ایلن ٹورین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ایلن ٹورین

ایلن ٹورین (Alain Touraine) بنیادی طور پر ادبی نقاد نہیں ہیں۔ ان کا اصل میدان عمرانیات (سماجیات) ہے اور وہ نظریاتی طور پر آمارکسی ہیں۔ ان کے فکری اور تحقیقی کارنامے “ پس صنعتی معاشرے“ کے مطالعات میں پوشیدہ ہیں۔ جس کو انھوں نے معاشرتی تحریک کی صورت میں قبول کرتے ھوئےاس کی مناجیات اور ہیت کو متعین کیا۔

ایلن ٹورین 3 اگست 1925 کو فرانس کے شہر ہرمن ویل میں پیدا ھوئے۔ ان کے والد میڈیکل ڈاکٹر تھے۔ ان کی تعلیم پیرس کی معروف درسگاہ ایکو نورملے سپیر میں ھوئی۔ یہاں سے انھوں نے 195٠ میں فلسفے کی تعلیم حاصل کی۔ 1952ء میں امریکا کی معروف درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی آگئے جہاں پر انھوں نے امریکی عمرانیات کی تحقیقی مناجیات پر مہارت حاصل کی۔ ان کے تصور ”پس صنعتی معاشرے“ کے پس منظر میں مارکسی اور وطائفی نظریات کا غلبہ تھا۔ جس کی سرحدیں ساختیایات سے آملتی ہیں۔ ایلن ٹوریں نے ساختیاتی حوالے سے خاصا سوچ و بچار کیا۔ مگر ساختیات ان کے فکری مزاج سےہم آہنگ نہ ہوسکی اور وہ ساختیات سے اپنی بیزاری کا اظہار کرتے رہے۔

ان کی بیوی انڈریا ارنس پیزاروں کا تعلق جنوبی امریکا کے ملک چلی سے ہے۔ان کی دو (2) اولادیں ہیں۔ایلن ٹوریں نے فرانس، چلی اور امریکا کے معاشرتی نظام کا تجزیہ کرتے ھوئے ان تینوں نظاموں کو ایک دوسرے سے یکسر مختلف قرار دیا۔ انھوں نے فرانس کو اسلامی دینا کے لیے ایک پل قرار دیتے ھوئے امریکی کے سابق صدر جارج بش کے تصور “جہاد“ اور ”مسیحی خدا“ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے امریکی سیاست کی کلی ناکامی قرار دیا اور انہوں نے یہ بھی کہ دیا کہ ثقافت اور سیاست میں یورپ کا اب کوئی وجود نہیں ہے۔ ان کے خیال میں یورپ قدامت پرستی۔ پروٹسٹنٹ (احتجاجی)، اور کیتھولک خیموں میں تقسیم ھوچکا ہے۔ ایلن ٹورین نے یہ بھی بتایا کہ انسان دوستی اور سیکولر ازم میں بنیادی اور زمین آسمان کا فرق ہے۔ وہ ”حریت فکر“ کے پر جوش حامی ہیں۔۔ ان کی اہم تصانیف یہ ہیں :

  • Touraine, A. (1971). The Post-Industrial Society. Tomorrow's Social History: Classes, Conflicts and Culture in the Programmed Society. New York: Random House.
  • Touraine, A. (1977). The Self-Production of Society. Chicago: The University of Chicago Press.
  • Touraine, A. (1981). The Voice and the Eye: An Analysis of Social Movements. Cambridge: Cambridge University Press.

Dubet, F.، A. Touraine and M. Wieviorka (1982). “A Social Movement: Solidarity”۔ Telos 53 (Fall 1982).

  • Touraine, A. (1995). Critique of Modernity. Oxford: Blackwell.
  • Touraine, A. (1999). "Chapter 9: Society Turns Back Upon Itself." The Blackwell Reader in Contemporary Social Theory. Ed. Anthony Elliott. New York: John Wiley & Sons, Incorporated, 1999.
  • Touraine, A. (2000). Can We Live Together?: Equality and Difference. Stanford, Calif.: Stanford University Press.
  • Touraine, A. (2006). Le Monde des Femmes. Paris: Fayard.
  • Touraine, A. (2007). New Paradigm for Understanding Today's World. Cambridge, Malden: Polity.
  • Touraine, A. (2009). Thinking Differently. Cambridge, Malden: Polity

حوالہ جات[ترمیم]