ایاز اسحاقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


ایاز اسحاقی

معلومات شخصیت
پیدائش 23 فروری 1878  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یوشیرما  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 جولا‎ئی 1954 (76 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استنبول  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ادرنہ کاپی شیختلیق قبرستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  ڈرامائی مشیر،  صحافی،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان تاتاری زبان  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ایاز اسحاقی (تاتاری: Ğayaz İsxaqıy، Гаяз Исхакый، روسی زبان: Гаяз Исхаки) (پیدائش: 10 فروری 1878ء — وفات: 22 جولائی 1954ء) تاتار تحریک کے نامور رہنما، مصنف، صحافی، ناشر اور سیاستدان تھے۔

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

ایاز اسحاقی کی پیدائش 10 فروری 1878ء کو قازان کے ایک گاؤں یاشرما میں ہوئی۔ ایاز کے والد جبرنیا (Guberniya) امام مسجد تھے۔ 1890ء سے 1893ء تک ایاز نے روایتی تعلیم چشتی (Chistay) نامی ایک مدرسہ سے اور 1893ء سے 1898ء تک مدرسہ کولبو (Kulbue) سے تعلیم حاصل کی۔ 1898ء میں اُس نے قازان کے مدرسہ معلمین میں داخلہ لے لیا۔ 1902ء میں گریجویشن مکمل کی جس کی بنیاد پر اُس نے روسی زبان کے اُستاد کی حیثیت سے قازان اور اورنبرگ میں ملازمت کی۔ 1903ء میں وہ مختصر عرصے کے لیے قصبہ کے امام کے فرائض سر انجام دینے کے لیے وہ آبائی گاؤں یاشرما واپس آئے۔[1]

سیاسی تحریکوں میں شمولیت[ترمیم]

ایاز اپنے زمانہ طالب علمی کے دور میں ہی 1895ء میں تاتاری نوجوانوں کے گروہ کی طرف سے تشکیل کردہ پہلے ادبی سیاسی حلقے میں شامل ہوئے۔ ایاز نے ہاتھ کی مشین کے ذریعہ سے اشاعت پذیر ایک اخبار ’’ترقی‘‘ جاری کیا اور 1901ء میں شاکردلک (Sharkirdlik) پارٹی قائم کی۔ تقریباً ایک سال بعد 1903ء میں اِس پارٹی کا نام تبدیل کرکے ’’حریت پارٹی‘‘ نام رکھ دیا اور خالصتاً سیاسی مقاصد کو اِختیار کرلیا۔ اِس دور میں ایاز نے قازان کے روس کے سوشلسٹ انقلابی حلقوں سے روابط قائم کرنا شروع کیے اور اُن سے ایک خصوصی طریقہ کار سیکھا جسے یاشرما میں اُن کے مختصر قیام کے اِختتام اور قازان کی طرف اُن کی واپسی کا سبب کہا جاسکتا ہے۔ قازان واپس آکر ایاز انقلابی حلقوں میں شامل ہوگئے۔ 1905ء میں اُنہوں نے فواد تکتر کے ساتھ مل کت تنگ چلر (Tangchilar) کے نام سے ایک خفیہ تاتاری سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور روس کی زار حکومت کے خاتمہ کی وکالت کرنے والے دو سوشلسٹ اخبارات ٹنگ (صبح) اور ٹنگ یولدیزی (ستارۂ صبح) جاری کیے۔ 1905ء کے موسم خزاں میں اُنہوں نے فواد تکتر کے ساتھ مل کر سوشلسٹ پارٹی بریک (Brek) قائم کی اور اُس کا اخبار ’’آزاد‘‘ جاری کیا۔ بعد ازاں یہ اخبار ’’ آزادیٔ خلق‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوتا رہا۔[2]
اگست 1905ء میں ایاز نے سلطنت روس کے مسلمانوں کی پہلی کانگریس میں شرکت کی اور اُس میں 20 انقلابی قوم پرستوں کی سربراہی کی جو مندوبین کی اکثریت کے معتدل نظریات کے مخالف تھے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے ایک سیاسی اتحاد کے حامی تھے اور یہ نااتفاقی تیسری مسلم کانگریس (اگست 1906ء) میں اور بڑھ گئی جس میں ایاز نے یہ مؤقف اِختیار کیا کہ مذہب اور ثقافت میں اتحاد طبقاتی اختلافات کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو ایک سیاسی پارٹی کے طور پر یکجا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ 1906ء تک ایاز نہ صرف اُن کے سیاسی فلسفہ انقلاب سے عدم دلچسپی رکھنے والے تاتاریوں سے متصادم رہے اور ساتھ ساتھ روسی حکومت کے مخالف بھی رہے۔ 1905ء میں اُن کے جاری کردہ اخبار ٹنگ یولدیزی پر پابندی عائد کردی گئی اور ایاز کو گرفتار کرکے چشتے جیل بھجوا دیا گیا۔ رہائی کے بعد ایاز نے اخبار تویش (آواز) جاری کیا جس نے اپنے دونوں پیشرو اخبارات کی سوشلسٹ انقلابی روش کو جاری رکھا۔ حکومت روس کی طرف سے فوری ردعمل سامنے آیا اور ایاز کو گرفتار کرلیا گیا اور چھ ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں تین سال کے لیے آرخانگلسک میں جلاوطن کردیا گیا۔ 1908ء میں ایاز چھپ کر وہاں سے بھاگ آئے اور سینٹ پیٹرز برگ چلے گئے اور وہاں چھپے رہے، تاہم پولیس نے کھوج لگاتے ہوئے گرفتار کرلیا اور دوبارہ جلاوطن کرتے ہوئے ولگڈا بھیج دیا جہاں وہ 1913ء تک رہے۔ 1917ء میں روسی شہنشاہیت کے زوال کے بعد ایاز کو بھی جلاوطنی سے نجات مل گئی اور وہ تاتاری مسلمانوں کے اتحاد کے لئے مختلف ممالک کے دورے کرتے رہے۔ [3]

وفات[ترمیم]

دوسری جنگ عظیم کے دوران ایاز ترکی منتقل ہوگئے تھے اور وہیں انقرہ میں 22 جولائی 1954ء کو وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: ج 2 تکملہ، ص 382۔ مطبوعہ لاہور
  2. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: ج 2 تکملہ، ص 382۔ مطبوعہ لاہور
  3. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: ج 2 تکملہ، ص 383-382۔ مطبوعہ لاہور