اچھر سنگھ جتھیدار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اچھر سنگھ جتھیدار
Jathedar Achhar Singh.jpg
 

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 18 جنوری 1892  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 6 اگست 1976 (84 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
جتھیدار اکال تخت (13 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
9 فروری 1924  – 10 جنوری 1926 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ادھم سنگھ ناگوکے 
ادھم سنگھ ناگوکے  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png

اچھر سنگھ جتھیدار (18 جنوری، 1892-6 اگست، 1976) کا جم سردار حکم سنگھ کے گھر لاہور ضلعے کے گاؤں پنڈ گھنیئے میں ہوا تھا۔ 15 برس کی عمر میں برما چلے گئے۔ اچھر نے برما جا کے برمی اور اردو کی تعلیم حاصل کی۔ اور پھر اس کے برما کی ملٹری پولیس میں بھرتی ہو گئے۔ 1921ء تکّ مختلف مقامات پر تعینات رہے اور حوالدار کا عہدہ حاصل کیا۔

گرودوارہ سدھار لہر[ترمیم]

سری ننکانہ صاحب کے خونی سانحے نے سبھی سکھ نوجوانوں کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ سری اکال تخت صاحب کے سابقہ جتھیدار بھائی اچھر سنگھ بھی سری ننکانہ صاحب کے سانحے کی بعد فوجی نوکری کو چھوڑ کر کے گورو گھر کی خدمت کے لیے اکالی لہر میں شامل ہو گئے۔ 1921ء میں ہوئے سری ننکانہ صاحب کے سانحے کی بعد سکھی صدق کے لیے دل و جان سے اٹھی آواز پر لبیک کہتے ہوئے فوجی نوکری سے استعفی دے کر کے سینٹرل ماجھا خالصہ دیوان میں شامل ہو کے گرودوارہ سدھار لہر میں پوری طرح جٹ گئے۔ 10 فروری، 1924 کو جتھیدار اچھر سنگھ کو سری اکال تخت صاحب [1] کی سیوا سونپی گئی مگر کچھ ہی عرصے بعد 7 مئی 1924 کو حکومت نے آپ کو گرفتار کر لیا، ڈیڑھ سال کی قید کی سزا دی گئی۔

گربانی کے محقق سکالر[ترمیم]

گربانی کے محقق سکالر ہونے کی وجہ سے لاہور گرودوارہ کمیٹی کے سربراہ سردار امر سنگھ شیر پنجاب نے آپ کو گرودوارہ ڈیہرا صاحب کے گرنتھی کی ذمہ داری سونپ دی تھی۔ وہاں 14 سال کی لگاتار شاندار خدمت کے بعد سچکھنڈ سری ہرمندر صاحب کے گرنتھی کی حیثیت سے تقرری ہوئی۔ 1955ء سے لے کر 1962 تکّ آپ سری اکال تخت صاحب کے جتھیدار رہے۔ آپ نے سری اکال تخت صاحب کی جتھیداری سے استعفی دے کے ماسٹر تارا سنگھ کے دھڑے کے ساتھ جڑ کے سیاسی خدمت شروع کی۔ اس دھڑے نے آپ کو نومبر 1962ء میں اکالی دل کا سربراہ چن لیا۔ جتھیدار اچھر سنگھ کی خدمات کی ہمیشہ تعریف کی جاتی رہی۔ آخر 6 اگست، 1976ء کو جسے خاکی کو چھوڑ کر گورو کے قدموں میں جا پہنچے۔

حوالہ جات[ترمیم]