ایذا دہندی و خود اتلافی
ایذا دہندی یا ایذا رسانی (sadism - سیڈ ازم) اور خود اتلافی یا ایذا پسندی (masochism - میسک ازم) کو انگریزی زبان میں مجموعی طور پر سیڈو میسک ازم (Sadomasochism) کہا جاتا ہے، اس رویہ کو کہا جاتا ہے جس میں انسان کو لذت یا تو دوسروں کو درد اور ایذا دینے سے ملتی ہے یا خود درد اور ایذا سہنے سے۔ یہ اصطلاح دو مصنفین کے ناموں سے ماخوذ ہے: مارکویس ڈی سیڈ (Marquis de Sade مَغکی دُ ساد)، جو فرانسیسی ادیب تھے اور اپنی پر تشدد اور آزاد خیالی پر مبنی تحریروں اور طرزِ زندگی کے باعث مشہور ہوئے اور لیوپولڈ وون ساکر میسک (Leopold von Sacher-Masoch لیوپولٹ فون زاخَر مازوخ) جو آسٹریا کے مصنف تھے اور اپنی تحریروں میں میسک ازم کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
اس جنسی کجروی میں جنسی طمانیت کی خاطر جنس مخالف یا خود کو تکلیف پہنچائی جاتی ہے اور یہ کجروی عموماً مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔ اس قسم کے کجرو جنس مخالف کو دانت کاٹتے ہیں، کوڑا مارتے ہیں اور زد و کوب کرتے ہیں۔ زخم جسم کے کسی بھی حصے پر پہنچائے جا سکتے ہیں لیکن عموماً اس فعل کے لیے پستان اور مقام مخصوص کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ بعض افراد تو انتشار ذکر کی خاطر بیویوں کو سگریٹ سے جلاتے یا چٹکاتے بھی ہیں۔ بعض جنونی تو عورت پر تشدد کی انتہا کرتے ہوئے عورت کو مرتے دیکھ کر آسودگی حاصل کرتے ہیں جسے طبی اصطلاح میں قتل شہوانی (Lust Murder) کہا جاتا ہے یا پھر عورت کو مارنے یا قتل کرنے کے بعد جماع کرتے ہیں جسے عشق نعش (Necrophilia) کہتے ہیں۔ اسی طرح بعض اذیت پسند افراد عورت کو مارنے کے بعد اس کا خون پیتے ہیں یا اس کے عضو مخصوص کو کاٹ کر کھاتے ہیں جنھیں طبی اصطلاح میں نعش خور (Necrophagia) کہا جاتا ہے۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ طب القانون و علم السموم۔ نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان۔ 2021۔ ص 255۔ ISBN:9789391511067