اہم کتب سیرت کا تعارف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سیرت یا سیرۃ، موجودہ دور میں سیرت نبویہ یا سیرت النبی کی اصطلاح مسلمانوں کے ہاں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سوانح کے لیے خاص ہے۔ سیرت کے لغوی معنی طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے ہیں۔


سیرت کا  لغوی مفہوم

عربی سیرۃ کا لفظ عربی زبان کے جس مادے اور فعل سے بنا ہے اس کے لفظی معنی ہیں چل پھرنا، راستہ لینا، رویہ یا طریقہ اختیار کرنا، روانہ ہونا، عمل پیرا ہونا وغیرہ۔ اس طرح سیرت کے معنی حالت، رویہ، طریقہ، چال، کردار، خصلت اور عادت کے ہیں۔ اس سے اردو میں تعمیر سیرت، سیرت سازی، پختگی سیرت، نیک سیرت، بد سیرت اور حسن سیرت وغیرہ کے الفاظ مستعمل ہیں۔

لفظ سیرت واحد کے طور پر اور بعض دفعہ اپنی جمع سیر کے ساتھ اہم شخصیات کی سوانح حیات اور اہم تاریخی واقعات کے بیان کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ مثلاً کتابوں کے نامسیرت عائشہ یا سیرت المتاخرین وغیرہ۔

کتب فقہ میں السیر جنگ اور قتال سے متعلق احکام کے لیے مستعمل ہے۔

چونکہ آنحضرت کی سیرت کے بیان میں غزوات کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے اس لیے ابتدائی دور میں کتب سیرت کو عموماً مغازی و سیر کی کتابیں کہا جاتا تھا جبکہ لفظ مغازی مغزی کی جمع ہے جس کے معنی جنگ(غزوہ) کی جگہ یا وقت کے ہیں لیکن اب سیرت کی ترکیب ہی مستعمل ہے۔


سیرت کا اصطلاحی مفہوم

لفظ سیرت اب بطور اصطلاح صرف آنحضرت کی مبارک زندگی کے جملہ حالات کے بیان کے لیے مستعمل ہے جبکہ کسی اور منتخب شخصیت کے حالات کے لیے لفظ سیرت کا استعمال قریباً متروک ہو چکا ہے۔ اب اگر مطالعہ سیرت یا کتب سیرت جیسے الفاظ کے ساتھ رسول، نبی، پیغمبر یا مصطفی کے الفاط نہ بھی استعمال کیے جائیں تو ہر قاری سمجھ جاتا ہے کہ اس سے مراد آنحضرت کی سیرت ہی ہے بلکہ بعض دفعہ لفظ سیرت کو کتاب کے مصنف کی طرف مضاف کر کے بھی یہی اصطلاحی معنی مراد لیے جاتے ہیں جیسے سیرت ابن ہشام کہ اس کا مطلب ابن ہشام کے حالات زندگی نہیں بلکہ آنحضرت کے حالات ہیں جو کتاب کے مصنف ابن ہشام نے جمع کیے ہیں۔ اسی طرح موجودہ دور میں جلسہ سیرت، سیرت کانفرنس، مقالات سیرت، اخبارات و رسائل کے سیرت نمبر وغیرہ بکثرت الفاظ مستعمل ہیں۔ ان تمام تراکیب میں لفظ سیرت کے معنی ہمیشہ سیرت النبی ہی ہوتے ہیں۔ بعض دفعہ ادب و احترام کے اظہار کے لیے اس لفط کے ساتھ کسی صفت کا اظہار کر دیتے ہیں جیسے سیرت طیبہ، سیرت مطہرہ اور سیرت پاک وغیرہ۔


اہم کتب سیرت کا تعارف:

سیرت ابن اسحاق

سیرت ابن اسحاق کے نام سے معروف اس مشہور کتاب کا اصل نام سیرۃ رسول اللہ ہے جو محمد ابن اسحاق، تابعی کی تصنیف ہے اور آٹھویں صدی عیسوی (دوسری صدی ہجری) میں تصنیف کی گئی۔ اسے اولین سیرت و تاریخ کی کتاب مانا جاتا ہے۔

اس کتاب کی جامعیت، تفصیل اورمعلومات کی فراوانی کی بنا پر اکثر اہل علم نے اسے قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا۔ مصنف سے بعد کے سبھی مورخوں اور مصنفوں نے سیرت نبوی کے حولے سے اس کتاب پر پورا پورا اعتماد کیا اور اسے اپنا مآخذ بنایا۔ ابن جریر طبری، ابن خلدون اور دیگر مورخین نے ابن اسحاق سے بکثرت روایت کی ہے۔

سیرت ابن ہشام کی بنیاد اور اصل بھی یہی کتاب ہے بلکہ سیرت ابن اسحاق، سیرت ابن ہشام کی ترقی یافتہ صورت ہے۔

ساتویں صدی ہجری میں فارس کے حکمران ابو بکر سعد زنگی کی فرمائش پر اس کتاب کا فارسی ترجمہ بھی ہوا جس کے قلمی نسخے دنیا کے بعض کتب خانوں میں موجود ہیں۔ چند برس پہلے مراکش میں اس کے کچھ اجزاء قلمی صورت میں ملے تھے جنہیں ڈاکٹر محمد حمید اللہ، (پیرس) نے شائع کرایا۔

سیرت ابن ہشام

سیرت ابن ہشام جس کا اصلی نام السیرۃ النبویۃ ہے اور کتاب کے مولف ابو محمد عبد الملك بن هشام بن ايوب حميری‎ ہیں جو ابن ہشام کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ کتاب آٹھویں صدی عیسوی (دوسری صدی ہجری) میں تصنیف کی گئی اور اسے اولین سیرت و تاریخ کی کتاب مانا جاتا ہے۔

یہ کتاب دراصل سیرت ابن اسحاق کی تلخیص اور تہذیب ہے ،مثلاً اصل کتاب کا کچھ حصہ سیرت سے براہ راست متعلق نہ تھا اس لیے ابن ہشام نے اسے چھوڑ دیا، مشکل الفاظ کے معنی بیان کیے اور بعض واقعات کا اپنی طرف سے اضافہ کیا۔

سیرت ابن اسحاق کو بطور سیرت ابن ہشام جو شکل ابن ہشام نے دی وہ اتنی مقبول ہوئی کہ لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اصل کتاب فراموش ہو گئی۔ اب یہی کتاب یعنی سیرت ابن ہشام متداول ہے۔

اس کے متعدد ایڈیشن جرمنی اور مصر سے شائع ہو چکے ہیں۔

سیرت ابن ہشام کی مقبولیت اور اہمیت کی وجہ سے اس کی کئی شروحات بھی لکھی گئیں:

·        الروض الانف۔ شرح السہیلی (عبد الرحمن عبد اللہ احمد السہیلی) متوفی 581ھ / 1175ء نیز عبد الرحمن الوکیلی نے الروض الانف کی مبسوط شرح لکھی جو 7 ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی۔

سیرت ابن ہشام کی کئی تلخیصات بھی لکھی گئی ہیں جن میں سے بعض منظوم بھی ہیں۔

سیرت ابن ہشام کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں بالخصوص فارسی، اردو، جرمنی اور انگریزی میں ہو چکے ہیں۔ الغرض سیرت طیبہ کے مآخذ میں اس کتاب کو سب سے زیادہ شہرت اور اعتماد حاصل ہی۔

الشفاء  بتعریف المصطفی

سیرت نبوی کے موضوع پر قاضی عیاض (15 شعبان 476ھ۔ 544ھ / 28 دسمبر 1083ء۔ 1149ء ) کی یہ کتاب مختصراً الشفاء یا شفاء شریف کے نام سے بھی مشہور ہے۔ یہ سیرت کی معروف اور مقبول عام کتاب ہے۔ مصنف نے کتاب میں رسول پاک کے فضائل، محاسن اور معجزات کو ایسے مؤثر اور دل پزیر پیرائے میں بیان کیا ہے کہ ان کے ایک ایک لفظ سے آنحضرت کے ساتھ انتہائی عقیدت اور محبت ٹپکتی ہے۔ قاضی عیاض کی یہ کتاب ایسی بے نظیر ہے جو بے تحاشا فائدے کی حامل ہے لاغر کر دینے والی بیماریوں سے شفا اور مصائب و پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے اس کی قرأت و تلاوت مجرب ہے،

اس کتاب کے متعدد ایڈیشن استنبول، قاہرہ، ہندوستان اور پاکستان سے شائع ہو چکے ہیں۔

ایک مصری عالم اور ادیب الخفاجی (احمد شہاب الدین الخفاجی متوفی 1069ھ / 1659ء) نے اس کی ایک مبسوط شرح نسیم الریاض کے نام سے لکھی جو چار ضخیم جلدوں میں استنبول اور قاہرہ سے شائع ہو چکی ہے۔

اس کی ایک شرح محمد علی القادری نے بھی لکھی جو نسیم الریاض کے مصری ایڈیشن کے حاشیہ پر چھپی ہے۔

الشفاء کے دو اردو تراجم لاہور سے شائع ہو چکے ہیں۔

المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ

المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ سیرت نبوی کے موضوع پر امام قسطلانی ( 851ھ۔ 923ھ / 1448ء۔ 1517ء ) کی مشہور اور مقبول کتاب ہے۔ کتاب دو ضخیم جلدوں میں قاہرہ سے شائع ہو چکی ہے۔

اس کی سب سے مفصل شرح علامہ زرقانی نے شرح المواہب اللدنيہ کے نام سے کی جو 8 ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور مصر سے شائع ہو چکی ہے۔ اس کے صفحات کی مجموعی تعداد تین ہزار سے زائد ہے۔ یہ شرح سیرت نبوی کے متعلق ہر قسم کی معلومات کا ایک خزینہ ہے۔

المواہب کی ایک تلخیص الانوار المحمدیہ فی المواہب اللدنیہ کے نام سے یوسف بن اسماعیل النبہانی نے لکھی جو بیروت سے شائع ہوئی جو اصل کتاب کا قریباً ایک تہائی ہے


زاد المعاد فی هدی خیر العباد

زاد المعاد فی هدی خیر العباد حافظ محمد ابن قیم الجوزی کی سیرت کے موضوع پر مشہور کتاب ہے۔

کتب سیرت میں زاد المعاد کی منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس میں صرف حالات اور واقعات کے بیان پر اکتفاء نہیں کیا گیا بلکہ ہر موقع پر یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ آنحضرت کے فلاں قول اور فلاں عمل سے کیا حکم مستنبط ہو سکتا ہے اور آنحضرت کے حالات اور معمولات زندگی میں ہمارے لیے کیا کچھ سامانِ موعظت موجود ہے گویا اس کتاب میں امت کے سامنے رسول کریم کا اسوہ حسنہ اس طرح کھول کر رکھ دیا گیا ہے کہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اس سے ہدایت حاصل کر سکے۔

یہ قابل قدر کتاب اپنی غیر معمولی دلچسپی اور افادیت کی وجہ سے مصر سے کئی دفعہ چھپ چکی ہی۔ اصل کتاب چار جلدوں میں ہے۔

اس کتاب کی ایک تلخیص ہدی الرسول کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔

زاد المعاد کا مکمل چار جلدوں میں ایک ملخص اردو ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔

دلائل النبوۃ للبیہقی

امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی (متوفی 458ھ) کی سیرت النبی پر عظیم کتاب دلائل النبوۃ ہے۔

امام بیہقی نے اس عظیم الشان تصنیف میں معجزات النبی ،دلائل النبوۃ،رسول اکرم کی طہارت میلاد،اسماء وصفات اور حیات وممات کے سارے پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے اس کتاب میں سیرت نبوی کو بڑے احسن اور منفرد انداز میں جمع فرما دیا علامہ بیہقی اپنے ہم عصروں میں حفظ حدیث، اتقان، علوم و فنون میں پختگی اور حسنِ تصنیف میں منفرد و یگانہ روزگار تھے سیرتِ طیبہ پر ’’الدلائل النبوۃ۔۔‘‘ تصنیف فرمائی جسے علامہ تاج الدین سبکی بے نظیر کتاب قرار دیتے ہیں اور علامہ ابن کثیر سیرت و شمائل کے باب میں تصنیف شدہ تمام کتب کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔ کتاب کی سب سے بڑ ی خوبی یہ ہے کہ امام بیہقی نے سیرت کو احادیث کی صحیح روایات کے ساتھ مزّین فرمایا ہر قول کے لیے سند پیش کی۔

دلائل النبوۃ لابی نعیم

دلائل النبوۃ :امام ابو نعیم اصفہانی کی یہ کتاب بہت مشہور و معروف ہے

آپ کی یہ کتاب آنحضرت ﷺ کے خصائص وکمالا ت اور فضائل و مکارم اور دلا ئل نبوت ومعجزات سے متعلق ہے ۔امام صاحب نے سب سے پہلے آنحضرت ﷺکے خصائص اوصاف قرآن مجید کی روشنی میں بیان کیے ہیں اور تائید میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کی ہیں اس کے بعد قدیم کتابوں اور انبیائےؑ کرام کے صحیفوں میں جو پیش گو ئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کی گئی ہیں ان کو جمع کیا ہے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولا دت سے وفات تک کے واقعات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے ۔

امام ابو نعیم ؒ نے اس طور پر ایمان لا نے والے متعدد افراد کے مکمل واقعات تحریر کیے ہیں اس حیثیت سے یہ صرف دلا ئل و معجزات نبویہ ہی کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ عہد نبوی کے مختلف النوع اہم واقعات و حالات اور بعض غزوات وسرایا کا مکمل مرقع بھی ہے مصنف نے بعض واقعات کی تفصیل اور ان کے دلا ئل کی نوعیت وغیرہ بھی بیان کردی ہے اور بعض شبہات واشکالات کو بھی رفع کیا ہے آخر میں بعض مشہور انبیاؑئے کرام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا تقابلی حیثیت سے ذکر کیا گیا ہے اس میں بعض جلیل القدر انبیائےؑ کرام کے خاص اور اہم معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد دکھا یا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اسی نوعیت کے معجزات عطا کیے گئے تھے

طبقات ابن سعد

طبقات ابن سعد المعروف الطبقات الکبیر محمد ابن سعد کی تصنیف ہے جو صحابہ کرام اور تابعین کے حالات پر ہے اور ضخیم ہونے کی وجہ سے اس کے نام کے ساتھ الکبیر کی صفت لگائی گئی ہے۔

ابن سعد کا پورانام ابو عبد اللہ محمد بن سعد بن منیع ہاشمی ہے جو کاتب واقدی کے نام سے مشہور ہیں۔

اس کتاب کے ابتدائی حصے میں سیرت طیبہ کا بیان ہے۔ مکمل کتاب کی آٹھ حصوں میں سے پہلے دو حصے سیرت پر مشتمل ہیں۔ اس کتاب کے بیشتر حصوں کا اردو ترجمہ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کے اہتمام سے شائع ہو چکا ہے۔ یہ کتاب اسلام کی پہلی دو صدیوں کے مشاہیر کے حالات پر ایک بے مثال تالیف ہے اور سیرت نبوی کے نہایت قدیم اور قیمتی مصادر و مآخذ میں شمار ہوتی ہے۔ یہ 15 جلدوں پر مشتمل ہے اس کے علاوہ ان کی طبقات صغریٰ اور تاریخ کی کتاب بھی ہے۔

شمائل ترمذی

عظیم محدث امام ترمذی کی مشہور کتاب۔ "شمائل ترمذی" جس میں امام ترمذی رحمہ اللہ نے نہایت محنت وکاوش وعرق ریزی سے سیّد کائنات ،سيد ولد آدم، جناب محمد رسول صلى الله عليه وسلم كے عسرویسر، شب وروز اور سفر وحضرسے متعلقہ معلومات کو احادیث کی روشنى میں جمع کر دیا ہے- کتاب پڑھنے والا کبھی مسکراتا اورہنستا ہے تو کبھی روتا اورسسکیاں بھرتا ہے- سیّد کائنات صلى اللہ علیہ وسلم کے رخ زیبا کا بیان پڑھتا ہے تو دل کی کلى کھل جاتی ہے اور جب گزر اوقات پر نظر جاتى ہے تو بے اختیار آنسوؤں کی لڑیاں گرنا شروع ہوجاتی ہیں-

شمائل ترمذی کا درجہ صحیحین کے بعد ہے؛ مگربعض خصوصیات صحاح کی تمام کتابوں سے بڑھ کر ہیں، چنانچہ اسماعیل ہروی لکھتے ہیں کہ: ”ترمذی“، بخاری اور مسلم سے زیادہ فائدہ بخش ہے، ان دونوں کتابوں سے صرف صاحب کمال اور صاحب نظر فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور ترمذی میں احادیث کی ضروری شرح بھی کردی ہے۔ اس لیے محدثین اور فقہا وغیرہ ہر طبقہ کے لوگ مستفید ہوسکتے ہیں۔ صاحب ”مواہب لدنیہ“ جو شمائل ترمذی کے محشی ہیں لکھتے ہیں کہ امام ترمذی کی ”جامع“ تمام حدیثی اور فقہی فوائد اور سلف وخلف کے مذاہب کی جامع ہے، مجتہد کے لیے کافی ہے اور مقلد کو دوسری کتابوں سے بے نیاز کرنے والی ہے اورجس گھر میں یہ جامع ہوتو گویا اس گھر میں نبی بات کر رہا ہے، ”قَالَ المصنِّفُ مَنْ کانَ فِي بَیتہ ہَذا الکتابُ یَعنِي جامِعَہ فَکأَنَّما فِي بیتہ نبیٌ یَتَکَلُّمُ“


سیرۃ النبی ﷺ: علامہ شبلی نعمانیؒ اور سید سلیمان ندوی ؒ

علامہ شبلی نعمانی ؒ انیسویں اور بیسویں صدی کی ایک معروف محقق اور سیرت نگار ہیں جنھوں نے اپنی بے بہا اور قیمتی نگارشات سے علمی دنیا کو مالا مال کیا ہے۔ انھوں نے سیرۃ النبی کے نام سے کتاب لکھی ہے جس کا بدل غالبا عربی زبان میں بھی نہیں ہے۔ برصغیر میں قرآنی context اور درایات حدیث پر پرکھنے کا جدید رجحان دینے والی علمی شخصیت علامہ شبلی نعمانیؒ ہیں۔ علامہ موصوف سیرت نگاری کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ ’’ میں نے سیرت نبوی پر ایک مبسوط کتاب لکھنے کا ارادہ کر لیا۔ لیکن واقع یہ ہے کہ کوئی تصنیف اس تصنیف سے زیادہ دیر طلب اور جامع مشکلات نہیں ہوسکتی۔ ‘‘ہر فرد کو بالخصوص اسلامیات سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس کتاب کا بالاستعیاب ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔

ضیاء النبی :محمد کرم شاہ الازہری ؒ

یہ سات جلدوں پر مشتمل ہے اور سیرت کے ہر پہلو پرمفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کتاب میں تحقیقی انداز غالب ہے اور ہر بات حوالوں کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ مزید یہ کہ قدیم و جدید کے تمام ماخذوں سے بھر پور استفادہ کیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے اس میں دوسری کتابوں کے مقابلے میں خوبیاں نمایاں ہیں۔ حکومت پاکستان وزارت مذہبی امور نے اس کتاب کو 1994 ء میں پہلے انعام کا مستحق ٹھہرایا۔

سیرۃالرسول ﷺ:ڈاکٹر  محمد طاہر القادری

سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انفرادیت یہ ہے کہ سابقہ ارباب سیر نے آغاز ہی سیرت سے کیا ہے اس بات پر روشنی نہیں ڈالی کہ سیرت کیا ہے اور کیسے بنتی ہے؟ شیخ الاسلام کی سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتیازی مقام ہے کہ اس سلسلہ کی پہلی کتاب مقدمہ کے عوان سے ہے جس میں ایسے موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ آپ نے ’’ابتدائیہ‘‘ میں عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہمیت کو قرآن و حدیث اور سیرت کی روشنی میں اجاگر کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے آپ نے ایک ایسا ہمہ جہت تصور متعارف کرایا ہے جو بیک وقت نظروں اور عقلوں کو بھی مطمئن کرسکے اور دلوں اور روحوں کی بستی کو بھی سیراب کرسکے۔ آپ نے بعض سیرت نگاروں کی طرف سے سیرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روحانی اور معجزانہ پہلوؤں سے انکار کو سیرت نگاروں کا المیہ کہہ کر اس کی مضبوط علمی گرفت کی ہے

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے قلبی محبت و وجدانی اتصال اور روحانی عشق کی نسبت پیدا کرنے کو تکمیل ایمان و عرفان اور ادائیگی تقاضائے دین کے لیے ضروری قرار دیا

سیرت الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ہر سطر ادبی شان لیے ہوئے ہے آپ کی یہ تصنیف آپ کے دلکش اسلوب، طرز استدلال اور علمی وجاہت کا مظہر ہے۔۔۔ الفاظ کا چناؤ آپ کی عالمانہ شان کا گواہ ہے۔۔۔ اہل محبت کی اضطراری کیفیات کو اپنے دل کی دھڑکنوں میں سموکر قرطاس و قلم کے سپرد کیا گیا ہے۔۔۔

سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دس جلدیں زیور طبع سے آراستہ ہوکر ارباب علم و دانش، عوام و خواص، اہل محبت و عقیدت کی علمی پیاس بجھانے کا سامان مہیا کررہی ہیں۔

سیرت سرور عالم : مولانا مودودی ؒ

ایک اور مایہ ناز تصنیف ہے۔ یہ اگرچہ مولانا مودودی کی کوئی باقاعدہ تصنیف نہیں ہے اس کو مولانا نعیم صدیقی اور مولانا عبدالوکیل علوی نے تفہیم القرآن اور کچھ دوسرے تصانیف سے مرتب کر کے دو جلدوں میں شائع کیا۔ اب اس کی تیسری جلد بھی شائع ہو چکی ہے۔ تینوں جلدوں میں سیرت کے مختلف پہلووں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ مولانا محترم نے اس میں معتدل تجزیے کے ساتھ ساتھ منفرد اسلوب میں سیرت رسول کو روشناس کرایا۔

در یتیمﷺ : ماہر القادریؒ

اس کتاب کے مصنف ماہر القادری ہیں جو ایک اعلیٰ پایہ کے ادیب بھی تھے۔ انھوں نے اس کو ناول کے انداز میں لکھ ڈالی ہے۔ یہ سیرت میں ادب کے لحاط سے ایک شاہکار تصنیف ہے اور بر صغیر میں اس کو دلجمعی اور دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ پہلی بار پاکستان میں 1949ء میں شائع ہوئی۔ سیرت کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہ ایک نادر تحفہ ہے۔

اصح السیر : حکیم ابو البرکات عبدالرؤف دانا پوری ؒ

اصح السیر سیرت نبوی پر ایک بہترین تحفہ ہے اس کے مصنف حکیم ابو البرکات عبدالرؤف دانا پوری ہیں۔ اس میں مقدمہ سیرت مع تاریخ، پھر سیرت رسول ﷺ ولادت تا وفات، انساب کا حال، مکمل کتاب المغازی، مکمل کتاب الاموال، کتاب بالوفود، حجۃ الوداع کا مٖفصل حال، ازواج النبی کے حالات اور بے شمار معلومات کا ذخیرہ ہے اور یہ سب چیزیں صحیح ترین روایات سے ماخوز ہیں۔

محاضرات سیرت ﷺ: ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ

محاضرات سیرت دور جدید میں سیرتی لٹریچر میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کے مصنف معروف مفکر ڈاکٹر محمود احمد غازی ؒ ہیں انھوں نے ان خطبات یا محاضرات میں بحر بے کراں کو بند کر کے کتاب کو صحیح معنوی میں دریا در کوزی کرنے کی مثال بن گیا ہے۔ یہ دراصل سیرت سے نہیں بلکہ علم سیرت سے بحث کرتی ہے۔ محاضرات سیرت بارہ خطبات پر مشتمل ہے جن میں نصف کا تعلق فن سیرت کی تاریخ اور تدوین سے ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان خطبات میں مغربی مستشرقین اور ان کے پیروں کاروں کی پیدا کردہ غلط فہمیوں، موشگافیوں اور الجنھوں کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ اس کتاب سے قاری کو بہت سے نئے گوشوں کو پڑھنے کا موقع ملتا ہے۔

النبی الخاتم ﷺ : مولانا مناظر احسن گیلانیؒ

النبی الخاتم سیرت پر ایک اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے۔ یہ 450 عنوانات پر مشتمل ہے جن میں 300 سے زائد عناوین کا تعلق النبی الخاتم کی پاک زندگی و مقدس سیرت کے مختلف پہلووں کے متعلق بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ادبی چاشنی بھی لائق صد تحسین ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کی شخصیت کے بارے میں لکھتے ہیں ’’یوں آنے کو سب ہی آئے۔ سب میں آئے۔ سب جگہ آئے (سلام ہو ان پر) کہ بڑی کٹھن گھڑیوں میں آئے۔ لیکن کیا کیجیے، ان میں جو آیا جانے کے لیے آیا، پر ایک اور صرف ایک، جو آیا اور آنے ہی کے لیے آیا وہی جو آنے کے بعد پھر کبھی نہیں ڈوبا چمکا اور چمکتاہی چلا جارہا ہے۔ بڑھا اور بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ چڑھا اور چڑھتا ہی جارہا ہے۔ ‘‘

محمد عربی ﷺ: مولانا محمد عنایت اللہ سبحانی

محمد عربی اردو زبان میں ایک مقبول عام کتاب ہے۔ دور جدید میں برصغیر میں سیر ت رسول ﷺ پر منفرد انداز سے لکھنے والے مولانا عنایت اللہ سبحانی کا ایک اہم رول ہے۔ مولانا کو سیرت لکھنے کا منفرد انداز ہے۔ سیرت پر ان کی ایک کتاب’’محمد عربی‘‘ پاک و ہند میں مشہور و معروف ہے۔ جو بڑے منفرد انداز سے لکھی گئی ہے۔ جو تذکیری پہلووں سے بھی مزین ہے۔ یہ کتاب 14 ضخیم ابواب پر مشتمل ہے۔ ان ابواب کے عناوین بھی بے حد دلچسپ ہے جو نہ صرف دل کو چھو لینے والی ہیں بلکہ ان میں سوز و گداز بھی ہے۔ کتاب کے چند عناوین یہ ہیں : ہوتی ہے سحر پیدا، کرنیں ابھرتی ہیں، خدا کی آواز، پھلی پکار طوفانی کشمکش، نازک مرحلے اور کارواں بنتا گیا، دعوت حق تلواروں کے چھاؤں میں وغیرہ

محسن انسانیتﷺ : مولانا نعیم صدیقی ؒ

محسن انسانیت بھی سیرت پر ایک شاہکار کتاب ہے۔ بقول ماہر القادری ’’اردو زبان میں ہی نہیں بلکہ دوسری زبانوں میں بھی جن اہل نظر اور ارباب علم کی نگاہ سے سیرت کی کتابیں گزری ہیں وہ محسن انسانیت کو پڑھ کر اس کی انفرادیت کو ضرور محسوس کریں گے‘‘ ضمیمے کے ساتھ یہ کتاب 7 ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلا باب سیرت کا پیغام، نصب العین اور تاریخی مقام کے عنوان سے ہے۔ دوسرا باب شخصیت ایک نظر میں کے نام سے ہے تیسرا باب مکی دور سے تعرض کرتا ہے چوتھا باب مدنی دور سے بحث کرتا ہے۔ پانچواں باب تلواروں کی چھاؤں پر ہے جو نظریہ جہاد اور غزوات النبوی سے متعلق ہے۔ قاری اس کتاب سے تب ہی پوری طرح سے مستفید ہوسکتا ہے جب وہ یہ باب ذہن میں مستحضر رکھیے کہ سیرت کا مطالعہ کس مقصد کے لیے کرنا ہے؟

عہد نبوی کا تمدن : ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی

عصر حاضر میں ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی کا شمار بڑے سیرت نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے سیرت نبوی کے مختلف پہلووں پر قابل ذکر کام کیا ہے۔ ’عہد نبوی کا تمدن ‘ بھی اس کی ایک کڑی ہے۔ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے پہلا باب عہد نبوی کے کھانوں پر ہے جس میں کھانے کی بنیادی ضروریات کو آیات قرآنی کے حوالے سے مختلف زاویوں سے اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دوسرا باب عہدنبوی کے ملبوسات پر ہے جس میں تمام ضروری لباسوں پر بحث کی گئی ہے۔ تیسرا باب آرائش بدن کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرتا ہے۔ چوتھواں باب عہد نبوی کے مکانات اور اسباب زیست سے تعرض کرتا ہے۔ پانچواں باب میں مختلف تقریبات کا ذکر ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

دروس سیرت : ڈاکٹر محمد سعید البوطی ؒ

یہ کتاب دراصل عالم عرب کے معروف عالم دین اور مربی ڈاکٹر محمد سعید البوطی کی عربی تصنیف فقہ السیرۃ النبویۃ کا اردو ترجمعہ ہے جسے معروف اسکالر ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی صاحب نے نہایت شستہ انداز میں اردو میں منتقل کیا ہے۔ یہ سات ابواب پر مشتمل ہے پہلے باب میں سیرت نگاری پر بحث کی گئی ہے باقی ابواب کے نام یہ ہیں : ولادت سے بعثت تک، بعثت سے ہجرت تک، نئے معاشرے کی بنیادیں، دفاعی جنگ کا مرحلہ اور فتح، مقدمات اور نتائج۔ اس کتاب کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ قاری کو ہر موقع پر یہ نصحیت اور تحریک ملتی ہے کہ مجھے بھی سیرت پاک کی کرنوں میں اپنے آپ کو رنگنا چاہیے۔

الرحیق المختوم : مولانا صفی الرحمٰن مبارک پوری ؒ

الرحیق المختوم کا پس منظر یہ ہے کہ 1976 ء میں کراچی کی بین الاقومی سیرت کانفرنس کے اختتام پر رابطہ عالم اسلام نے سیرت نبوی ﷺ کے موضوع پر مقالہ نویسی کا ایک عالمی مقابلہ کرنے کا اعلان کیا جس میں دنیا بھر کے اہل علم کو سیرت نبوی کے موضوع پر مقالہ لکھنے کے لیے دعوت دی گئی۔ اس مقابلہ میں دنیا بھر سے 171 مقالے پیش کیے گئے جن میں 84 مقالات عربی زبان میں تھے۔ ان مقالات کی خوب جانچ پڑتال کی گئی جس کے بعد رابطہ عالم اسلام کی قائم کردہ سیرت کمیٹی کی سفارشات کے مطابق مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری کا مقالہ ’الرحیق المختوم‘ جو لحاظ سے تحقیقی نوعیت کا ہے اور اس کو پہلے انعام کامستحق قرار دیا گیا۔ اس ایوارڑ یافتہ کتاب کو لوگوں میں ہر اعتبار سے پزیرائی ملی اور علمی حلقوں نے اس کو خوب سراہا۔ اس وقت یہ سیرت کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے۔

حیات سرورکائنات محمد : مارٹن لنگس( ابو بکر سراج الدین)

حیات سرورکائنات محمد (Muhammad : His life Based on Earliest Sources) ایک نو مسلم انگریزی ادب کے اسکالر مارٹن لنگس(ابو بکر سراج الدین) نے لکھی ہے۔ یہ کتاب سیرتی لٹریچر میں ایک اہم اضافہ ہے اور اس کا متعدد زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ اس تصنیف کی ایک خاص بات یہ ہے کہ مصنف نے عربی کے بنیادی اور اصل ماخذسے استفادہ کر کے احوال و کوائف سے غیر معمولی نتائج اخذ کیے ہیں جو یقینا قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔ اس کا شستہ اردو ترجمعہ سعید معین الدین قادری نے کےا

محمد عمر  رضا فریدی(ابن طاہر)