اکشے کمار دت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اکشے کمار دت
(بنگالی میں: অক্ষয়কুমার দত্ত خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
اکشے کمار دت

معلومات شخصیت
پیدائش 15 جولائی 1820(1820-07-15)
باگرہٹ صدر ذیلی ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 18 مئی 1886(1886-50-18) (عمر  65 سال)
کولکاتا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت برطانوی ہند
عملی زندگی
پیشہ مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ،  سنسکرت،  فرانسیسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

اکشے کمار دت (بنگالی: অক্ষয় কুমার দত্ত) ‏(15 جولائی 1820ء – 18 مئی 1886ء) بنگالی نشاۃ ثانیہ کے محرکین میں سے ایک تھے۔ پورب بردھمان میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام پتامبر دت تھا۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

ہردمان جیفرے کی خصوصی نگرانی میں اورینٹل سیمینری میں پڑھنے کے بعد اپنے والد کی وفات کی وجہ سے اکشے کمار نے تعلیم چھوڑ دی اور ملازمت تلاش کرنے لگے تاہم حصول علم کا شوق برقرار رہا۔ شوبھا بازار راج باڑی لائبریری میں انہوں نے پڑھا اور حساب و ہندسہ میں مہارت حاصل کی۔ وہ سنسکرت اور فارسی زبانیں جانتے تھے، نیز اسکول میں ہندو کتب مقدسہ کا مطالعہ بھی کیا تھا۔

بعد ازاں انہوں نے فرانسیسی، المانی اور ہندوستان کی متعدد زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ محض چودہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنی نظموں پر مشتمل ایک کتاب "اننگ موہن" مرتب کی تھی۔ اکشے کمار ایشور چندر گپتا کے سمبد پربھاکر کے لیے بھی ترجمہ کیا کرتے تھے۔ اکشے کمار نے کچھ عرصہ میڈیکل کالج میں بھی تعلیم حاصل کی جہاں انہوں نے نباتیات، حیوانیات اور کیمیا پڑھا۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

سنہ 1839ء میں اکشے کمار تتوبودھنی سبھا میں شامل ہوئے اور جلد ہی اس کے معاون معتمد بن گئے۔ اگلے سال انہیں تتوبودھنی پاٹھ شالا میں استاد مقرر کیا گیا اور سنہ 1843ء میں تتوبودھنی سبھا اور برہمو سماج دونوں کے ترجمان کے طور پر تتوبودھنی پتریکا منظر عام پر آیا۔ اکشے کمار اس کے پہلے مدیر تھے۔ اس بنا پر بنگالی زبان میں نثر نگاری کے ارتقا میں ان کا قابل ذکر تعاون رہا۔

اکشے کمار پہلے بنگالی مصنف تھے جنہوں نے جدید سائنسی نظریات کے فروغ کے لیے سنجیدہ اور موقر تصنیفات پیش کیں اور خصوصاً طبیعیات اور جغرافیہ کو اپنا موضوع بنایا۔ نیز انہوں نے فلکیات، ریاضی اور ارضیات پر بھی خوب خامہ فرسائی کی۔ ہندو کالج کے طلبہ بنگالی تحریروں کا مضحکہ اڑایا کرتے، حتیٰ کہ بعضوں کا خیال تھا بنگالی زبان میں کوئی قابل ذکر شے نہیں لکھی جا سکتی۔ جب تتوبودھنی پتریکا منظر عام پر آیا تو وہ طلبہ نہ صرف اسے سنجیدگی سے پڑھتے بلکہ ایک دوسرے کو اس کے مطالعے کی ترغیب کیا کرتے تھے۔

اکشے کمار دت برہمو سماج میں وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ویدوں کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ وہ خطا سے پاک نہیں ہے اور اس ضمن میں وہ دیبندر ناتھ ٹیگور کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ بالآخر برہمو سماج نے اس تصور کو اپنایا کہ گو ہم تمام مذہبی کتابوں کا احترام کرتے ہیں لیکن انہیں خطا سے پاک نہیں سمجھتے۔ اسی پس منظر میں دیبندر ناتھ ٹیگور نے برہمو دھرما تصنیف کی تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • Ramtanu Lahiri O Tatkalin Banga Samaj in Bengali by Sivanath Sastri Translated into English by Sir Roper Lethbridge as "A History of the Renaissnace in Bengal", Renaissance Publishers Pvt. Ltd., Kolkata, India, 2002
  • Sansad Bangali Charitabhidhan (Biographical dictionary) in Bengali edited by Subodh Chandra Sengupta and Anjali Bose
  • Akshay Kumar Datta: Aandhar Raatey Ekla Pathik in Bengali by Ashish Lahiri (Dey's Publishing, Kolkata, ISBN 81-295-0789-7)
  • Bijnan-Buddhi Charchar Agrapathik Akshaykumar Dutta O Bangali Samaj in Bengali, edited by Muhammad Saiful Islam (Renaissance Publishers, Kolkata)
  • Akshaykumar Datta: The First Social Scientist in Bengal (ed. Muhammad Saiful Islam, Renaissance, Kolkata, January 2009