اکو یادو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اکو یادو
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1972  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 2004 (31–32 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ناگپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات بلوا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر

بھرت كالي چرن عرف اَکُّوْ یَادَو بھارت کا ایک 32 سالہ مبینہ طور پر عصمت ریزی اور قتل کا مجرم تھا۔[1][2][3] اس کو 13 اگست، 2004ء کے دن کستوربانگر کی تقریبًا 200 خواتین کی ایک بھیڑ نے مار ڈالا تھا۔ یادو کو ستر سے زیادہ بار چاقو مارا گیا تھا اور مرچ پاؤڈر اور پتھر اس کے چہرے پر پھینکے گئے تھے۔ اس کے مبینہ متاثرین میں سے ایک نے اس کا عضو تناسل کاٹ دیا تھا۔[4] عدالت کے سنگ مرمر کے فرش پر ناگپور ضلع کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔ اسے مارنے والی خواتین کا دعوٰی ہے کہ یادو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے سزا سے بے پروا ہو کر عصمت دری کا مرتکب ہو رہا تھا اور مقامی خواتین کو گالی بھی دیتا تھا۔ مقامی پولیس اس کی متاثرات کی مدد یا یادو پر مقدمہ چلانے سے انکار کر رہی تھی کیونکہ یادو انہیں رشوت دے رہا تھا۔ یادو نے مبینہ طور پر کم از کم تین افراد کو قتل کر دیا تھا اور ریل کی پٹریوں پر ان کے جسموں کو پھینک دیا تھا۔ یادو کا قتل اس وقت ہوا جب وہ غصے میں آئی بھیڑ میں عصمت دری سے متاثر عورت کو دیکھا اور اسے ایک فاحشہ کہا۔

2012ء میں اكو یادو کے بھتیجے امن یادو کو اسی طرح کے حالات میں چاقو سے مارا گیا تھا اور بعد میں اس کی موت ہو گئی تھی۔[5]

پولیس کی کارروائی[ترمیم]

پانچ خواتین کو فوری طور پر گرفتار کیا گیا تھا پر انہیں شہر میں مظاہروں کے بعد چھوڑا گیا کیونکہ جھگی جھونپڑی کی ہر خاتون نے فخریہ طور پر اس قتل کی ذمہ داری لی تھی۔ فوری طور پر اوشا نارائن نامی سماجی خدمت گزار کو حراست میں لیا گیا جنہیں کچھ اور خواتین کے ساتھ 2012ء ہی میں میں چھوڑ دیا گیا تھا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]