مندرجات کا رخ کریں

اکرم رضا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

اکرم رضا ٹیسٹ کیپ نمبر 114
ذاتی معلومات
مکمل ناممحمد اکرم رضا
پیدائش (1964-11-29) 29 نومبر 1964 (عمر 59 برس)
لاہور, پاکستان
بلے بازیدائیں ہاتھ کا بلے باز
گیند بازیدائیں ہاتھ کا آف اسپن گیند باز
حیثیتگیند باز
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
پہلا ٹیسٹ (کیپ 114)1 دسمبر 1989  بمقابلہ  بھارت
آخری ٹیسٹ31 جنوری 1995  بمقابلہ  زمبابوے
پہلا ایک روزہ (کیپ 73)23 اکتوبر 1989  بمقابلہ  آسٹریلیا
آخری ایک روزہ26 فروری 1995  بمقابلہ  زمبابوے
ملکی کرکٹ
عرصہٹیمیں
1996–1998فیصل آباد
1986–2004حبیب بینک
1981–1986لاہور سٹی
1984–1985لاہور سٹی بلیوز
1983–1984لاہور سٹی گرینز
1985–1986لاہور سٹی وائٹس
1988–2001سرگودھا کرکٹ ٹیم
1984–1985واپڈا
امپائرنگ معلومات
فرسٹ کلاس امپائر23 (2009–2011)
لسٹ اے امپائر14 (2008–2011)
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ ایک روزہ فرسٹ کلاس لسٹ اے
میچ 9 49 215 185
رنز بنائے 153 193 5971 1048
بیٹنگ اوسط 15.30 17.54 26.42 15.87
100s/50s -/- -/- 3 0/2
ٹاپ اسکور 32 33* 28 52*
گیندیں کرائیں 1526 2601 39004 9301
وکٹ 13 38 657 199
بالنگ اوسط 56.30 42.39 25.58 29.07
اننگز میں 5 وکٹ 32 1
میچ میں 10 وکٹ n/a 3 n/a
بہترین بولنگ 3/46 3/18 7/65 5/27
کیچ/سٹمپ 8/- 19/- 176 88
ماخذ: کرکٹ آرکائیو، 25 جنوری 2012

محمد اکرم رضا (پیدائش: 22 نومبر 1964ء لاہور، پنجاب) ایک سابق پاکستانی کرکٹ کھلاڑی تھے، جنھوں نے 1989ء سے 1995ء تک 9 ٹیسٹ اور 49 ایک روزہ بین الاقوامی میچز کھیلے۔محمد اکرم رضا نے صرف 16 سال کی عمر میں لاہور سٹی کے لیے اپنے مقامی کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا۔محمد اکرم رضا نے پاکستان کے علاوہ فیصل آباد، حبیب بینک لمیٹڈ، لاہور، سرگودھا اور واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کی طرف سے کرکٹ مقابلوں میں حصہ لیا۔

ٹیسٹ کرکٹ[ترمیم]

اکرم رضا کو بھارت کے خلاف لاہور کے مقام پر 1989ء کے سیزن میں ٹیسٹ کیپ دی گئی تھی لیکن اس پہلے ٹیسٹ میں وہ کوئی متاثر کن کارکردگی نہ دکھا سکے اور 58 رنز دینے کے باوجود ان کے حصے میں کوئی وکٹ نہ آئی تاہم اگلے سال 1990ء میں انھیں ویسٹ انڈیز کے خلاف فیصل آباد میں ٹیم کا حصہ بنایا گیا۔ یہ ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کی 7 وکٹوں سے فتح پر ختم ہوا۔ یہ ایک سلو رنز میچ تھا جس میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 170 رنز بنائے جس میں سلیم ملک کے 74 رنز ایک بڑا سکور تھا۔ جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی کچھ مختلف کارکردگی نہ دکھا سکی اور پوری ٹیم 195 رنز پر زمین بوس ہو گئی۔ وقار یونس 46/5 اور وسیم اکرم 63/3 کے ساتھ ساتھ اکرم رضا نے 52 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کپتان ڈیسمنڈ ہینز کو ایل بی ڈبلیو کر کے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی جبکہ رچی رچرڈسن ان کا دوسرا شکار بنے۔ اگلے سال 1991ء میں بھی انھیں سری لنکا کے خلاف ایک ہی ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ملا۔ سیالکوٹ کے اس ٹیسٹ میں سری لنکا نے پہلے کھیلتے ہوئے 270 رنز بنائے۔ سنتھ جیسوریا 77 کے ساتھ نمایاں سکورر تھے۔ اکرم رضا نے 37 رنز دے کر 2 کھلاڑیوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ وقار یونس 83/5 اور عاقب جاوید 70/3 کے ساتھ سری لنکا کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ پاکستان نے سلیم ملک 101 اور رمیز راجا 98 اور کپتان عمران خان 93 کے ساتھ 423 رنز بنا کر 5 وکٹوں پر باری ختم کردی۔ سری لنکا کی دوسری اننگ میں اکرم میں 34 رنز دے کر کپتان اروندا ڈسلوا کی وکٹ حاصل کی۔ 1994ء میں جب پاکستان نے نیوزی لینڈ کا دورہ کیا تو اکرم رضا بھی ٹیم کے ساتھ کیوی سرزمین پر اترے۔ ولنگٹن کے پہلے ٹیسٹ میں وہ کوئی وکٹ نہ لے سکے تاہم انھوں نے 2 کھلاڑیوں کو ضرور کیچ کیا۔ کرائسٹ چرچ کے اگلے ٹیسٹ میں بھی ان کی گیندیں نیوزی لینڈ کے بیٹسمینوں کے لیے کھیلنا زیادہ دشوار نہ تھا اس لیے انھیں اس ٹیسٹ میں بھی وکٹ نہ مل سکی تاہم انھوں نے ناقابل شکست 29 اور 26 رنز ضرور سکور کیے۔ اسی سال انھیں سری لنکا کے خلاف بھی ایک ٹیسٹ کھیلنے کو ملا جو ان کا کارکردگی کے حوالے سے ایک اچھا ٹیسٹ تھا۔ پاکستان کی 301 رنز کے بھاری مارجن سے فتح یادگار شمار کی جاتی ہے۔ کولمبو کے پریما داسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 390 رنز بنائے۔ سعید انور 94، انضمام الحق 81 اور وسیم اکرم 37 کے ساتھ سکور کو قابل ذکر سطح پر لے گئے تھے۔ سری لنکا کی ٹیم مشکلات سے دوچار نظر آئی تاہم اروندا ڈسلوا کے 127 رنز ایک یادگار باری تھی جس کے سبب میزبان ٹیم 226 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ اکرم رضا نے 46 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ پاکستان نے دوسری اننگ میں 4 وکٹوں پر 318 رنز بنا کر باری ختم کردی اور سری لنکا کو جیتنے کے لیے 483 رنز کا ہدف ملا۔ پاکستان کی اننگ میں سعید انور کے 136 رنز نمایاں تھے جو انھوں نے 218 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے بنائے تھے۔ سری لنکا کی ٹیم 181 پر پویلین لوٹ گئی۔ اکرم رضا نے دوسری اننگ میں بھی 83 رنز دے کر 3 کھلاڑی آئوٹ کرکے پورے میچ میں 6 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1994ء میں جب آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تو 2 ٹیسٹ میں اکرم رضا صرف 2 وکٹیں ہی حاصل کر پائے۔ اس سے پہلے اگلے سال انھوں نے ٹیم کے ساتھ زمبابوے کا دورے کیا لیکن ہرارے کے ٹیسٹ میں 19 اور 2 ناٹ آئوٹ رنز بنانے کے علاوہ بولنگ میں 112 رنز دے کر وکٹ سے محروم رہے۔ یہ ان کا آخری ٹیسٹ تھا جس کے بعد وہ کبھی ٹیسٹ کے لیے طلب نہیں کیے گئے۔

ون ڈے کیریئر[ترمیم]

اکرم رضا نے آسٹریلیا کے خلاف برسبین کے مقام پر 1989ء میں اپنے ایک روزہ کیریئر کا آغاز کیا تھا لیکن اس پہلے میچ میں وہ 12 ناٹ آئوٹ بنانے کے علاوہ کوئی وکٹ نہ لے سکے تاہم اسی سیزن میں بھارت میں منعقدہ نہرو کپ کے ایک میچ میں لکھنؤ کے مقام پر سری لنکا کے خلاف انھوں نے سنکاگوروسنہا کو آئوٹ کرکے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔ اس میچ میں انھوں نے 2 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ اس کے بعد تسلسل کے بعد انھیں میچ کے مواقع ملتے رہے اور وہ اپنی ملی جلی کارکردگی سے ٹیم کا حصہ بنتے رہے۔ ان کے ساتھ ان آئوٹ کا معاملہ بھی رہا۔ 1995ء میں زمبابوے کے خلاف ہرارے کے مقام پر انھوں نے اپنا آخری ایک روزہ میچ کھیلا جس میں وہ 45 رنز کے عوض ایک وکٹ ہی لے پائے۔

2000 کی کرپشن رپورٹ[ترمیم]

جسٹس ملک محمد قیوم کی 2000ء کی کرپشن رپورٹ میں رضا کا نام لیا گیا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے جرمانہ عائد کیا تھا۔

امپائرنگ کیریئر[ترمیم]

محمد اکرم رضا نے کھیل سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد امپائرنگ کی اور 2008ء میں ڈومیسٹک لیول تک پہنچ گئے۔

2011: بیٹنگ کے الزام میں گرفتاری[ترمیم]

15 مئی 2011ء کو پنجاب پولیس نے لاہور کے ایک شاپنگ مال میں چھاپہ مارا، وہاں سے رضا کو انڈین پریمیئر لیگ کے میچوں پر سٹے بازی کے الزام میں 6 دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کیا گیا، پولیس نے اس دوران ٹیلی فون، کمپیوٹر، ٹیلی ویژن اور بڑی رقم برآمد کی۔ چھاپے کے دوران گرفتار تمام ساتوں افراد پر اسی دن الزام عائد کیا گیا۔

2012 میں ایمپائر کے طور پر بحالی[ترمیم]

محمد اکرم رضا کو غیر قانونی سٹہ بازی کے ریکیٹ میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر معطلی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ امپائرنگ پینل میں دوبارہ شامل کر دیا گیا۔ لاہور کی ایک عدالت میں سال بھر کی کارروائی کے بعد، انھوں نے اپنا پی سی بی کا کردار دوبارہ حاصل کر لیا۔ اس وقت کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل جاوید میانداد نے اپنی تقرری کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امپائر نے ثبوت پیش کیا ہے کہ وہ بے قصور ہیں۔

اعداد و شمار[ترمیم]

اکرم رضا نے 9 میچوں کی 12 اننگز میں 2 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر 32 کے بہترین انفرادی سکور کے ساتھ 153 رنز بنائے۔ بیٹنگ میں ان کی اوسط 15.30 رہی۔ جبکہ 49 ایک روزہ میچوں کی 25 اننگ میں 14 مرتبہ ناٹ آئوٹ رہ کر انھوں نے 193 رنز سکور کیے۔ 17.54 کی اوسط سے بننے والے اس مجموعے میں 33 ناقابل شکست ان کا بہترین سکور تھا۔ جبکہ 215 فرسٹ کلاس میچوں کی 289 اننگز میں 63 دفعہ بغیر آئوٹ ہوئے انھوں نے 5971 رنز کا مجموعہ سکور کیا۔ 26.42 کی اوسط سے سکور ہونے والے ان رنزوں میں 3 سنچریاں اور 28 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ اس کا سب سے زیادہ سکور 145 تھا۔ ٹیسٹ میچوں میں 8، ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 19 اور فرسٹ کلاس میچوں میں 176 کیچز ان کی فیلڈنگ کی کارکردگی بیان کر رہے تھے۔ اکرم رضا نے 732 رنز دے کر 13 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کیں۔ 3/46 ان کی ایک اننگ کی بہترین کارکردگی جبکہ 6/129 ان کی ایک میچ میں بہترین اعداد و شمار تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ انھیں قدرے مہنگی 56.30 کی اوسط سے یہ وکٹ حاصل کرنے پڑے۔ ایک روزہ میچوں میں ان کی وکٹوں کی تعداد 38 رہی۔ 3/18 ان کی کسی ایک اننگ میں بہترین بولنگ رہی۔ ایک روزہ مقابلوں میں انھیں 42.39 کی فی وکٹ اوسط ملی۔ اسی طرح انھوں نے 16812 رنز دے کر 657 فرسٹ کلاس وکٹیں حاصل کیں۔ اس میں 7/65 ان کی بہترین انفرادی بولنگ تھی۔ 32 دفعہ ایک اننگ میں 5 اور اس سے زیادہ وکٹیں جبکہ 3 دفعہ ایک میچ میں 10 وکٹوں کا حصول انھوں نے ممکن بنایا تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]