ایم ایف حسین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایم ایف حسین
ایم ایف حسین
MFHussain2.jpg
ایم ایف حسین Museum of Islamic Art, Doha
پیدائش مقبول فدا حسین
17 ستمبر 1915 (1915-09-17)
Pandharpur، Maharashtra، بھارت
وفات 9 جون 2011 (عمر 95 سال)
لندن، England، UK
قومیت بھارتی (1915-2010)
قطری (2010–2011)[1]
تعلیم Sir J. J. School of Art
وجہِ شہرت مصوری، مصنف، فلم ساز
کارہائے نمایاں Meenaxi a tale of three cities
Through the eyes of a painter
سیاسی تحریک Progressive Art Group
شریک حیات فضیلہ حسین
اعزازات پدم شری اعزاز (1966)
پدم بھوشن (1973)
پدم وبھوشن (1991)

مشہور ہندوستانی مصور، پورا نام مقبول فدا حسین (17پدائش ستمبر 1915ء؛ انتقال 9 جون 2011ء)، لیکن ایم ایف حسین کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ 17 ستمبر 1915 کو ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ کم عمر میں والدہ کا انتقال ہوگیا۔ جس کے بعد والد کے ساتھ اندور آگئے جہاں انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ مقبول فدا حسین بھارت کے سب سے مشہور مصوروں میں سے ایک تھے۔ بھارت کے پکاسو کے نام سے بھی مشہور حسین نے 1929 میں رنگوں کو اپنا دوست بنا لیا تھا۔ بمبئی آکر انہوں نے باقاعدہ آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔ 1940 کے عشرے میں ان کا نام آرٹ کی دنیا میں ابھرا۔

آرٹ[ترمیم]

حسین کا شمار اعلیٰ ترین عصری مصوروں میں ہوتا ہے انکی تجریدی (abstract) اور جدید طرز کی مصوری گھوڑے کی شبیہ نمایاں ہے۔وہ اکّثر اپنی تصویروں میں ہندوستان کے اساطیری کرداروں کو استعمال کرتے ہیں اور ایسی ہی انکی بعض تصویریں تنازعہ کا سبب بھی بن چکی ہیں۔

کامیاب مصور[ترمیم]

تجارتی اعتبار سے وہ ہندوستان کے سب سے کامیاب مصور ہیں۔ حسین نے ایک ارب روپے کے عوض ایک سو پینٹنگز بنانے کا ایک معاہدہ طے کیا جسے انڈیا کی تاریخ میں آرٹ کا سب سے بڑا معاہدہ کہا گیا۔

متنازع شخصیت[ترمیم]

مارچ 2006ء میں اترپردیش کے شہر ہردوار کے ایک وکیل اروند شری واستو نے حسین کی ایک پینٹنگ پر اعتراض کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ پینٹنگ میں ہندو دیوی کو برہنہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔ حسین کی اسی پینٹنگ کے خلاف کئی علاقوں میں ہندو شدت پسند تنظیموں نے مظاہرے بھی کیے اور ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں پانچ مقدمات ہیں جن میں ہریدوار کے اس کیس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں دو، مہاراشٹر کی عدالت میں ایک اور ایک مقدمہ دہلی کی عدالت میں چلا۔ ایک عدالت نے ان کی جائیداد کی ضبطی کا بھی حکم دیا۔ جس کے بعد ان کو خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنا پڑی ۔ 2010 میں قطر کی حکومت نے ان کوشہریت کی پیش کش کی جو کہ انہوں نے قبول کر لی۔[2]

فلمساز[ترمیم]

انہوں نے ایک آرٹ فلم گج گامنی بھی بنائی جو کہ باکس آفس پر چل نہ سکی۔ اس فلم میں بھارت کی مشہور اداکارہ مادھوری ڈکشت نےکام کیا۔

اعزازات[ترمیم]

1966 میں حکومت ہندوستان نے پدما شری کے اعزاز سے نواز اس کے علاوہ پدما بھوشن کا اعزاز بھی ان کو دیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]