گیا۔

اِختھوس کا مطلب مچھلی بنتا ہے۔ بائبل میں مچھلی کا ذکر بہت بار ملتا ہے۔ پرانے عہد نامہ میں یہ انسان کی بے بسی کی جانب اشارہ کرتی ہے۔[1][2] متی کی انجیل میں مختلف اقسام کی مچھلیوں کو اکٹھا جال میں پکڑے جانے کو آسمان کی بادشاہی سے تشبیہ دی گئی ہے۔[3] تاہم بائبل میں مچھلی ایک علامتی نشانی نہیں۔ لیکن ابتدائی مسیحی فن اور ادب میں مچھلی مسیح کے لیے ایک علامت بن گئے تھی کیونکہ ذیل کے جملے کی یونانی عبارت کو لینے سے یونانی لفظ اِختھوس (Ichthys/ΙΧΘΥΣ) بنتا ہے جس کا مطلب مچھلی ہے :

1.یونانی و انگریزی متن

ησοῦς Χριστός, Θεοῦ Υἱός, Σωτήρ" = ΙΧΘΥΣ, (Iēsous Christos, Theou Yios, Sōtēr =Ichthys)
جس کا انگریزی مطلب ہے :
"Jesus Christ, Son of God, Saviour"

2.یونانی و اُردو متن

ησοῦς Χριστός, Θεοῦ Υἱός, Σωτήρ" = ΙΧΘΥΣ، (اِیسوع خستس تھیو ویوس سوطیر = اِختھوس)
جس کا اُردو مطلب ہے :
”یسوع خدا کا بیٹا نجات دہندہ“[4]
تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مچھلی کا نشان پہلے استعمال ہوا یا یونانی جملے کی توشیخ سے یہ علامت وضع ہوئی۔ یہ نشان نومریدوں اور عشائے ربانی کے لیے بھی استعمال ہوا۔ مسیحی زمین دوز قبرستانوں میں یہ نشان غاروں کی دیوار پر کئی جگہ ملا۔[5]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. واعظ باب 9 آیت 12
  2. حبقوق باب 1 آیت 14
  3. متی باب 13 آیت 47
  4. قاموس الکتاب صفحہ 884
  5. قاموس الکتاب صفحہ 885