اہواز میں فوجی پریڈ پر حملہ، 2018ء
| اہواز میں دہشت گرد حملہ، 2018ء | |
|---|---|
| سلسلہ ایران میں دہشت گردی | |
| مقام | اہواز، صوبہ خوزستان ایران |
| متناسقات | 31°20′8″N 48°38′38″E / 31.33556°N 48.64389°E |
| تاریخ | 22 ستمبر 2018ء 09:00 سے 09:10 (ایران کا معیاری وقت) |
| نشانہ | حسن روحانی (داعش کے ابتدائی دعوے کے مطابق، تاہم حسن روحانی حملے کے وقت تہران میں خطاب کر رہے تھے۔)[1] |
| حملے کی قسم | فائرنگ |
| ہلاکتیں | 30 (25 متاثرین، 5 حملہ آور) |
| زخمی | 70 |
| مرتکبین | |
| شرکا کی تعداد | 5 |
ایران کے جنوب مغربی شہر اہواز میں 22 ستمبر 2018ء بروز ہفتہ کو ایک فوجی پریڈ پر حملہ کیا گیا۔[3][4] مقاومت ملی اہواز[1] اور داعش[1] دونوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔[5] 2010ء کے چابہار خودکش بم دھماکوں کے بعد یہ سب سے زیادہ مہلک ترین دہشت گرد حملہ تھا۔
حملہ
[ترمیم]ایران عراق جنگ کے آغاز کی سالگرہ کی مناسبت سے فوجی پریڈ کا اہتمام کیا گیا تھا۔[6][3] ایران میں صبح 9 بجے مورخہ 22 ستمبر 2018ء کو فوجی وردی میں ملبوس چار مسلح حملہ آوروں نے قریبی پارک سے فائرنگ کی۔[7] عینی شاہدین کے مطابق، ”حملہ آوروں نے پہلے اس چبوترے پر فائرنگ کی جہاں اعلیٰ حکام موجود تھے جس کے بعد انھوں نے تماشائیوں اور پریڈ کرتے فوجی اہلکاروں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں۔“[8]
جانی نقصانات
[ترمیم]حملہ آور
[ترمیم]پہلے میڈیا نے خبر دی کہ چاروں حملہ آور مارے گئے۔[2][7] بعد میں بتایا گیا کہ پانچواں حملہ آور جسے پہلے گنا نہیں کیا گیا تھا بھی مارا گیا تھا۔[9]
شہری اور فوجی
[ترمیم]حملہ میں تقریباً 29 افراد ہلاک ہوئے جن میں کچھ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سپاہی بھی شامل تھے اور بچوں سمیت 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔[10][11][12] زیادہ تر کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔[13]
ذمہ داری
[ترمیم]مقاومت ملی اہواز نے سب سے پہلے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی[1] اور داعش نے بھی ذمہ داری قبول کی۔[1] لیکن مقاومت ملی اہواز نے داعش کے دعوے کو مسترد کر دیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملہ ”تکفیری مسلح افراد“ نے کیا تھا۔[14]
ردِ عمل
[ترمیم]رہبر معظم ایران سید علی خامنہ ای نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا: ”اس جرم کے پیچھے امریکا اور خطے میں اس کی غلام اور نوکر حکومتوں کا ہاتھ ہے جنھوں نے ایران میں بے امنی پھیلانے کو اپنا مقصد بنا رکھا ہے“[2] انھوں نے سیکیورٹی فوج کو حکم دیا ہے کہ اس حملے کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔[2] ایران کے وزیر خارجہ نے نیدرلینڈز، مملکت متحدہ اور ڈنمارک کی حکومتوں سے کہا کہ ”حملے کی مذمت کریں اور اس میں ملوث افراد کو ایران کے حوالے کریں تاکہ انھیں انجام تک پہنچایا جا سکے۔“[2]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 6 7 "Arab Separatist Group Claims Iran Attack"۔ یو ایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ۔ ایسوسی ایٹیڈ۔ 22 ستمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- 1 2 3 4 5 مائیکل جیورجے (22 ستمبر 2018)۔ "Iran's Khamenei blames Gulf Arab states for military parade attack"۔ روئٹرز۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- 1 2 "Several Killed as Gunmen Attack Military Parade in Iran: State TV"۔ نیو یارک ٹائمز۔ ریوٹرز۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- ↑ "Several killed, at least 20 injured in attack on military parade in Iran"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ 2019-01-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- ↑ سعید کمالی دہقان۔ "Terrorists kill Iranian children and soldiers in military parade attack"۔ دی گارڈین۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- ↑ "Several casualties in terror attack on military parade in Ahvaz"۔ پریس ٹی وی۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- 1 2 "Iran military parade attacked by gunmen in Ahvaz"۔ بی بی سی۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- ↑ "ایران میں فوجی پریڈ پر حملہ، 30 ہلاک، 70 سے زائد زخمی"۔ جسارت۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- ↑ فِل اسٹیورٹ؛ بزرگمہر شرف الدین (24 ستمبر 2018ء)۔ "Mattis dismisses Iran's revenge threat as tensions climb after attack"۔ روئٹرز۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-24
- ↑ "Iran. Au moins 29 morts dans l'attentat contre un défilé militaire". لے تیلی گرامے (بزبان فرانسیسی). Archived from the original on 2018-12-25. Retrieved 2018-09-22.
- ↑ "29 killed, 60 injured in Iran military parade attack on Revolutionary Guards". العربیہ (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2018-12-25. Retrieved 2018-09-22.
- ↑ "29 killed in attack on Iranian military parade"۔ سی این این۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-23
{{حوالہ خبر}}: الوسيط|پہلا=يفتقد|آخر=(معاونت) - ↑ "At Least 24 Killed in Attack on Military Parade in Iran"۔ نیو یارک ٹائمز۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
- ↑ "State TV: Gunmen attack military parade in Iran's Ahvaz"۔ الجزیرہ۔ 2018-12-25 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-09-22
{{حوالہ ویب}}: ترچھے یا جلی خط کا استعمال ممنوع ہے:|ویب گاہ=(معاونت)