اژدہا بادشاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اژدہا بادشاہ
海龍王, British Museum.jpg

اَژْدَہا بادْشاہ (Dragon King) جسے اژدہا دیوتا (Dragon God) بھی کہا جاتا ہے، چینی اساطیر میں موسم اور پانی کا دیوتا ہے۔ اسے مقسِمِ باران اور یانگ (yang) کی تولیدی طاقت نسل کشی کے حیوانی مظاہر کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔[1] اُسے چین کی ثقافت میں لوونگ (lóng) کے قدیم تصور کی اجمالی شخصیت گردانا جاتا ہے۔وہ مختلف روپ دھار سکتا ہے یعنی جسمانی طور پر مختلف کرداروں کی اشکال بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن میں سے سیہائی لونگ وانگ (چینی : 四海龍王، انگریزی : Sihai Longwang) ، “ چار سمندروں کا اژدہا بادشاہ” (Dragon King of the Four Seas) [2] اور اعلی ترین دیوتاؤں کے ارکان خمسہ (五方上帝 Wǔfāng Shàngdì) کی رہبری میں آبی اور ارواح عالم اموات(Chthonic) کے نمائندے ژوان ین کے (Xuanyuan) زرد اژدھے (黃龍 Huánglóng) کی اشکال یا ان کی حیوانی تجاسیم قابل ذکر ہیں۔بہاروں اور کنوؤں کا اژدہا بادشاہ (Dragon King of Wells and Springs) بھی اس کے اساطیری القاب میں سے ایک ہے۔[3] اژدہا بادشاہ کو نہ صرف اژدھوں کا بادشاہ تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ پانی کی تمام مخلوقات بھی اس کے تصرف اور اختیار میں مانی جاتی ہیں۔ اژدہا بادشاہ ، شہنشاہ جید (Jade Emperor) کے احکام کا پابند ہے۔ پانی کا دیوتا ہونے کے ساتھ ساتھ اژدہا بادشاہ تؤدی گونگ (Tudigong) اور ہوؤتو (Houtu) کی طرح مربی معبود کے فرائض بھی سر انجام دیتا ہے۔[4]

زرد اژدہا[ترمیم]

زرد اژدہا (黃龍 Huánglóng) اگرچہ پانی پر عامل ہے لیکن اس کا جسم باقاعدہ آبی ماہیت و شکل نہیں رکھتا یعنی اس کی تجسیم حیات زیر آب و متعلقہ آب نہیں ہے۔ تاہم سلطنطت زرد کے تجسم زومروفک کی حیثیت سے بے شمار اشیاء کے ذرائع کا نمائندہ ہے۔[5]

چار سمندروں کے اژدہا بادشاہ[ترمیم]

چار سمندروں کے اژدہا بادشاہوں (四海龍王 Sìhǎi Lóngwáng) میں سے ہر ایک کی نسبت کسی مخصوص رنگ، آبی جسم اور سمت سے ہے جو چہار سمتوں اور چین کی قدرتی حد بندیوں سے متعلق ہے۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Tom (1989), p. 55.
  2. Overmyer (2009), p. 20: "[...] Dragon Kings of the Four Seas, Five Lakes, Eight Rivers and Nine Streams (in sum, the lord of all the waters) [...]".
  3. Overmyer (2009), p. 21.
  4. Nikaido (2015), p. 54.
  5. Fowler (2005), pp. 200–201.
  6. Tom (1989), p. 55