اکمال تہذیب الکمال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اِکمال تہذہب اللمال فی اَسماء الرجال علامہ مزی کی کتاب پر علامہ حافظ علاؤ الدین مغلطائی نے حاشیہ لکھا ہے اور تکمیل فرمائی ہے یہ ضخیم کتاب ہے اور نفع بخش بھی زیادہ ہے علامہ مزی نے اپنی کتاب ’’ تہذیب الکمال ‘‘ میں حسبِ ذیل باتیں ملحوظ رکھی ہیں

  • ( 1 ) صحاح ستہ کے رجال پر کلام کیا ہے ، اسی طرح صحاحِ ستہ کے مصنفین نے جو دیگر کتبِ احادیث لکھی ہیں ان کے رجال پر بھی کلام کیا ہے ، ہاں اصحاب صحاحِ ستہ نے جو کتب تواریخ تصنیف کی ہیں ان کے رجال کو ترک کر دیا ہے ، کیوں کہ کتبِ تواریخ میں آنے والی احادیث سے دلائل پیش کرنا مقصود نہیں ہوتا ۔
  • ( 2 ) ہر ترجمے میں ایسے رموز و اشارات اپنائے ہیں جو ان مصنفات کو بتلاتے ہیں جو صاحب ترجمہ کی سند سے حدیث نقل کرتی ہیں ۔
  • ( 3 ) ہر راوی کے حالات میں اس کے اساتذہ اور شاگردوں کا بھی بالا ستیعاب ذکر کیا گیا ہے ، جتنا مصنفؒ سے ہو سکا اتنا کیا ہے ، اسی لیے اکثر رواۃ میں اس کو ملحوظ رکھا ہے ، اس لیے کہ تمام رواۃ میں ان کے شیوخ و اساتذہ اور شاگردوں کا بالاستیعاب ذکر محال نہیں تو مُتَعَسِّر ضرور ہے ۔
  • ( 4 ) رواۃ کے اساتذہ اور شاگردوں کا ذکر بھی حروف معجم کی ترتیب پر کیا گیا ہے ۔
  • ( 5 ) راوی کا سنہ وفات ، اختلاف اور علمائے کرام کے اقوال کا اس سلسلے میں تفصیلی ذکر کیا ہے ۔
  • ( 6 ) کچھ تراجم ایسے ذکر کیے ہیں جن میں احوالِ رواۃ مذکور نہیں ، صرف اتنا کہا ہے کہ : ’’ روی عن فلان ، روی عنہ فلان ، أخرج لہ فلان ‘‘ ظاہر یہی ہے کہ کچھ رواۃ کے احوال پر کلام نہیں کیا ہے اور یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کیوں کہ ہزاروں راویوں کے احوال پر کلام کرنا کوئی معمولی کام نہیں ہے ، اس کے باوجود جن راویوں کے احوال ذکر نہیں کیے ہیں ان کی تعداد ذکر کردہ راویوں کے احوال کی بہ نسبت بہت کم ہے ۔
  • ( 7 ) اُن احادیث کو ذکر کر کے کتاب طویل کردی ہے جو موافقات اور اِبدال وغیرہ اقسامِ علو میں شمار ہوتی ہیں اور وہ ان کی مرویات ہیں ، کتاب کے حجم کے اعتبار سے ایسی احادیث کتاب کی سائز کا ایک تہائی تو ضرور ہوں گی ، اس کا اندازہ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ نے ’’ تہذیب التہذیب ‘‘ کی مقدمے میں ص/3؍میں لگایا ہے ۔
  • ( 8 ) تراجم رجال کے اسماء کو حروفِ معجم پر ترتیب دیا ہے جس میں صحابہ کے اسماء دوسروں کے ساتھ ملے جلے ہیں ، اس کے برعکس ، الکمال کے مصنف نے صحابہ کے اسماء کو الگ سے بیان کیا ، دوسروں کے ناموں کو ان میں مخلوط نہیں کیا ہے ، البتہ حرف ہمزہ میں اپنے نام احمد سے اور حرف میم میں اپنے نام محمد سے آغاز فرمایا ہے ۔
  • ( 9 ) بعض اقوال جرح و تعدیل میں ، ائمہ جرح و تعدیل میں سے ان کے قائلین کی طرف ، سند کے ساتھ منسوب کیے گئے ہیں ۔ ان اقوال میں سے بعض اقوال بغیر سند کے ذکر کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں فرمایا ہے : جن اقوال کو ہم نے اپنی اس کتاب میں بلا سند ذکر کیا ہے ، اگر اس کو معروف اور جزم و یقین کے صیغے کے ساتھ ذکر کیا ہے تو ان اقوال میں کوئی خرابی نہیں اور اگر وہ اقوال بغیر سند کے ، صیغہ مجہول ( اور تمریض ) کے ساتھ مذکور ہوئے ہیں تو سمجھنا چاہیے کہ وہ محل نظر ہیں ۔
  • ( 10 ) مبہم اسماء اور کنیت والے بعض ناموں کی ترتیب پر تنبیہ فرمائی ہے چناںچہ فرماتے ہیں :
  • اگر کنیت والے اصحاب میں ایسے راوی ہیں جن کے اسماء بغیر کسی اختلاف کے معروف و مشہور ہیں تو ہم نے ان کو اسماء میں ذکر کیا ہے پھر کنیت والوں میں اس پر تنبیہ کردی ہے اور اگر ان میں وہ راوی ہیںجن کے اسماء غیر معروف ہیں یا اس میں اختلاف ہے تو ہم نے ان کا ذکر کنیت میں کیا ہے اور اسماء میں جو بھی اختلاف ہے اس کو بیان کیا ہے ۔
  • اسی طرح خواتین راویوں کے اسماء میں بھی کیا ہے ، کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اسماء دو یا دو سے زیادہ تراجم میں داخل ہوجاتے ہیں تو ہم ان کو پہلے ترجمے میں ذکر کر دیتے ہیں پھر دوبارہ ترجمے میں اس پر تنبیہ کر کے گزر جاتے ہیں ۔ بعد ازاں ان راویوں کے لیے فصلیں ہیں جو اپنے باب یا دادا یا ماں یا چچا کی طرف منسوب ہوکر مشہور ہوئے ہیں ، اسی طرح اپنے قبیلے ، شہر یا پیشے وغیرہ کی طرف نسبت کرکے جانے جاتے ہیں یا اپنے لقب وغیرہ سے مشہور ہوئے یا ایسے راوی جن کا مبہم انداز میں تذکرہ ہے مثلاً : فلان عن أبیہ یا فلان عن جدہ أو أمہ أو عمہ أو خالہ ، أو فلان عن رجل أو إمرأۃ وغیرہ ، ان کے ساتھ اسماء کا اگر پتہ چل جائے تو ان کو بھی ذکر کرتے ہیں ۔ یہی حال خواتین رواۃ میں بھی کیا ہے ۔
  • ( 11 ) کتاب میں تین فصلیں ذکر کی ہیں : ایک ائمہ ستہ کی شرائط کے بارے میں ، دوسرے روایت عن الثقات کی ترغیب کے سلسلے میں اور تیسری فصل نبوی ترجمے کے بارے میں ۔
  • ( 12 ) ’’ الکمال ‘‘ اصل کے متعدد تراجم کو تہذیب الکمال میں حذف کر دیا ہے ، اس لیے کہ مصنفِ ’’ الکمال ‘‘ نے ان کے تراجم ذکر کیے ہیں ، کیوں کہ بعض اصحاب ستہ نے ان کے تراجم ذکر کیے ہیں ، لیکن کتب ستہ میں سے کسی پر بھی ان کے راویوں کی روایت پر انحصار نہیں کیا ہے ۔