ایلس فیض

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایلس فیض
معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Alys Catherine Ivy George ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 22 ستمبر 1914  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 13 مارچ 2003 (89 سال) اور 12 مارچ 2003 (89 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ
Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ (–12 اپریل 1927)  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شوہر فیض احمد فیض  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد سلیمہ ہاشمی‎  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ صحافی، سماجی کارکن، کارکن انسانی حقوق، شاعرہ، مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایلس فیض

پیدائش: 22 ستمبر 1914ء

انتقال: 12 مارچ 2003ء

ابتدائی زندگی[ترمیم]

شاعرہ۔ دانشور۔ اور سوشل ورکر۔ مشہور شاعر فیض احمد فیض کی اہلیہ۔ برطانیہ میں پیدا ہوئیں۔ بیگم ایلس فیض جن کا پیدائشی نام ایلس جارج تھا اردو کے شہرہ آفاق اردو شاعر فیض احمد فیض سے اس وقت متعارف ہوئی تھیں جب وہ ایم اے او کالج امرتسر میں پیشہ تدریس سے وابستہ تھے۔[2]

فیض سے ابتدائی ملاقات[ترمیم]

ملاقات کی ابتدائی صورت ایلس کی بہن کی بدولت پیدا ہوئی جو فیض کے دوست اور رفیق کار ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کی بیوی تھیں۔ ماہ وسال کی آشنائی کا یہی زمانہ ہے جس کا ذکر فیض نے دوستوں کے ساتھ بعد میں بھی با رہا کیا۔ ایلس اور فیض کی شادی انیس سو تیس کے عشرے کے آخر میں سری نگر میں ہوئی جہاں ان کے نکاح خواں ممتاز کشمیر رہنما شیخ عبداللہ تھے۔

آزمائش کی زندگی[ترمیم]

انیس سو بیالیس میں فوج سے فیض کی وابستگی، کرنل کے عہدے تک ترقی اور پھر روزنامہ پاکستان ٹائمز کی ادارت تک ان کی ازدواجی زندگی پر سکون رہی لیکن اس زندگی میں ایک بہت بڑاتموج اس وقت رونما ہوا جب انیس سو گیارہ کے موسم بہار میں راولپنڈی سازش کیس کے نام سے پاکستان فوج کے بعض اہم افسروں اور دیگر شہریوں کو جن میں فیض بھی شامل تھے حراست میں لیا گیا۔

صحافتی زندگی[ترمیم]

یہ مرحلہ ایلس فیض کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش تھی۔ گھر کا نظام چلانا اور اس کے لیے مالی وسائل کا بندوبست کرنا ان کی ذمہ داری میں شامل تھا۔ ایلس نے اس زمانے میں پاکستان ٹائمز سے وابستگی اختیار کی اور یوں ان کے پڑھنے والوں کو ان کی تحریری اور ادارتی صلاحیتوں سے آگاہ ہونے کا موقع ملا۔ چار سال سے زائد قید کے اس عرصے میں فیض کے نام ایلس کے خطوط’ڈئیر ہارٹ‘ کے نام سے شائع ہو چکے ہیں۔ فیض کے خطوط کا مجموعۂ ہے ’صلیبیں میرے دریچے میں ‘۔

بعد کے عرصے میں بھی ایلس فیض سیاسی اور سماجی موضوعات پر کئی اخبارات اور جرائد کے لیے مسلسل لکھتی رہیں جن میں انیس سو ستّر کی دہائی میں جریدہ ’ویو پوائنٹ‘ خاص طور پر قابل ذکر ہے کیونکہ جرنل ضیا کے مارشل لا کے دوران اس کی حیثیت رائے عامہ کے ایک بے خوف ترجمان کی تھی۔

سماجی خدمات[ترمیم]

ایلس نے معذور بچوں کی صحت و تعلیم اور سماجی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بانی رکن کے طور پر اہم کردار ادا کیا۔فیض سے ایلس کا تعلق رشتۂ ازدواج کے ساتھ ساتھ فکری اور ذہنی اشتراک عمل کا بھی تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. وصلة : کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی  — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اکتوبر 2019 — ناشر: کتب خانہ کانگریس
  2. وفیات پاکستانی اہل قلم خواتین از خالد مصطفی صفحہ 35