اکو یادو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اکو یادو
(ہندی میں: भारत कालीचरन ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (ہندی میں: Bharat Kalicharan ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش سنہ 1972  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بھارت  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 اگست 2004 (31–32 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناگپور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات بلوا  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سلسلہ وار قاتل  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بھرت كالي چرن عرف اَکُّوْ یَادَو بھارت کا ایک 32 سالہ مبینہ طور پر عصمت ریزی اور قتل کا مجرم تھا۔[1][2][3] اس کو 13 اگست، 2004ء کے دن کستوربانگر کی تقریبًا 200 خواتین کی ایک بھیڑ نے مار ڈالا تھا۔ یادو کو ستر سے زیادہ بار چاقو مارا گیا تھا اور مرچ پاؤڈر اور پتھر اس کے چہرے پر پھینکے گئے تھے۔ اس کے مبینہ متاثرین میں سے ایک نے اس کا عضو تناسل کاٹ دیا تھا۔[4] عدالت کے سنگ مرمر کے فرش پر ناگپور ضلع کی عدالت میں مقدمہ چل رہا تھا۔ اسے مارنے والی خواتین کا دعوٰی ہے کہ یادو ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ سے سزا سے بے پروا ہو کر عصمت دری کا مرتکب ہو رہا تھا اور مقامی خواتین کو گالی بھی دیتا تھا۔ مقامی پولیس اس کی متاثرات کی مدد یا یادو پر مقدمہ چلانے سے انکار کر رہی تھی کیونکہ یادو انہیں رشوت دے رہا تھا۔ یادو نے مبینہ طور پر کم از کم تین افراد کو قتل کر دیا تھا اور ریل کی پٹریوں پر ان کے جسموں کو پھینک دیا تھا۔ یادو کا قتل اس وقت ہوا جب وہ غصے میں آئی بھیڑ میں عصمت دری سے متاثر عورت کو دیکھا اور اسے ایک فاحشہ کہا۔

2012ء میں اكو یادو کے بھتیجے امن یادو کو اسی طرح کے حالات میں چاقو سے مارا گیا تھا اور بعد میں اس کی موت ہو گئی تھی۔[5]

پولیس کی کارروائی[ترمیم]

پانچ خواتین کو فوری طور پر گرفتار کیا گیا تھا پر انہیں شہر میں مظاہروں کے بعد چھوڑا گیا کیونکہ جھگی جھونپڑی کی ہر خاتون نے فخریہ طور پر اس قتل کی ذمہ داری لی تھی۔ فوری طور پر اوشا نارائن نامی سماجی خدمت گزار کو حراست میں لیا گیا جنہیں کچھ اور خواتین کے ساتھ 2012ء ہی میں میں چھوڑ دیا گیا تھا۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]