ایم ایف حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ایم ایف حسین
ایم ایف حسین Museum of Islamic Art, Doha
ایم ایف حسین Museum of Islamic Art, Doha

معلومات شخصیت
پیدائش 17 ستمبر 1915[1][2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
پانڈھراپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 9 جون 2011 (96 سال)[4][1][2][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لندن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات احتشاء عضل قلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی (1915-2010)
قطری (2010–2011)[6]
زوجہ فضیلہ حسین
اولاد شمشاد حسین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعليم Sir J. J. School of Art
پیشہ مصور،فلم ہدایتکار،سیاست دان،فنکار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان انگریزی[7]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
تحریک Progressive Art Group
اعزازات
پدم شری اعزاز (1966)
پدم بھوشن (1973)
پدم وبھوشن (1991)
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDB IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

مشہور ہندوستانی مصور، پورا نام مقبول فدا حسین (17پدائش ستمبر 1915ء؛ انتقال 9 جون 2011ء)، لیکن ایم ایف حسین کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 17 ستمبر 1915 کو ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ کم عمر میں والدہ کا انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد والد کے ساتھ اندور آگئے جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مقبول فدا حسین بھارت کے سب سے مشہور مصوروں میں سے ایک تھے۔ بھارت کے پکاسو کے نام سے بھی مشہور حسین نے 1929 میں رنگوں کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ بمبئی آکر انہوں نے باقاعدہ آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔ 1940 کے عشرے میں ان کا نام آرٹ کی دنیا میں ابھرا۔

آرٹ[ترمیم]

حسین کا شمار اعلیٰ ترین عصری مصوروں میں ہوتا ہے انکی تجریدی (abstract) اور جدید طرز کی مصوری گھوڑے کی شبیہ نمایاں ہے۔وہ اکّثر اپنی تصویروں میں ہندوستان کے اساطیری کرداروں کو استعمال کرتے ہیں اور ایسی ہی انکی بعض تصویریں تنازعہ کا سبب بھی بن چکی ہیں۔

کامیاب مصور[ترمیم]

تجارتی اعتبار سے وہ ہندوستان کے سب سے کامیاب مصور ہیں۔ حسین نے ایک ارب روپے کے عوض ایک سو پینٹنگز بنانے کا ایک معاہدہ طے کیا جسے انڈیا کی تاریخ میں آرٹ کا سب سے بڑا معاہدہ کہا گیا۔

متنازع شخصیت[ترمیم]

مارچ 2006ء میں اترپردیش کے شہر ہردوار کے ایک وکیل اروند شری واستو نے حسین کی ایک پینٹنگ پر اعتراض کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ پینٹنگ میں ہندو دیوی کو برہنہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ حسین کی اسی پینٹنگ کے خلاف کئی علاقوں میں ہندو شدت پسند تنظیموں نے مظاہرے بھی کیے اور ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں پانچ مقدمات ہیں جن میں ہریدوار کے اس کیس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں دو، مہاراشٹر کی عدالت میں ایک اور ایک مقدمہ دہلی کی عدالت میں چلا۔ ایک عدالت نے ان کی جائداد کی ضبطی کا بھی حکم دیا۔ جس کے بعد ان کو خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی ۔ 2010 میں قطر کی حکومت نے ان کوشہریت کی پیش کش کی جو انہوں نے قبول کر لی۔[8]

فلمساز[ترمیم]

انہوں نے ایک آرٹ فلم گج گامنی بھی بنائی جو باکس آفس پر چل نہ سکی۔ اس فلم میں بھارت کی مشہور اداکارہ مادھوری ڈکشت نےکام کیا۔

اعزازات[ترمیم]

1966 میں حکومت ہندوستان نے پدما شری کے اعزاز سے نواز اس کے علاوہ پدما بھوشن کا اعزاز بھی ان کو دیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 3 مئی 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو Cite error: Invalid <ref> tag; name "45a6304d9659611674c59fb521d89649baefa5ea" defined multiple times with different content
  2. ^ 2.0 2.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14969698w — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ Cite error: Invalid <ref> tag; name "566a638bdf70c2a4ac2ba411585136db00a9ced4" defined multiple times with different content
  3. Maqbool Fida Husain
  4. http://web.archive.org/web/20110719093117/http://www.indiablooms.com:80/NewsDetailsPage/newsDetails090611g.php — تمت أرشفته من اصل
  5. ISBN 978-0-19-977378-7
  6. رام، این. (25 فروری 2010). "ایم.ایف. حسین قطری مہمان nationality". The Hindu. http://www.thehindu.com/news/national/article113018.ece. 
  7. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14969698w — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  8. "MF Husain: Indian artist who spent his last five years in self-imposed exile after death threats from Hindu nationalists". دی انڈپنڈنٹ. 18 جون 2011ء. http://www.independent.co.uk/news/obituaries/mf-husain-indian-artist-who-spent-his-last-five-years-in-selfimposed-exile-after-death-threats-from-hindu-nationalists-2299330.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 جون 2011.